مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ الْخَنْدَقِ وَقُرَيْظَةَ باب: غزوہ خندق اور غزوہ بنو قریظہ کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : جَاءَ الْحَارِثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : نَاصِفْنَا تَمْرَ الْمَدِينَةِ ، وَإِلَّا مَلَأْتُهَا عَلَيْكَ خَيْلًا وَرِجَالًا ، فَقَالَ : " حَتَّى أَسْتَأْمِرَ السُّعُودَ : سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ ، وَسَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ " يَعْنِي : يُشَاوِرُهُمَا ، فَقَالَا : لَا وَاللَّهِ ، مَا أُعْطِينَا الدَّنِيَّةَ مِنْ أَنْفُسِنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَكَيْفَ وَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالْإِسْلَامِ ؟ ! فَرَجَعَ إِلَى الْحَارِثِ فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ : غَدَرْتَ يَا مُحَمَّدُ ، قَالَ : فَقَالَ حَسَّانُ : ¤ يَا حَارِ مَنْ يَغْدِرْ بِذِمَّةِ جَارِهِ مِنْكُمْ فَإِنَّ مُحَمَّدًا لَا يَغْدِرْ إِنْ تَغْدِرُوا فَالْغَدْرُ مِنْ عَادَاتِكُمْ ¤ وَاللُّؤْمُ يَنْبُتُ فِي أُصُولِ السَّخْبَرِ وَأَمَانَةُ النَّهْدِيِّ حِينَ لَقِيتُهَا ¤ مِثْلُ الزُّجَاجَةِ صَدْعُهَا لَا يُجْبَرُ ¤ قَالَ : فَقَالَ الْحَارِثُ : كُفَّ عَنَّا يَا مُحَمَّدُ لِسَانَ حَسَّانَ ، فَلَوْ مُزِجَ بِهِ مَاءُ الْبَحْرِ لَمُزِجَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ . ¤ وَلَفْظُهُ : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : جَاءَ الْحَارِثُ الْغَطَفَانِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، شَاطِرْنَا تَمْرَ الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ : " حَتَّى أَسْتَأْمِرَ السُّعُودَ " ، فَبَعَثَ إِلَى سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، وَسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، وَسَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ ، وَسَعْدِ بْنِ خَيْثَمَةَ ، وَسَعْدِ بْنِ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ : " إِنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ الْعَرَبَ قَدْ رَمَتْكُمْ عَنْ قَوْسٍ وَاحِدَةٍ ، وَإِنَّ الْحَارِثَ سَأَلَكُمْ تُشَاطِرُوهُ تَمْرَ الْمَدِينَةِ ، فَإِنْ أَرَدْتُمْ أَنْ تَدْفَعُوهُ عَامَكُمْ هَذَا فِي أَمْرِكُمْ بَعْدُ ؟ " . فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُوحِيَ مِنَ السَّمَاءِ فَالتَّسُلَيْمُ لِأَمْرِ اللَّهِ ، أَوْ عَنْ رَأْيِكَ وَهَوَاكَ ؟ فَرَأْيُنَا نَتَّبِعُ هَوَاكَ وَرَأْيَكَ ؟ فَإِنْ كُنْتَ إِنَّمَا تُرِيدُ الْإِبْقَاءَ عَلَيْنَا ، فَوَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتَنَا وَإِيَّاهُمْ عَلَى سَوَاءٍ ، مَا يَنَالُونَ مِنَّا تَمْرَةً إِلَّا شِرَاءً أَوْ قِرًى ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُوَ ذَا ، تَسْمَعُونَ مَا يَقُولُونَ ؟ " ، قَالُوا : غَدَرْتَ يَا مُحَمَّدُ ، فَقَالَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ - رِضَى اللَّهِ عَنْهُ : ¤ ¤ يَا حَارِ مَنْ يَغْدِرْ بِذِمَّةِ جَارِهِ مِنْكُمْ فَإِنَّ مُحَمَّدًا لَا يَغْدِرُ ¤ وَأَمَانَةُ الْمُرِّيِّ حِينَ لَقِيتُهَا كَسْرُ الزُّجَاجَةِ صَدْعُهَا لَا يُجْبَرُ ¤ إِنْ تَغْدِرُوا فَالْغَدْرُ مِنْ عَادَاتِكُمْ وَاللُّؤْمُ يَنْبُتُ فِي أُصُولِ السَّخْبَرِ ¤ . ¤ وَرِجَالُ الْبَزَّارِ وَالطَّبَرَانِيِّ فِيهِمَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حارث ( غطفانی ) ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: مدینہ کی کھجوروں کا نصف ہمیں دیں ، ورنہ میں آپ کے خلاف گھڑ سواروں اور پیادہ افراد کو اکٹھا کر لوں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے سعد نامی افراد سے مشورہ کر لینے دو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد ، سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ تھے ، اُن دونوں نے عرض کی : جی نہیں ! اللہ کی قسم ! ہم نے تو زمانہ جاہلیت میں ، اپنی ذات کے حوالے سے کبھی کمتر ہونے کو منظور نہیں کیا تو اس وقت کیسے ہو سکتا ہے ؟ جبکہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کی دولت عطا کر دی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حارث کے پاس واپس تشریف لائے اور اُسے اس بارے میں بتایا ، تو اس نے کہا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ نے عہد شکنی کی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : تو سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں یہ اشعار کہے : ” اے حارث ! پناہ دینے والے کی پناہ کی تم سے زیادہ عہد شکنی اور کون کرتا ہے ، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو عہد شکنی نہیں کرتے ہیں ، اگر تم لوگ عہد شکنی کرتے ہو تو عہد شکنی تمہاری عادتوں کا حصہ ہے ، اور کمینگی ، سخبر کی جڑوں میں اگتی ہے ، اور نہدی کی امانت سے جب میں ملا تو وہ شیشے کی مانند تھی جو ٹوٹ جائے تو اس کو جوڑا نہیں جا سکتا “ ۔ راوی کہتے ہیں ؟ تو حارث نے کہا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! حسان کی زبان ہمارے حوالے سے روک کے رکھیں ! کیونکہ اگر اسے سمندر کے پانی میں ملا دیا جائے ، تو یہ اسے بھی کڑوا کر دے ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان کی روایت کے الفاظ یہ ہیں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حارث غطفانی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! مدینہ کی کھجوروں کا نصف ہمیں دو ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں ، پہلے سعد نامی افراد سے مشورہ کر لوں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سعد بن معاذ ، سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ، سیدنا سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ ، سیدنا سعد بن خیثمہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا سعد بن مسعود رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا اور بلوایا ، آپ نے ارشاد فرمایا : میں یہ بات جانتا ہوں کہ عرب ایک کمان سے تم پر تیر اندازی کریں گے ، حارث نے تم سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ تم مدینہ کی کھجوروں کا نصف اسے دیدو ، اگر تم اس سال یہ ادائیگی اُسے کر دیتے ہو ، تو بعد میں یہ تمہارے معاملے میں بہتر رہے گا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ آسمان کی طرف سے آنے والی وحی ہے ؟ اگر ایسا ہے ، تو ہم اللہ کے حکم کو تسلیم کرتے ہیں ، یا پھر یہ آپ کی ذاتی رائے اور آپ کی خواہش ہے ، تو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں آپ کی خواہش اور آپ کی رائے کی پیروی کرنی چاہیے ، اور اگر آپ کا مقصد ہماری بقاء کا خیال رکھنا ہے ، تو اللہ کی قسم ! اپنے بارے میں اور ان لوگوں کے بارے میں ہم یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہم سے کھجوریں صرف اس صورت میں لے سکتے ہیں ، جب وہ ہم سے خریدیں یا وہ ( ہمارے ) مہمان بنیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ سن رہے ہو ؟ کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں ؟ تو ان لوگوں نے کہا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ نے عہد شکنی کی ہے ۔ تو سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار کہے : ” اے حارث ! پناہ دینے والے کی پناہ کی تم سے زیادہ عہد شکنی اور کون کرتا ہے ، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو عہد شکنی نہیں کرتے ہیں ، اور مری کی امانت سے جب میں ملا تو وہ شیشے کی مانند تھی جو ٹوٹ جائے تو اس کو جوڑا نہیں جا سکتا اگر تم لوگ عہد شکنی کرتے ہو تو عہد شکنی تمہاری عادتوں کا حصہ ہے ، اور کمینگی ، سخبر کی جڑوں میں اگتی ہے “ ۔ امام بزار اور امام طبرانی کے رجال میں ، ایک راوی محمد بن عمرو ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔