کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جس نے اللہ کے سوا کسی اور کی قسم کھائی، پھر اسے توڑ دیا، یا اسلام سے براءت کی، یا اسلام کے علاوہ کسی اور دین کی، یا امانت کی قسم کھائی۔
حدیث نمبر: 19832
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ ⦗٥٣⦘ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ حَالِفًا، فَلَا يَحْلِفْ إِلَّا بِاللهِ "، وَكَانَتْ قُرَيْشٌ تَحْلِفُ بِآبَائِهَا، فَقَالَ: " لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ مُخْتَصَرًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو کوئی قسم اٹھانا چاہے وہ صرف اللہ کی قسم اٹھائے۔“ اور قریشی اپنے آباء و اجداد کی قسم اٹھاتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہ تم اپنے آباء و اجداد کی قسم کھاؤ۔“
حدیث نمبر: 19833
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مُكْرَمٍ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَلَفَ مِنْكُمْ، فَقَالَ فِي حَلِفِهِ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ تَعَالَ أُقَامِرْكَ فَلْيَتَصَدَّقْ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ ابْنِ بُكَيْرٍ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو تم میں سے کوئی قسم اٹھائے اور اپنی قسم میں «اللَّاتِ وَالْعُزَّىٰ» ”لات اور عزیٰ“ کا نام استعمال کرتا ہے تو وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کہے، اور جس نے اپنے ساتھی سے کہا: آؤ جوا کھیلیں، تو وہ صدقہ کرے۔“
حدیث نمبر: 19834
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، حَدَّثَنِي ثَابِتُ بْنُ الضَّحَّاكِ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَ عَلَى الْمُؤْمِنِ نَذْرٌ فِيمَا لَا يَمْلِكُ، وَلَعْنُ الْمُؤْمِنِ كَقَتْلِهِ، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ عُذِّبَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ غَيْرِ الْإِسْلَامِ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، وَأَخرَجَاهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ.
حافظ ثناء اللہ
ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن کے ذمہ ایسی نذر پوری کرنا لازم نہیں، جس کا وہ مالک نہیں ہے اور مومن پر لعنت کرنا اس کے قتل کے مانند ہے اور جس نے اپنے آپ کو جس کے ساتھ قتل کیا اسی کے ساتھ وہ قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور جس نے اسلام کے علاوہ کسی دوسرے دین کی قسم اٹھائی وہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے قسم اٹھائی۔“
حدیث نمبر: 19835
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَلَفَ أَنَّهُ بَرِيءٌ مِنَ الْإِسْلَامِ، فَإِنْ كَانَ صَادِقًا، لَمْ يَرْجِعْ إِلَى الْإِسْلَامِ سَالِمًا، وَإِنْ كَانَ كَاذِبًا، فَهُوَ كَمَا قَالَ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد (رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اسلام سے برأت کی قسم کھائی، اگر وہ سچا ہے تو پھر بھی دین اسلام کی طرف صحیح سالم نہیں لوٹے گا، اگر وہ جھوٹا ہے تو پھر ویسے ہی ہے جیسا کہ اس نے کہا۔“
حدیث نمبر: 19836
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ ثَعْلَبَةَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَلَفَ بِالْأَمَانَةِ فَلَيْسَ مِنَّا، وَمَنْ خَبَّبَ زَوْجَةَ امْرِئٍ، أَوْ مَمْلُوكِهِ فَلَيْسَ مِنَّا ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے امانت کی قسم اٹھائی، وہ ہم میں سے نہیں (ہمارے طریقے پر نہیں) اور جس نے کسی کی بیوی کو دھوکا دیا یا کسی کے غلام کو وہ ہم سے نہیں (یعنی ہمارے طریقے پر نہیں)۔“
حدیث نمبر: 19837
أَخْبَرَنَا أَبُوِ بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو عَامِرٍ مُوسَى بْنُ عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ: قَالَ سَعِيدٌ: كَانَ قَتَادَةُ، وَالْحَسَنُ، يَقُولَانِ: " لَيْسَ عَلَيْهِ كَفَّارَةٌ - يَعْنِي: مَنْ حَلَفَ بِالْيَهُودِيَّةِ، أَوِ النَّصْرَانِيَّةِ، ثُمَّ حَنِثَ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت قتادہ رحمہ اللہ اور حضرت حسن رحمہ اللہ دونوں فرماتے ہیں کہ جس نے یہودیت یا نصرانیت کے لیے قسم اٹھائی، پھر قسم توڑتا ہے تو اس پر کفارہ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 19838
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا زَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ الْحَرَّانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح قَالَ وَأَخْبَرَنَا ابْنُ حَيَّانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، وَعَلِيُّ بْنُ سَرَّاجٍ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَيْشُوْنَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي دَاوُدَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الرَّجُلِ يَقُولُ: هُوَ يَهُودِيٌّ، أَوْ نَصْرَانِيٌّ، أَوْ بَرِيءٌ مِنَ الْإِسْلَامِ فِي الْيَمِينِ يَحْلِفُ عَلَيْهِ فَيَحْنَثُ؟ قَالَ: " كَفَّارَةُ يَمِينٍ ". فَهَذَا لَا أَصْلَ لَهُ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، وَلَا غَيْرِهِ، تَفَرَّدَ بِهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ الْحَرَّانِيُّ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ، ضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ وَتَرَكُوْهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا خارجہ بن زید بن ثابت اپنے والد (سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے ایک آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا جو اپنی قسم میں کہتا ہے کہ وہ یہودی یا عیسائی یا وہ اسلام سے بری ہے، پھر وہ قسم توڑ دیتا ہے تو ”اس کے ذمہ قسم کا کفارہ ہے۔“