مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ الْخَنْدَقِ وَقُرَيْظَةَ باب: غزوہ خندق اور غزوہ بنو قریظہ کا بیان
عَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ ; أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطَّ الْخَنْدَقَ مِنْ أَحْمَرِ السَّبْخَتَيْنِ طَرَفَ بَنِي حَارِثَةَ عَامَ حِزْبِ الْأَحْزَابِ حَتَّى بَلَغَ الْمَذَاحِجَ ، فَقَطَعَ لِكُلِّ عَشَرَةٍ أَرْبَعِينَ ذِرَاعًا ، وَاحْتَجَّ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ فِي سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ، وَكَانَ رَجُلًا قَوِيًّا ، فَقَالَ الْمُهَاجِرُونَ : سَلْمَانُ مِنَّا ، وَقَالَتِ الْأَنْصَارُ : مِنَّا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَلْمَانُ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَحَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں خندق کھودنے کا حکم دیا ‘ خندق میں ایک جگہ ایک چٹان ہمارے سامنے آئی ، جس پر پھاؤڑے کا اثر نہیں ہوتا تھا ‘ لوگوں نے اس کی شکایت نبی اکرم ﷺ سے کی ‘ نبی اکرم ﷺ تشریف لائے ۔ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ‘ روایت میں یہ الفاظ ہیں : آپ نے اپنا کپڑا رکھا اور آپ چٹان پر چڑھ گئے ‘ آپ نے پھاؤڑا پکڑا اور پھر فرمایا : اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، پھر آپ نے ایک ضرب لگائی ‘ تو پتھر ( یعنی چٹان ) کا ایک تہائی حصہ ٹوٹ گیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ اکبر ! مجھے شام کی کنجیاں عطا کر دی گئی ہیں ۔ اللہ کی قسم ! میں اپنی اس جگہ سے وہاں کے سرخ محلات دیکھ رہا ہوں ، پھر آپ نے فرمایا : اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ‘ اور آپ نے دوسری ضرب لگائی ‘ تو اس کا مزید ایک تہائی حصہ ٹوٹ گیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ اکبر ! مجھے فارس کی چابیاں عطا کر دی گئی ہیں ‘ اور میں مختلف شہروں کو ( یا مدائن نامی شہر کو ) دیکھ رہا ہوں ‘ اور میں اپنی اس جگہ سے ‘ وہاں کے سفید محل کو دیکھ رہا ہوں ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، پھر آپ نے ایک اور ضرب لگائی اور بقیہ پتھر کو بھی توڑ دیا ‘ آپ نے فرمایا : اللہ اکبر ! مجھے یمن کی چابیاں عطا کر دی گئی ہیں ‘ اور میں اپنی اس جگہ پر کھڑا ہوا صنعاء کے دروازوں کو دیکھ رہا ہوں ‘‘۔