کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کے شبہے کا بیان جس کا یہ دعویٰ ہے کہ جب قسم توڑنا باعثِ طاعت ہو تو قسم کا کوئی کفارہ نہیں۔
حدیث نمبر: 19857
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ الْإِسْفَرَايِينِيُّ بِهَا، أنبأ أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ نَصْرِ الْحَذَّاءُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا حَبِيبٌ هُوَ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَخَوَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ بَيْنَهُمَا مِيرَاثٌ، فَسَأَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ الْقِسْمَةَ، فَقَالَ: لَا لَئِنْ عُدْتَ تَسْأَلُنِي الْقِسْمَةَ لَمْ أُكَلِّمْكَ أَبَدًا، وَكُلُّ مَالٍ لِي فِي رِتَاجِ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّ الْكَعْبَةَ لَغَنِيَّةٌ عَنْ مَالِكَ فَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ، وَكَلِّمْ أَخَاكَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَمِينَ، وَلَا نَذْرَ فِيمَا يُسْخِطُ الرَّبَّ، وَلَا فِي قَطِيعَةِ الرَّحِمِ، وَلَا فِيمَا لَا يُمْلَكُ "، فَتْوَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْكَفَّارَةِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ بِالْخَبَرِ لَا يَمِينَ يُؤْمَرُ بِالْمُقَامِ عَلَيْهَا، وَالْمُحَافَظَةِ عَلَى الْبِرِّ فِيهَا إِذَا كَانَتْ فِي مَعْصِيَةٍ لَا أَنَّ الْكَفَّارَةَ لَا تَجِبُ بِالْحِنْثِ فِيهَا وَهَذَا هُوَ الْمُرَادُ أَيْضًا بِمَا.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دو انصاری بھائیوں کے درمیان میراث تھی، ایک نے دوسرے سے وراثت کی تقسیم کا سوال کر دیا تو دوسرا کہنے لگا: اگر تو نے آئندہ تقسیم کا سوال کیا میں تیرے ساتھ کبھی کلام نہ کروں گا، بلکہ سارا مال کعبہ کی تعمیر میں لگا دوں گا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کعبہ تیرے مال سے غنی ہے۔ اپنی قسم کا کفارہ دے اور اپنے بھائی سے کلام کر کیونکہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”قسم یا نذر اللہ کی ناراضگی میں نہیں ہے، قطع رحمی اور جس کا مالک نہیں اس میں بھی قسم نہیں ہے۔“
فتویٰ: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا فتویٰ یہ ہے ایسی قسم جو اللہ کی اطاعت کی خاطر توڑی جائے اس میں کفارہ نہیں ہے۔
فتویٰ: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا فتویٰ یہ ہے ایسی قسم جو اللہ کی اطاعت کی خاطر توڑی جائے اس میں کفارہ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 19858
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ طَلَّقَ مَا لَا يَمْلِكُ، فَلَا طَلَاقَ لَهُ، وَمَنْ أَعْتَقَ مَا لَا يَمْلِكُ، فَلَا عَتَاقَةَ لَهُ، وَمَنْ نَذَرَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ فَلَا نَذْرَ لَهُ، وَمَنْ حَلَفَ عَلَى مَعْصِيَةِ اللهِ، فَلَا يَمِينَ لَهُ، وَمَنْ حَلَفَ عَلَى قَطِيعَةِ رَحِمٍ، فَلَا يَمِينَ لَهُ "، وَقَدْ رُوِيَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ زِيَادَةٌ تُخَالِفُ الرِّوَايَاتِ الصَّحِيحَةِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس نے ایسی طلاق دی جس کا وہ مالک نہیں تو اس کی طلاق نہیں، جس نے وہ غلام آزاد کیا جس کا وہ مالک نہیں تو اس کی آزادی نہیں، جس نے ایسی نذر مانی جس کا وہ مالک نہیں تو اس کے ذمہ نذر پوری کرنا نہیں ہے، جس نے اللہ کی نافرمانی کی قسم اٹھائی اس کی قسم نہیں اور جس نے قطع رحمی پر قسم اٹھائی اس کی قسم نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 19859
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْمُنْذِرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْجَارُودِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ الْأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا نَذْرَ، وَلَا يَمِينَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ، وَلَا فِي مَعْصِيَةِ اللهِ، وَلَا فِي قَطِيعَةِ رَحِمِهِ، وَمَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَدَعْهَا، وَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، فَإِنَّ تَرْكَهَا كَفَّارَتُهَا "، وَرُوِي ذَلِكَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ أَضْعَفَ مِنْ هَذَا.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اس چیز میں نذر اور قسم نہیں جس کا ابن آدم مالک نہیں ہے، اور اللہ کی نافرمانی اور قطع رحمی میں بھی کوئی قسم نہیں، اور جو کوئی قسم اٹھائے اور دوسرا کام اس سے بہتر ہو تو قسم کو چھوڑ دے، قسم کا چھوڑنا ہی اس کا کفارہ ہے۔“
حدیث نمبر: 19860
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا حَامِدُ بْنُ شُعَيْبٍ، ثنا سُرَيْجٌ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَأَتَى الَّذِي هُوَ خَيْرٌ فَهُوَ كَفَّارَتُهُ "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے قسم اٹھائی اور وہ اس سے بہتر کام دیکھتا ہے تو اس کا بہتر کام کرلینا ہی اس کی قسم کا کفارہ ہے۔“
حدیث نمبر: 19861
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ: الْأَحَادِيثُ كُلُّهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ "، إِلَّا مَا لَا يُعْبَأُ بِهِ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ قُلْتُ لِأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ: رَوَى يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللهِ فَقَالَ: تَرَكَهُ بَعْدَ ذَلِكَ وَكَانَ لِذَلِكَ أَهْلًا قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: أَحَادِيثُهُ مَنَاكِيرُ وَأَبُوهُ لَا يُعْرَفُ.
حافظ ثناء اللہ
ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تمام احادیث جو نبی ﷺ سے ہیں کہ ”وہ اپنی قسم کا کفارہ دے مگر وہ جو اس کی پرواہ نہیں کرتا۔“
حدیث نمبر: 19862
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: نَزَلَ عَلَيْنَا أَضْيَافٌ لَنَا قَالَ: وَكَانَ أَبِي يَتَحَدَّثُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ، قَالَ: فَانْطَلَقَ، وَقَالَ افْرُغْ مِنْ أَضْيَافِكَ، قَالَ: فَلَمَّا أَمْسَيْتُ جِئْتُ بِقِرَاهُمْ، قَالَ: فَأَبَوْا، فَقَالُوا: حَتَّى يَجِيءَ أَبُو مَنْزِلِنَا، فَيَطْعَمُ مَعَنَا، قَالَ: فَقُلْتُ: إِنَّهُ رَجُلٌ حَدِيدٌ، وَإِنَّكُمْ إِنْ لَمْ تَفْعَلُوا خِفْتُ أَنْ يَمَسَّنِي مِنْهُ أَذًى، قَالَ: فَأَبَوْا، فَلَمَّا جَاءَ لَمْ يَبْدَأْ بِشَيْءٍ، فَقَالَ: أَفَرَغْتُمْ مِنْ أَضْيَافِكُمْ، قَالُوا: لَا وَاللهِ، مَا فَرَغْنَا، قَالَ: أَلَمْ آمُرْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ؟ قَالَ: فَتَنَحَّيْتُ، فَقَالَ: يَا غُنْثَرُ أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ إِنْ كُنْتَ تَسْمَعُ صَوْتِي أَلَّا أَجَبْتَ "، قَالَ: فَجِئْتُ، قُلْتُ: وَاللهِ مَا لِي ذَنْبٌ، هَؤُلَاءِ أَضْيَافُكَ، فَسَلْهُمْ، قَدْ أَتَيْتُهُمْ بِقِرَاهُمْ، فَأَبَوْا أَنْ يَطْعَمُوا حَتَّى تَجِيءَ، قَالَ فَقَالَ: مَا لَكُمْ لَا تَقْبَلُونَ عَنَّا قِرَاكُمْ؟ فَوَاللهِ لَا أَطْعَمُهُ اللَّيْلَةَ، قَالَ: فَقَالُوا: وَاللهِ لَا نَطْعَمُهُ حَتَّى تَطْعَمَهُ، قَالَ: فَقَالَ: كَالشَّرِّ مُنْذُ اللَّيْلَةِ، لَا تَقْبَلُونَ عَنَّا قِرَاكُمْ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: أَمَّا الْأُولَى، فَمِنَ الشَّيْطَانِ، هَلُمُّوا قِرَاكُمْ، فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ بَرُّوا وَحَنِثْتُ،، قَالَ: فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ: " بَلْ أَنْتَ أَبَرُّهُمْ وَأَخْيَرُهُمْ "، قَالَ: وَلَمْ يَبْلُغْنِي كَفَّارَةٌ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى. وَقَوْلُ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَمَّا الْأُولَى فَمِنَ الشَّيْطَانِ، دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْيَمِينَ عَلَى تَرْكِ الطَّعَامِ مَكْرُوهَةٌ، وَإِنَّمَا لَمْ يَأْمُرْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْكَفَّارَةِ، إِنْ كَانَ لَمْ يَأْمُرْهُ بِهَا، لَعِلْمِهِ بِمَعْرِفَتِهِ بِوُجُوْبِهَا، وَيُحْتَمَلُ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ قَبْلَ نُزُولِ الْكَفَّارَةِ، وَالْأَوَّلُ أَشْبَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہمارے ہاں مہمان آئے اور میرے والد رات کو نبی ﷺ سے بات چیت کرتے تھے، جاتے ہوئے مجھ سے کہنے لگے: مہمانوں سے فارغ ہو جانا (یعنی کھانا کھلانا)۔ جب شام کے وقت میں نے کھانا پیش کیا تو انہوں نے کھانے سے انکار کر دیا اور کہنے لگے: آپ کے والد ہمارے ساتھ کھائیں گے تو ہم کھانا کھائیں گے۔ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: وہ تیز مزاج والے ہیں، اگر تم نے کھانا نہ کھایا تو مجھے تکلیف کا اندیشہ ہے، لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ جب والد صاحب واپس آئے تو سب سے پہلے پوچھا: مہمانوں سے فارغ ہو گئے (یعنی کھانا کھلایا)؟ انہوں نے کہا: ہم فارغ نہیں ہوئے۔ انہوں نے فرمایا: کیا میں نے عبدالرحمن کو حکم نہیں دیا تھا؟ وہ فرماتے ہیں: میں چھپ گیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قسم دے کر آواز دی: اگر سنتے ہو تو مجھے جواب دو۔ وہ کہتے ہیں: میں آیا اور کہا: میرا قصور نہیں، آپ اپنے مہمانوں سے پوچھ لیں۔ میں نے کھانا پیش کیا، لیکن انہوں نے یہ کہہ کر کھانا واپس کر دیا کہ آپ ان کے ساتھ مل کر کھائیں گے، تب وہ کھائیں گے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تم نے ہماری مہمانی کو قبول کیوں نہ کیا۔ اللہ کی قسم! میں آج رات کھانا نہ کھاؤں گا۔ وہ کہنے لگے: اللہ کی قسم! ہم بھی نہیں کھائیں گے، جب تک آپ نہ کھائیں گے۔ پھر فرماتے ہیں: یہ بدترین چیز ہے کہ تم ہماری جانب سے اپنی مہمانی کو قبول نہ کرو۔ پھر فرمایا: پہلی بات شیطان کی جانب سے تھی۔ کھانا لاؤ بھئی۔ جب صبح کے وقت نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ انہوں نے نیکی کی اور میں نے قسم توڑ دی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو ان سے زیادہ نیک اور پسندیدہ ہے“ فرماتے ہیں: اس میں مجھے کفارہ نہیں پہنچا۔
قول ابوبکر: 1۔ کھانے کو چھوڑنے پر قسم کھانا مکروہ ہے، لیکن نبی ﷺ نے اس کے کفارے کا حکم نہیں دیا۔ 2۔ ممکن ہے یہ کفارے کے نازل ہونے سے پہلے کی بات ہو، لیکن پہلی بات زیادہ قرینِ قیاس ہے۔
قول ابوبکر: 1۔ کھانے کو چھوڑنے پر قسم کھانا مکروہ ہے، لیکن نبی ﷺ نے اس کے کفارے کا حکم نہیں دیا۔ 2۔ ممکن ہے یہ کفارے کے نازل ہونے سے پہلے کی بات ہو، لیکن پہلی بات زیادہ قرینِ قیاس ہے۔
حدیث نمبر: 19863
فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِيمٍ ⦗٦١⦘ الْمَرْوَزِيُّ، أنبأ أَبُو الْمُوَجِّهِ، أنبأ عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَمْ يَحْنَثْ فِي يَمِينٍ قَطُّ، حَتَّى أَنْزَلَ اللهُ كَفَّارَةَ الْيَمِينِ، فَقَالَ: " لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ، فَرَأَيْتُ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَكَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُقَاتِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب بھی قسم اٹھائی تو اللہ نے قسم کے کفارے کے بارے میں حکم نازل کر دیا، فرماتے ہیں: میں قسم اٹھاتا ہوں، پھر اگر کوئی دوسرا کام اس سے بہتر ہوتا ہے تو میں اپنی قسم کا کفارہ دے کر وہ بہتر کام کر لیتا ہوں۔
حدیث نمبر: 19864
وَأَخْبَرَنَا الشَّيْخُ أَبُو الْفَتْحِ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ فِرَاسٍ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ صُبَيْحٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى مِلْكِ يَمِينِهِ أَنْ يَضْرِبَهُ، فَكَفَّارَتُهُ تَرْكُهُ، وَمَعَ الْكَفَّارَةِ حَسَنَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
ابومعبد حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”جس نے جائیداد پر قسم اٹھائی کہ وہ اس کو تقسیم نہیں کرے گا تو اس کا کفارہ ترک کردینا ہے اور کفارے کے ساتھ نیکی کرنا بھی ہے۔“