کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: کفارات میں غلام آزاد کرنے کے حوالے سے کیا جائز ہے اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 19984
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أُسَامَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: " أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: " يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ جَارِيَةً لِي كَانَتْ تَرْعَى غَنَمًا لِي، فَفَقَدَتْ شَاةً مِنَ الْغَنَمِ، فَسَأَلْتُهَا عَنْهَا فَقَالَتْ: " أَكَلَهَا الذِّئْبُ "، فَأَسِفْتُ وَكُنْتُ مِنْ بَنِي آدَمَ فَلَطَمْتُ وَجْهَهَا، وَعَلَيَّ رَقَبَةٌ، أَأُعْتِقُهَا؟ "، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيْنَ اللهُ؟ "، فَقَالَتْ: " هُوَ فِي السَّمَاءِ "، فَقَالَ: " مَنْ أَنَا "؟ فَقَالَتْ: " أَنْتَ رَسُولُ اللهِ "، قَالَ: " أَعْتِقْهَا ". كَذَا قَالَهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرِ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن حکم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میری ایک لونڈی بکریاں چراتی تھی۔ ایک دن ایک بکری گم ہوگئی۔ میں نے اس کے بارے میں سوال کیا تو اس نے کہا: بھیڑیا کھا گیا۔ مجھے غصہ آیا تو میں نے اس کے چہرے پر تھپڑ دے مارا۔ میرے اوپر ایک گردن کا آزاد کرنا ہے، کیا میں اس کو آزاد کردوں؟ آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: «أَيْنَ اللهُ؟» ”اللہ کہاں ہے؟“ اس نے کہا: آسمان میں، آپ ﷺ نے پوچھا: «مَنْ أَنَا؟» ”میں کون ہوں؟“ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: «أَعْتِقْهَا» ”اس کو آزاد کر دو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 19984
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مالك 1311»
حدیث نمبر: 19985
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، أَخْبَرَنِي أَبِي، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي الطِّيَرَةِ، وَفِي الْعُطَاسِ فِي الصَّلَاةِ، قَالَ: "، ثُمَّ أَطَلَعْتُ غُنَيْمَةً لِي تَرْعَاهَا جَارِيَةٌ لِي قِبَلَ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِيَّةِ، فَوَجَدْتُ الذِّئْبَ قَدْ أَصَابَ مِنْهَا شَاةً، وَأَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي آدَمَ آسَفُ كَمَا يَأْسَفُونَ، فَصَكَكْتُهَا صَكَّةً، ثُمَّ انْصَرَفْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَعَظَّمَ ذَلِكَ عَلَيَّ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَفَلَا أُعْتِقُهَا؟، قَالَ: " بَلَى، ائْتِنِي بِهَا "، قَالَ: فَجِئْتُ بِهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا: " أَيْنَ اللهُ؟ " قَالَتْ: فِي السَّمَاءِ، قَالَ: " فَمَنْ أَنَا "؟ قَالَتْ: " أَنْتَ رَسُولُ اللهِ "، قَالَ: " إِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ، فَأَعْتِقْهَا ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ دُونَ قِصَّةِ الْجَارِيَةِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ نے فال کے متعلق حدیث بیان فرمائی اور نماز کے اندر جمائی لینے کے متعلق، فرماتے ہیں کہ پھر میں نے اپنی بکریوں کا ریوڑ دیکھا جسے ایک لونڈی احد یا جوانیہ پہاڑ کے پاس چراتی تھی۔ بھیڑیا ایک بکری لے گیا، میں بھی ابنِ آدم ہوں جیسے ان کو غصہ آتا ہے مجھے بھی غصہ آیا۔ میں نے ایک تھپڑ رسید کر دیا، پھر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور رسول اللہ ﷺ کو بتایا تو آپ ﷺ نے اس کو برا جانا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اس کو آزاد کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو میرے پاس لاؤ۔“ کہتے ہیں: میں اس کو آپ کے پاس لایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کہاں ہے؟“ کہنے لگی: آسمان میں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”میں کون ہوں؟“ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آزاد کر دو؛ کیونکہ یہ مومنہ ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 19985
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»
حدیث نمبر: 19986
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَلِيدَةٍ سَوْدَاءَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي عَلَيَّ رَقَبَةٌ مُؤْمِنَةٌ، فَإِنْ كُنْتَ تَرَى هَذِهِ مُؤْمِنَةً، أُعْتِقْهَا "، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَشْهَدِينَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؟ "، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: " أَتَشْهَدِينَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ؟ "، قَالَتْ: " نَعَمْ "، قَالَ: " أَفَتُؤْمِنِينَ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ؟ "، قَالَتْ: " نَعَمْ "، قَالَ: " أَعْتِقْهَا ". ⦗٩٩⦘ هَذَا مُرْسَلٌ وَقَدْ قِيلَ عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ. وَقَدْ قِيلَ: عَنْ عَوْنٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ وَقَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الظِّهَارِ.
حافظ ثناء اللہ
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی اپنی سیاہ لونڈی کو لے کر نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! میرے ذمہ ایک مومنہ لونڈی کا آزاد کرنا ہے، کیا میں اس کو آزاد کر دوں؟ اگر آپ اس کو مومنہ خیال کریں تو میں اس کو آزاد کر دوں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تو اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں؟“ کہنے لگی: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تو گواہی دیتی ہے کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں؟“ کہنے لگی: ہاں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تو موت کے بعد زندہ ہونے پر یقین رکھتی ہے؟“ کہنے لگی: ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو آزاد کر دو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 19986
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ ابن كثير 2/ 374»