حدیث نمبر: 10150
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : بَعَثَنِي خَالِي عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ لِأَبِيهِ بِلِحَافٍ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاسْتَأْذَنْتُهُ وَهُوَ بِالْخَنْدَقِ ، فَأَذِنَ لِي وَقَالَ : " مَنْ لَقِيتَ فَقُلْ لَهُمْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَرْجِعُوا " . ¤ وَكَانَ ذَلِكَ فِي بَرْدٍ شَدِيدٍ ، فَخَرَجْتُ وَلَقِيتُ النَّاسَ فَقُلْتُ لَهُمْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَرْجِعُوا ، قَالَ : فَلَا وَاللَّهِ مَا عَطَفَ عَلِيَّ مِنْهُمُ اثْنَانِ أَوْ وَاحِدٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میرے ماموں سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے ، اپنے والد کے لئے ایک لحاف بھیجا ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، میں نے آپ سے اجازت مانگی ، آپ اس وقت خندق میں موجود تھے ، آپ نے مجھے اجازت دیدی ، آپ نے ارشاد فرمایا : تمہاری جس سے ملاقات ہو ، تم اُس سے یہ کہنا : اللہ کے رسول تمہیں یہ حکم دے رہے ہیں کہ تم لوگ واپس آ جاؤ ۔ راوی کہتے ہیں : یہ شدید سردی کی بات ہے ، میں نکلا ، میری لوگوں سے بات ہوئی ، میں نے اُن سے کہا: اللہ کے رسول تمہیں یہ حکم دے رہے ہیں کہ تم لوگ واپس چلے جاؤ ۔ راوی کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! ان میں سے دو یا ایک فرد نے بھی میری بات کا انکار نہیں کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10150
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13369)»