مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ الْخَنْدَقِ وَقُرَيْظَةَ باب: غزوہ خندق اور غزوہ بنو قریظہ کا بیان
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ الزُّبَيْرُ رَجُلًا أَعْمَى فَقَالَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِنَّ الزُّبَيْرَ مَنَّ عَلِيَّ يَوْمَ بُعَاثٍ فَأَعْتَقَنِي ، فَهَبْهُ لِي أَجْزِهِ ، فَقَالَ : " هُوَ لَكَ " . ¤ فَقَالَ لِلزُّبَيْرِ : هَلْ تَعْرِفُنِي ؟ قَالَ : نَعَمْ ؛ أَنْتَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ قَالَ : إِنِّي أَمُنَّ عَلَيْكَ كَمَا مَنَنْتَ عَلِيَّ يَوْمَ بُعَاثٍ قَالَ : هَلْ تَنْفَعُنِي ؟ أَيْنَ أَهْلِي ؟ فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : هَبْ لِي أَهْلَهُ قَالَ : فَوَهَبَ لَهُ أَهْلَهُ ، فَأَتَاهُ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ رَدَّ لَهُ أَهْلَهُ قَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ، مَا يَنْفَعُنِي أَنْ نَعِيشَ أَجْسَادًا ؟ أَيْنَ الْمَالُ ؟ فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : هَبْ لِي مَالَهُ قَالَ : " وَلَكَ مَالُهُ " . قَالَ : فَرَجَعَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ رَدَّ عَلَيْكَ مَالَكَ وَقَدْ أَرَادَ اللَّهُ تَعَالَى بِكَ خَيْرًا . ¤ قَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ، مَا فَعَلَ حُيَيُّ بْنُ أَخْطَبَ سَيِّدُ الْحَاضِرِ وَالْبَادِ ؟ قَالَ : قَدْ قُتِلَ قَالَ : يَا ابْنَ أَخِي مَا فَعَلَ زَيْدُ بْنُ رُوطَا حَامِيَةُ الْيَهُودِ ؟ قَالَ : قَدْ قُتِلَ ، قَالَ : مَا فَعَلَ كَعْبُ بُنُ أَشْطَا الَّذِي بَطَلَ عَذَارَى الْحَيِّ تَنْغَمِزُ مِنْ حَشْيِهِ ؟ قَالَ : قَدْ قُتِلَ قَالَ : مَا فَعَلَ الْمُحَمَّسَانِ ؟ قَالَ : هُمَا كَأَمْسِ الذَّاهِبِ قَالَ : فَمَا بَيْنِي وَبَيْنَ لِقَاءِ الْأَحِبَّةِ إِلَّا كَإِفْرَاغِ الدَّلْوِ ، أَسْأَلُكَ بِيَدِي عِنْدَكَ إِلَّا أَلْحَقْتَنِي بِالْقَوْمِ قَالَ : فَقَتَلَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : زبیر نامی ایک نابینا شخص تھا ، ثابت بن قیس بن شماس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: زبیر نے جنگ بعاث کے موقع پر مجھ پر ایک احسان کیا تھا اس نے مجھے آزاد کر دیا تھا ، تو آپ وہ مجھے ہبہ کر دیں ، تاکہ میں اسے جزا دے دوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ تمہارا ہوا ، سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے زبیر سے دریافت کیا : کیا تم نے مجھے پہچانا ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ۔ تم ثابت بن قیس ہو ، سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تم پر احسان کرنا چاہتا ہوں جس طرح تم نے جنگ بعاث کے موقع پر مجھ پر احسان کیا تھا اس نے کہا: کیا تم مجھے فائدہ دینا چاہتے ہو ؟ میرے گھر والے کہاں ہیں ؟ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ، اور عرض کی : اُس کے گھر والے بھی مجھے ہبہ کر دیں ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے گھر والے انہیں ہبہ کر دیے ، وہ زبیر نامی شخص کے پاس آئے اور اسے اس بارے میں بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کے گھر والے واپس کر دیے ہیں ، زبیر نے کہا: اے میرے بھتیجے ! ہمیں کیا فائدہ ہو گا کہ اگر ہمارے جسم زندہ رہیں ، مال کہاں جائے گا ؟ تو سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ، اور عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کا مال بھی مجھے دیدیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کا مال بھی تمہارا ہوا ، پھر سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ زبیر نامی شخص کے پاس واپس آئے اور بولے : اللہ کے رسول نے تمہارا مال تمہیں واپس کر دیا ہے اللہ تعالیٰ نے تمہارے بارے میں بھلائی کا ارادہ کیا ہے ، زبیر نے کہا: اے میرے بھتیجے ! شہریوں اور دیہاتیوں کے سردار حیی بن اخطب کا کیا بنا ؟ انہوں نے بتایا : وہ قتل ہو گیا ہے ، اس نے دریافت کیا : اے میرے بھتیجے ! زید بن روطا کا کیا بنا ؟ جو یہودیوں کا حامی تھا ، انہوں نے بتایا : وہ بھی قتل ہو گیا ، ہے اس نے دریافت کیا : کعب بن اشطا کا کیا بنا ؟ انہوں نے بتایا : وہ بھی قتل ہو گیا ہے اس نے دریافت کیا : مہمسان کا کیا بنا ؟ انہوں نے بتایا : وہ دونوں گزرے ہوئے کل کی مانند ہیں ، تو اس نے کہا: پھر میرے اور ( میرے ) دوستوں کے ساتھ ملاقات کے درمیان ، صرف اتنا فرق ہے کہ جتنا ڈول ڈالنے کا ہوتا ہے ، میں تم سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ تم مجھ پر یہ مہربانی کرو کہ مجھے ان لوگوں کے ساتھ ملا دو ! تو سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے انہیں قتل کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔