باب: اللہ عزوجل کی، یا اللہ عزوجل کے ناموں میں سے کسی نام کی قسم کھانے کا بیان۔
حدیث 19807–19815
باب: اللہ عزوجل کے ناموں کا بیان، جس کی ثناء بلند ہے۔
حدیث 19816–19819
باب: اللہ عزوجل کے سوا کسی اور کی قسم کھانے کی کراہت کا بیان۔
حدیث 19820–19831
باب: اس شخص کا بیان جس نے اللہ کے سوا کسی اور کی قسم کھائی، پھر اسے توڑ دیا، یا اسلام سے براءت کی، یا اسلام کے علاوہ کسی اور دین کی، یا امانت کی قسم کھائی۔
حدیث 19832–19838
باب: اس شخص کا بیان جس نے اللہ کی قسم کھانے کو مکروہ سمجھا سوائے ان کاموں کے جن میں اللہ کی اطاعت ہو۔
حدیث 19839–19840
باب: اس شخص کا بیان جس نے کوئی قسم کھائی پھر اس کے خلاف کرنے میں بہتری دیکھی، تو وہ بہتر کام کر لے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے۔
حدیث 19841–19856
باب: اس شخص کے شبہے کا بیان جس کا یہ دعویٰ ہے کہ جب قسم توڑنا باعثِ طاعت ہو تو قسم کا کوئی کفارہ نہیں۔
حدیث 19857–19864
باب: قسم پوری کرنے کا بیان جب اسے پورا کرنا طاعت ہو، یا اسے توڑنا اسے پورا کرنے سے بہتر نہ ہو۔
حدیث 19865–19867
باب: یمینِ غموس (جھوٹی قسم کھا کر دھوکہ دینے) کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث 19868–19883
باب: قسم کھانے والے کے یہ کہنے کے متعلق کیا مروی ہے: ”میں قسم کھاتا ہوں“ یا ”میں نے قسم کھائی“۔
حدیث 19884–19887
باب: قسم دینے والے کی قسم پوری کرنے کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث 19888–19892
باب: اس شخص کا بیان جس نے کہا: ”اللہ کی بقا کی قسم“ (لعمر اللہ)۔
حدیث 19893–19893
باب: اللہ تعالیٰ کی صفات مثلاً عزت، قدرت، جلال، کبریائی، عظمت، کلام، سماعت اور اس جیسی دیگر صفات کی قسم کھانے کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث 19894–19905
باب: اس شخص کا بیان جس نے یوں کہا: ”اللہ! میں ضرور ایسا کروں گا، یا میں ایسا نہیں کروں گا“ اور اس سے اس کی نیت قسم کی ہو۔
حدیث 19906–19907
باب: اس شخص کا بیان جس نے کہا: ”وايم الله“ (اللہ کی قسم)۔
حدیث 19908–19909
باب: اس شخص کا بیان جس نے کہا: ”مجھ پر اللہ کا عہد ہے“ اور اس سے اس کا ارادہ قسم کا ہو۔
حدیث 19910–19911
باب: اس شخص کا بیان جس نے کہا: ”مجھ پر نذر ہے“ اور کسی چیز کا نام نہ لیا (اسے متعین نہ کیا)۔
حدیث 19912–19913
باب: قسم میں استثناء (ان شاء اللہ وغیرہ کہنے) کا بیان۔
حدیث 19914–19923
باب: استثناء کو قسم کے ساتھ ملانے کا بیان۔
حدیث 19924–19926
باب: قسم کھانے والے کا اپنی قسم اور استثناء کے درمیان آواز ٹوٹنے یا سانس لینے کی وجہ سے تھوڑی دیر خاموش رہنے کا بیان۔
حدیث 19927–19931
باب: قسم کھانے والے کا اپنے دل میں استثناء کرنے کا بیان۔
حدیث 19932–19932
باب: لغو (بے ارادہ) قسم کا بیان۔
حدیث 19933–19940
باب: اس شخص کا بیان جس نے کسی چیز پر یہ سمجھتے ہوئے قسم کھائی کہ وہ سچا ہے، پھر اسے جھوٹ پایا۔
حدیث 19941–19945
باب: قسم توڑنے کے بعد کفارہ ادا کرنے کا بیان۔
حدیث 19946–19949
باب: قسم توڑنے سے پہلے کفارہ ادا کرنے کا بیان۔
حدیث 19950–19967
باب: قسم کے کفارے میں کھانا کھلانے کا بیان۔
حدیث 19968–19978
باب: اس شخص کا بیان جس نے ایک ہی کام نہ کرنے پر بار بار قسم کھائی۔
حدیث 19979–19981
باب: کفارے میں کپڑا پہنانے کے حوالے سے کیا چیز کفایت کرتی ہے، اور یہ ہر وہ چیز ہے جس پر کپڑے کا اطلاق ہوتا ہو، خواہ وہ پگڑی ہو، شلوار ہو، تہہ بند ہو، اوڑھنی ہو، یا ان کے علاوہ کچھ اور ہو۔
حدیث 19982–19983
باب: کفارات میں غلام آزاد کرنے کے حوالے سے کیا جائز ہے اس کا بیان۔
حدیث 19984–19986
باب: ولد الزنا (زنا سے پیدا ہونے والے بچے) کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث 19987–19997
باب: ولد الزنا کو آزاد کرنے کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث 19998–20005
باب: کھانا کھلانے، کپڑا پہنانے اور غلام آزاد کرنے کے درمیان اختیار کا بیان، پس جو ان کی طاقت نہ رکھے وہ تین دن کے روزے رکھے۔
حدیث 20006–20007
باب: کفارے کے روزوں میں تسلسل (لگاتار رکھنے) کا بیان۔
حدیث 20008–20012
باب: قسموں کا جامع باب، اس شخص کے بیان میں جس نے بھول کر یا مجبور کیے جانے پر قسم توڑی۔
حدیث 20013–20015
باب: اس شخص کے متعلق کیا مروی ہے جس نے قسم کھائی کہ وہ اس کا حق کچھ مدت یا کچھ زمانے تک ادا کر دے گا، اور اس دلیل کا بیان کہ اس کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں ہے۔
حدیث 20016–20022
باب: جو چیز قسم ٹوٹنے کے قریب ہو وہ قسم ٹوٹنا شمار نہیں ہوتی، ہمارے بعض اصحاب نے اس میں کن دلائل سے استدلال کیا ہے۔
حدیث 20023–20023
باب: جس شخص نے قسم کھائی کہ وہ سالن کے ساتھ روٹی نہیں کھائے گا، پھر اس نے اسے کسی ایسی چیز کے ساتھ کھا لیا جو عام طور پر سالن سمجھی جاتی ہے، خواہ وہ ڈبو کر کھانے والی ہو یا نہ ہو۔
حدیث 20024–20026
باب: جس شخص نے قسم کھائی کہ وہ کسی آدمی سے کلام نہیں کرے گا، پھر اس نے اس کی طرف کوئی قاصد بھیج دیا یا اسے کوئی خط لکھ دیا۔
حدیث 20027–20028
باب: جس شخص نے قسم کھائی کہ اس کے پاس کوئی مال نہیں، حالانکہ اس کے پاس سامان، جائیداد یا جانور موجود ہو۔
حدیث 20029–20029
باب: جس شخص نے قسم کھائی کہ وہ اپنے غلام کو سو کوڑے مارے گا، پھر اس نے ان (کوڑوں) کو جمع کیا اور ایک ہی بار مار دیا تو اس کی قسم نہیں ٹوٹے گی، اللہ عزوجل کے اس فرمان سے استدلال کرتے ہوئے: ”اور اپنے ہاتھ میں سینکوں کی ایک مٹھی لو اور اس سے مارو اور قسم نہ توڑو“۔
حدیث 20030–20031
باب: اس دلیل کا بیان کہ وہ معمولی سی مار کے ذریعے بھی اپنی قسم سے بری ہو جائے گا۔
حدیث 20032–20032
باب: ان معاملات میں تاویل (کسی اور معنی کی نیت) کر کے قسم کھانے کا بیان جو اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ہوں۔
حدیث 20033–20033
باب: عدالتی فیصلوں میں قسم لینے والے (قاضی) کی نیت کے مطابق قسم کا اعتبار ہونے کا بیان۔
حدیث 20034–20035
باب: اس شخص کا بیان جس نے قسم کے معنوں میں اپنے مال میں سے کسی چیز کو صدقہ، یا اللہ کی راہ میں، یا کعبہ کے غلاف کے لیے مقرر کر دیا۔
حدیث 20036–20049
باب: اس نذر کے بارے میں اختلاف کا بیان جسے قسم کے طور پر ادا کیا جائے۔
حدیث 20050–20055
باب: اس شخص کا بیان جس نے اللہ کی نافرمانی کے کام کی نذر مانی۔
حدیث 20056–20058
باب: اس شخص کا بیان جس نے اس (نافرمانی کی نذر) میں قسم کا کفارہ مقرر کیا ہے۔
حدیث 20059–20078
باب: اس شخص کے متعلق کیا مروی ہے جس نے اپنے بیٹے یا خود اپنے آپ کو ذبح کرنے کی نذر مانی۔
حدیث 20079–20086
باب: نذر پوری کرنے کا بیان۔
حدیث 20087–20088
اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔