مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ الْخَنْدَقِ وَقُرَيْظَةَ باب: غزوہ خندق اور غزوہ بنو قریظہ کا بیان
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ بِالْخَنْدَقِ ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَعَاهَدُ ثَغْرَةً مِنَ الْجَبَلِ يَخَافُ مِنْهَا ، فَيَأْتِي فَيَضْطَجِعُ فِي حِجْرِي ثُمَّ يَقُومُ فَيَتَسَمَّعُ ، فَسَمِعَ حِسَّ إِنْسَانٍ عَلَيْهِ الْحَدِيدُ ، فَانْسَلَّ فِي الْجَبَلِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ هَذَا ؟ " . ¤ قَالَ : أَنَا سَعْدٌ ، جِئْتُكَ لِتَأْمُرَنِي بِأَمْرِكَ ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَبِيتَ فِي تِلْكَ الثَّغْرَةِ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حِجْرِي حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : لَا أَنْسَاهَا لِسَعْدٍ . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَبِيبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھی ، آپ اس وقت خندق میں موجود تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہاڑ کے شگاف کی دیکھ بھال کر رہے تھے ، آپ کو اس کے حوالے سے اندیشہ تھا ، آپ تشریف لائے اور میری گود میں سر رکھ کے لیٹ گئے پھر آپ اُٹھے اور سن گن لینے لگے ، آپ نے کسی انسان کی آہٹ سنی ، جس نے لوہے کا لباس پہنا ہوا تھا ، اور پہاڑ کی طرف آ رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کون ہے ؟ اس نے جواب دیا : میں سعد ہوں ، میں اس لئے آیا ہوں ، تاکہ آپ مجھے کوئی حکم دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ اس شگاف میں رات بسر کریں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری گود میں سو گئے ، یہاں تک کہ میں نے آپ کے خراٹوں کی آواز سنی ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : اس کے بعد میں سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے لئے ( دعا کرنا ) کبھی نہیں بھولی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس روایت کا ایک حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عبداللہ بن شبیب کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔