مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ الْخَنْدَقِ وَقُرَيْظَةَ باب: غزوہ خندق اور غزوہ بنو قریظہ کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ خَرَجَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ عَلَى حِمَارٍ ، وَمَعَهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - عَلَى بَغْلَةٍ بَيْضَاءَ عَلَيْهَا قَطِيفَةٌ مِنْ إِسْتَبْرَقٍ خَمْلُهَا اللُّؤْلُؤُ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، أَمَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، لَا أَنْزِلُ عَنْهَا حَتَّى تُفْتَحَ لَكَ ، وَلَأَرُضْهَا كَمَا تُرَضُ الْبَيْضَةُ عَلَى الصَّفْوَانِ . ¤ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَلَمْ يَرْجِعْ حَتَّى فُتِحَتْ عَلَيْهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ الْمِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بنو قریظہ کی طرف روانہ ہوئے ، تو آپ ایک دراز گوش ( یعنی گدھے ) پر سوار ہو کر نکلے ، آپ کے ساتھ سیدنا جبرائیل علیہ السلام ایک سفید خچر پر سوار تھے اور ان کے نیچے استبرق کا بنا ہوا بچھونا تھا ، جس میں موتی لگے ہوئے تھے ۔ انہوں نے کہا: اے سیدنا محمد ! اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، میں وہاں سے اُس وقت تک واپس نہیں جاؤں گا ، جب تک وہ آپ کے لئے فتح نہیں ہو جاتا ، اور میں انہیں اس طرح کچل دوں گا جس طرح انڈے کو پتھر پر پیس دیا جاتا ہے ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : تو وہ اس وقت تک واپس نہیں گئے ، جب تک وہ علاقہ فتح نہیں ہو گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔