حدیث نمبر: 10139
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْخَنْدَقِ فَخَنْدَقَ عَلَى الْمَدِينَةِ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا وَجَدْنَا صَفَاةً لَا نَسْتَطِيعُ حَفْرَهَا ، فَقَامَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقُمْنَا مَعَهُ ، فَلَمَّا أَتَى أَخَذَ الْمِعْوَلَ فَضَرَبَ بِهِ ضَرْبَةً وَكَبَّرَ ، فَسَمِعْتُ هَزَّةً لَمْ أَسْمَعْ مِثْلَهَا قَطُّ ، فَقَالَ : " فُتِحَتْ فَارِسُ " ، ثُمَّ ضَرَبَ أُخْرَى وَكَبَّرَ ، فَسَمِعْتُ هَزَّةً لَمْ أَسْمَعْ مِثْلَهَا قَطُّ ، فَقَالَ : " فُتِحَتِ الرُّومُ " ، ثُمَّ ضَرَبَ أُخْرَى وَكَبَّرَ ، فَسَمِعْتُ هَزَّةً لَمْ أَسْمَعْ مِثْلَهَا قَطُّ ، فَقَالَ : " جَاءَ اللَّهُ بِحِمْيَرَ أَعْوَانًا وَأَنْصَارًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کھودنے کا حکم دیا ، تو مدینہ کے اردگرد خندق کھود دی گئی ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے سامنے ایک چٹان آ گئی ہے ، جسے ہم کھودنے ( یعنی توڑنے ) کی استطاعت نہیں رکھتے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھے ، آپ کے ساتھ ہم بھی اُٹھ گئے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ نے پھاؤڑا پکڑا ، تو اس کے ذریعے ضرب لگائی اور تکبیر کہی ، تو میں نے ایک ایسی آواز سنی کہ میں نے اُس طرح کی آواز کبھی نہیں سنی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : فارس فتح ہو گیا ، پھر آپ نے تکبیر کہہ کر ایک اور ضرب لگائی ، تو میں نے ایک آواز سنی ، میں نے اُس طرح کی آواز کبھی نہیں سنی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : روم فتح ہو گیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہہ کر ایک اور ضرب لگائی ، تو میں نے ایک آواز سنی ، میں نے اس طرح کی آواز کبھی نہیں سنی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جمیر ( قبیلے کے لوگ ) مددگار اور ساتھی بن کر آ گئے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک میں ، ایک راوی حیی بن عبداللہ ہے ، جسے ابن معین نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10139
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن