کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جس نے قسم کے معنوں میں اپنے مال میں سے کسی چیز کو صدقہ، یا اللہ کی راہ میں، یا کعبہ کے غلاف کے لیے مقرر کر دیا۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " وَالَّذِي يَذْهَبُ إِلَيْهِ عَطَاءٌ أَنَّهُ يُجْزِيهِ مِنْ ذَلِكَ كَفَّارَةُ يَمِينٍ، وَمَنْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ، قَالَهُ فِي كُلِّ مَا حَنِثَ فِيهِ، سِوَى عِتْقٍ أَوْ طَلَاقٍ، وَهُوَ مَذْهَبُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، وَمَذْهَبُ عَدَدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ عَنْهُمْ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور عطاء رحمہ اللہ جس مؤقف کی طرف گئے ہیں وہ یہ ہے کہ اس (صورت) میں اسے قسم کا کفارہ کافی ہو گا، اور جس نے یہ قول اختیار کیا ہے اس نے یہی بات ہر اس چیز کے بارے میں کہی ہے جس میں وہ حانث ہو جائے، سوائے غلام آزاد کرنے یا طلاق کے، اور یہی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا مذہب ہے، اور نبی کریم ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے متعدد حضرات کا بھی یہی مذہب ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ، عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، وَإِنْسَانٌ يَسْأَلُهَا عَنِ الَّذِي يَقُولُ: كُلُّ مَالٍ لَهُ فِي سَبِيلِ اللهِ، أَوْ كُلُّ مَالٍ لَهُ فِي رِتَاجِ الْكَعْبَةِ، مَا يُكَفِّرُ ذَلِكَ؟ "، قَالَتْ عَائِشَةُ: " يُكَفِّرُهُ مَا يُكَفِّرُ الْيَمِينَ "..
حافظ ثناء اللہ
منصور بن عبدالرحمن جو بنو عبدالدار سے ہیں، اپنی والدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں، جنہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، ایک انسان کے متعلق سوال ہوا جو کہتا ہے کہ میرا مال اللہ کے راستے میں ہے یا تمام مال کعبہ کی تعمیر میں ہے، اس کا کیا کفارہ ہے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اس کا کفارہ قسم والا ہی ہے۔
وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَجُلًا أَوِ امْرَأَةً سَأَلَتْهَا عَنْ شَيْءٍ كَانَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ ذِي قَرَابَةٍ لَهَا، فَحَلَفَتْ إِنْ كَلَّمَتْهُ، فَمَالُهَا فِي رِتَاجِ الْكَعْبَةِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " يُكَفِّرُهُ مَا يُكَفِّرُ الْيَمِينَ "، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ثنا ⦗١١٢⦘ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ ثنا سُفْيَانُ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
منصور بن عبدالرحمن اپنی والدہ صفیہ بنت شیبہ سے نقل فرماتے ہیں، جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتی ہیں کہ ایک آدمی یا عورت نے ان سے سوال کیا جو ان کے قرابت والوں کے درمیان تھی، اس نے قسم اٹھائی کہ اگر ان سے بات کی تو اس کا مال کعبہ کی تعمیر میں لگا دیا جائے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ قسم کا کفارہ دینا پڑے گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ ثنا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّ أَخَوَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ بَيْنَهُمَا مِيرَاثٌ، فَسَأَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ الْقِسْمَةَ، فَقَالَ: " لَئِنْ عُدْتَ تَسْأَلُنِي الْقِسْمَةَ، لَمْ أُكَلِّمْكَ أَبَدًا، وَكُلُّ مَالٍ لِي فِي رِتَاجِ الْكَعْبَةِ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِنَّ الْكَعْبَةَ لَغَنِيَّةٌ عَنْ مَالِكَ، كَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ، وَكَلِّمْ أَخَاكَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَمِينَ عَلَيْكَ، وَلَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ الرَّبِّ، وَلَا فِي قَطِيعَةِ الرَّحِمِ، وَلَا فِيمَا لَا تَمْلِكُ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دو انصاری بھائیوں کی میراث تھی۔ ایک نے تقسیم کا مطالبہ کر دیا تو دوسرا کہنے لگا: اگر آئندہ سوال کیا تو کلام بھی نہ کروں گا اور تمام مال تعمیرِ کعبہ میں لگا دوں گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کعبہ تیرے مال سے غنی ہے۔ اپنی قسم کا کفارہ دے اور اپنے بھائی سے کلام کر، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”تیری قسم نہیں، اللہ کی نافرمانی میں نذر نہیں، قطع رحمی اور جس کا تو مالک نہیں اس میں قسم کا اعتبار نہیں ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أنبأ إِيَاسُ بْنُ أَبِي تَمِيمَةَ أَبُو مَخْلَدٍ صَاحِبُ الْبَصْرِيِّ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ مَمْلُوكًا لَابْنَةِ عَمِّ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَحَلَفَتْ: " أَنَّ مَالَهَا فِي الْمَسَاكِينِ صَدَقَةٌ "، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: " كَفِّرِي يَمِينَكِ "..
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن ابورافع اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے چچا کی بیٹی کے غلام تھے۔ انہوں نے قسم کھائی کہ ان کا مال مساکین میں صدقہ ہے تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تو اپنی قسم کا کفارہ دے۔
قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ، عَنِ النَّضْرِ، أنبأ أَشْعَثُ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَعَائِشَةَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالُوا: " تُكَفِّرُ يَمِينَهَا ".
حافظ ثناء اللہ
ابورافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا: تو اپنی قسم کا کفارہ دے دو۔
قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، ثنا حَجَّاجٌ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةٍ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، وَحَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ نَحْوَهُ. وَعَنْ حَمَّادٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ نَحْوَهُ وَعَنْ حَمَّادٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ نَحْوَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابو رافع رضی اللہ عنہ، مہاجر خواتین میں سے ایک خاتون زینب، سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہم سے اسی طرح نقل فرماتے ہیں۔ اور بکر بن عبداللہ بھی حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے اس طرح نقل فرماتے ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدَآبَاذِيُّ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا الْأَشْعَثُ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّهُ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَةٍ لَهُ شَيْءٌ، فَحَلَفَتْ مَوْلَاةٌ لَهُ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ⦗١١٣⦘ يَحْيَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا أَشْعَثُ، ثنا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ مَوْلَاتَهُ أَرَادَتْ أَنْ تُفَرِّقَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ، فَقَالَتْ: " هِيَ يَوْمًا يَهُودِيَّةٌ، وَيَوْمًا نَصْرَانِيَّةٌ، وَكُلُّ مَمْلُوكٍ لَهَا حُرٌّ، وَكُلُّ مَالٍ لَهَا فِي سَبِيلِ اللهِ، وَعَلَيْهَا الْمَشْيُ فِي بَيْتِ اللهِ، إِنْ لَمْ تُفَرِّقْ بَيْنَهُمَا "، فَسَأَلَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَابْنَ عُمَرَ، وَابْنَ عَبَّاسٍ، وَحَفْصَةَ، وَأُمَّ سَلَمَةَ، فَكُلُّهُمْ قَالَ لَهَا: " أَتُرِيدِينَ أَنْ تَكُونِي مِثْلَ هَارُوتَ، وَمَارُوتَ؟ "، وَأَمَرُوهَا أَنْ تُكَفِّرَ يَمِينَهَا، وَتُخَلِّيَ بَيْنَهُمَا. لَفْظُ حَدِيثِ الْأَنْصَارِيِّ وَحَدِيثُ رَوْحٍ مُخْتَصَرٌ، وَلَمْ يَذْكُرْ حَفْصَةَ.
حافظ ثناء اللہ
بکر بن عبداللہ مزنی رحمہ اللہ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے اور ان کی بیوی کے درمیان اختلاف تھا تو ان کی مالکہ نے قسم اٹھا لی۔
(ب) بکر بن عبداللہ مزنی رحمہ اللہ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کی مالکہ نے ارادہ کیا کہ ان کے اور ان کی بیوی کے درمیان جدائی ہو جائے، وہ کہنے لگی: یہ ایک دن یہودی اور ایک دن عیسائی ہوتی ہے اور اس کے تمام غلام آزاد ہیں اور اس کا تمام مال اللہ کے راستے میں ہے اور اس کے ذمہ پیدل چل کر بیت اللہ کا حج بھی ہے، اگر ان کے درمیان تفریق نہ ہو۔ اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، سیدنا ابن عمر اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: کیا تم ہاروت و ماروت کی طرح بننا چاہتی ہو؟ انہوں نے اس کو حکم دیا کہ اپنی قسم کا کفارہ دو اور ان کا راستہ صاف کر دو۔
(ب) بکر بن عبداللہ مزنی رحمہ اللہ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کی مالکہ نے ارادہ کیا کہ ان کے اور ان کی بیوی کے درمیان جدائی ہو جائے، وہ کہنے لگی: یہ ایک دن یہودی اور ایک دن عیسائی ہوتی ہے اور اس کے تمام غلام آزاد ہیں اور اس کا تمام مال اللہ کے راستے میں ہے اور اس کے ذمہ پیدل چل کر بیت اللہ کا حج بھی ہے، اگر ان کے درمیان تفریق نہ ہو۔ اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، سیدنا ابن عمر اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: کیا تم ہاروت و ماروت کی طرح بننا چاہتی ہو؟ انہوں نے اس کو حکم دیا کہ اپنی قسم کا کفارہ دو اور ان کا راستہ صاف کر دو۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو هِلَالٍ، ثنا غَالِبٌ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: قَالَتْ مَوْلَاتِي: " لَأُفَرِّقَنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَ امْرَأَتِكَ، وَكُلُّ مَالٍ لَهَا فِي رِتَاجِ الْكَعْبَةِ، وَهِيَ يَوْمًا يَهُودِيَّةٌ، وَيَوْمًا نَصْرَانِيَّةٌ، وَيَوْمًا مَجُوسِيَّةٌ، إِنْ لَمْ تُفَرِّقْ بَيْنَكَ وَبَيْنَ امْرَأَتِكَ "، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ إِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقُلْتُ: " إِنَّ مَوْلَاتِي تُرِيدُ أَنْ تُفَرِّقَ بَيْنِي وَبَيْنَ امْرَأَتِي "، فَقَالَتْ: " انْطَلِقْ إِلَى مَوْلَاتِكَ، فَقُلْ لَهَا: إِنَّ هَذَا لَا يَحِلُّ لَكِ "، فَرَجَعْتُ إِلَيْهَا، قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُ ابْنَ عُمَرَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَجَاءَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْبَابِ فَقَالَ: " هَهُنَا هَارُوتُ، وَمَارُوتُ؟ فَقَالَتْ: إِنِّي جَعَلْتُ كُلَّ مَالٍ لِي فِي رِتَاجِ الْكَعْبَةِ "، قَالَ: " فَمَا تَأْكُلِينَ "؟ قَالَتْ: وَقُلْتُ: " وَأَنَا يَوْمًا يَهُودِيَّةٌ، وَيَوْمًا نَصْرَانِيَّةٌ، وَيَوْمًا مَجُوسِيَّةٌ "، فَقَالَ: " إِنْ تَهَوَّدْتِ قُتِلْتِ، وَإِنْ تَنَصَّرْتِ قُتِلْتِ، وَإِنْ تَمَجَّسْتِ قُتِلْتِ "، فَقَالَتْ: " فَمَا تَأْمُرُنِي؟ "، قَالَ: " تُكَفِّرِي يَمِينَكِ، وَتَجْمَعِي بَيْنَ فَتَاكِ وَفَتَاتِكِ ".
حافظ ثناء اللہ
بکر بن عبداللہ مزنی سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میری مالکہ نے کہا: میں تیرے اور تیری بیوی کے درمیان ضرور تفریق کرواؤں گی، اس کا تمام مال کعبہ کی تعمیر کے لیے ہے اور وہ یہودیہ، عیسائیہ یا مجوسیہ ہو اگر تیرے اور تیری بیوی کے درمیان جدائی نہ ہو۔ کہتے ہیں: میں سیدتنا ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، میں نے کہا: میری مالکہ ہمارے درمیان جدائی چاہتی ہے، تو انہوں نے فرمایا: جاؤ اس سے کہو، تیرے لیے یہ جائز نہیں ہے۔ میں واپس پلٹ کر آیا۔ کہتے ہیں: پھر میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور انہیں خبر دی، وہ دروازے تک آئے اور فرمانے لگے: کیا یہاں «هَارُوتُ وَمَارُوتُ» ”ہاروت و ماروت“ ہیں؟ وہ مالکہ کہنے لگی: میں نے اپنا تمام مال کعبہ کی تعمیر میں لگا دیا ہے، تو انہوں نے فرمایا: تم کیا کھاؤ گی؟ وہ کہتی ہے: میں یہودیہ یا عیسائیہ یا مجوسیہ ہوئی، انہوں نے فرمایا: اگر تو یہودیہ، عیسائیہ یا مجوسیہ ہوئی تو قتل کر دی جائے گی، تو وہ عورت کہنے لگی: پھر آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا: اپنی قسم کا کفارہ دے اور اپنے غلام اور اس کی بیوی کو اکٹھا رہنے دے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْإِسْفَرَايِينِيُّ بِهَا أنبأ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ السَّرَخْسِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، ثنا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ لَيْلَى بِنْتَ الْعَجْمَاءِ مَوْلَاتَهُ قَالَتْ: " هِيَ يَهُودِيَّةٌ، وَهِيَ نَصْرَانِيَّةٌ، وَكُلُّ مَمْلُوكٍ مُحَرَّرٌ، وَكُلُّ مَالٍ لَهَا هَدْيٌ إِنْ لَمْ يُطَلِّقِ امْرَأَتَهُ، إِنْ لَمْ تُفَرِّقْ بَيْنَكُمَا "، فَأَتَى زَيْنَبَ فَانْطَلَقَتْ مَعَهُ، فَقَالَتْ: " هَهُنَا هَارُوتُ، وَمَارُوتُ "، قَالَتْ: " قَدْ عَلِمَ اللهُ مَا قُلْتُ: " كُلُّ مَالٍ لِي هَدْيٌ، وَكُلُّ مَمْلُوكٍ لِي مُحَرَّرٌ، وَهِيَ يَهُودِيَّةٌ، وَهِيَ نَصْرَانِيَّةٌ "، قَالَتْ: " خَلِّي بَيْنَ الرَّجُلِ وَامْرَأَتِهِ "، قَالَ: " فَأَتَيْتُ حَفْصَةَ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهَا كَمَا قَالَتْ زَيْنَبُ "، قَالَتْ: " خَلِّي بَيْنَ الرَّجُلِ وَامْرَأَتِهِ "، فَأَتَيْتُ ابْنَ عُمَرَ، فَجَاءَ مَعِي، فَقَامَ بِالْبَابِ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَتْ: " بِأَبِي أَنْتَ وَأَبُوكَ "، قَالَ: " أَمِنْ حِجَارَةٍ أَنْتِ؟ أَمْ مِنْ حَدِيدٍ؟ أَتَتْكِ زَيْنَبُ، وَأَرْسَلَتْ إِلَيْكِ حَفْصَةُ "، قَالَتْ: " قَدْ حَلَفْتُ بِكَذَا وَكَذَا "، قَالَ: " كَفِّرِي عَنْ يَمِينِكِ، وَخَلِّي بَيْنَ الرَّجُلِ وَامْرَأَتِهِ ". قَالَ الشَّيْخُ: " وَهَذَا فِي غَيْرِ الْعِتْقِ، فَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهَ عَنْهُمَا مِنْ وَجْهٍ ⦗١١٤⦘ آخَرَ: " أَنَّ الْعِتَاقَ يَقَعُ "، وَكَذَلِكَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَكَأَنَّ الرَّاوِيَ قَصَّرَ بِنَقْلِهِ فِي رِوَايَةِ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَوْ لَمْ يَكُنْ لَهَا فِي الْوَقْتِ مَمْلُوكٌ، فَلَمْ يَتَعَرَّضُوا لَهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
بکر بن عبداللہ مزنی سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ لیلیٰ بنت عجماء ان کی مالکہ تھی۔ کہنے لگی: یہ یہودیہ اور عیسائیہ ہے، اس کے تمام غلام آزاد ہیں اور اس کا تمام مال ہدی (قربانی) ہے، اگر اس نے اپنی بیوی کو طلاق نہ دی اور ان دونوں کے درمیان تفریق نہ ہوئی۔ ابورافع سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو وہ ان کے ساتھ چلیں۔ کہتی ہیں: کیا یہاں ہاروت و ماروت ہیں؟ وہ کہنے لگی: اللہ جانتا ہے جو میں نے کہا کہ میرا تمام مال ہدی ہے اور تمام غلام آزاد ہیں اور یہ یہودیہ اور عیسائیہ ہے۔ (سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے) فرمایا: تم مرد اور اس کی بیوی کا راستہ چھوڑ دو۔ کہتے ہیں: پھر میں سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا تو انہوں نے بھی اسے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی طرح پیغام بھیجا کہ مرد اور اس کی بیوی کا راستہ چھوڑ دو۔ پھر میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، وہ میرے ساتھ آئے اور دروازے پر کھڑے ہو گئے۔ جب انہوں نے سلام کہا تو وہ کہنے لگی: میرا باپ آپ پر اور آپ کے والد پر قربان! سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: کیا تو پتھر سے بنی ہے یا لوہے سے؟ تیرے پاس سیدہ زینب رضی اللہ عنہا آئیں اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے تیرے پاس پیغام بھیجا۔ کہتی ہے: میں نے فلاں فلاں قسم کھائی ہے۔ فرمانے لگے: اپنی قسم کا کفارہ دے اور مرد اور اس کی بیوی کا راستہ چھوڑ دے۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ گردن کی آزادی کے علاوہ ہے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے دوسری سند سے مروی ہے کہ آزادی بھی واقع ہو جاتی ہے اور اسی طرح سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی منقول ہے۔ گویا راوی نے بکر بن عبداللہ کی روایت میں اسے نقل کرنے میں کوتاہی کی، یا اس وقت اس کا کوئی غلام نہ تھا، اس لیے انہوں نے اس سے تعرض نہیں کیا۔ واللہ اعلم۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ گردن کی آزادی کے علاوہ ہے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے دوسری سند سے مروی ہے کہ آزادی بھی واقع ہو جاتی ہے اور اسی طرح سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی منقول ہے۔ گویا راوی نے بکر بن عبداللہ کی روایت میں اسے نقل کرنے میں کوتاہی کی، یا اس وقت اس کا کوئی غلام نہ تھا، اس لیے انہوں نے اس سے تعرض نہیں کیا۔ واللہ اعلم۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ خَشْكُنَانَةُ الْبَلْخِيُّ ثنا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُوسَى الْخَنْبُ، ثنا قُتَيْبَةُ، ثنا حَبِيبٌ، عَنِ الْعَوَّامِ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَعَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فِي الرَّجُلِ يَحْلِفُ بِالْمَشْيِ، أَوْ مَالِهِ فِي الْمَسَاكِينِ، أَوْ فِي رِتَاجِ الْكَعْبَةِ: " أَنَّهَا يَمِينٌ، يُكَفِّرُهَا إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ ".
حافظ ثناء اللہ
مجاہد حضرت عمر اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ”آدمی پیدل چل کر حج کرنے کی قسم اٹھاتا ہے یا یہ کہ اس کا مال مسکینوں میں صدقہ ہے یا کعبہ کی تعمیر میں ہے تو یہ قسم ہے، اس کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ قَالَ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنِ الْمَشْيِ، فَحَنَثَ بِالْمَشْيِ إِلَى الْكَعْبَةِ؟ فَأَفْتَاهُ بِكَفَّارَةِ يَمِينٍ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: " بِهَذَا تَقُولُ يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ؟ "، فَقَالَ: " هَذَا قَوْلُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي "، قَالَ: " مَنْ هُوَ؟ "، قَالَ: " عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ".
حافظ ثناء اللہ
ربیع رحمہ اللہ امام شافعی رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے ان سے پیدل چل کر حج کرنے کے بارے میں پوچھا کہ وہ کعبہ کی طرف پیدل چلنے کی قسم میں حانث ہو گیا ہے، تو آپ نے اسے قسم کے کفارے کا فتویٰ دیا۔ تو وہ آدمی کہنے لگا: اے ابو عبد اللہ! کیا آپ یہ کہتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: یہ اس کی بات ہے جو مجھ سے بہتر تھے۔ اس نے پوچھا: وہ کون تھے؟ انہوں نے فرمایا: عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْإِسْفَرَايِينِيُّ أنبأ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا يُوسُفُ يَعْنِي: ابْنَ سَعِيدٍ، ثنا هَيْثَمٌ يَعْنِي: ابْنَ خَارِجَةَ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ وَحَجَّاجٍ، عَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُمَا قَالَا فِيمَنْ قَالَ: " هُوَ مُحْرِمٌ بِحَجَّةٍ "، فَحَنَثَ: " فِيهِ كَفَّارَةُ يَمِينٍ ". قَالَ الشَّيْخُ: وَمَنْ قَالَ بِهَذَا الْقَوْلِ يُشْبِهُ أَنْ يَحْتَجَّ بِمَا.
حافظ ثناء اللہ
منصور نے حسن رحمہ اللہ سے اور حجاج نے عطاء رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ یہ دونوں حضرات اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جس نے کہا کہ وہ حج کا احرام باندھے گا، پھر حانث ہو گیا کہ اس پر قسم کا کفارہ ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحُسَيْنِ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، ح وَأنبأ أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ السَّرَّاجُ ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ الْبَزَّازُ، ثنا أَبُو هَمَّامٍ الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعِ بْنِ الْوَلِيدِ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالُوا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شَمَاسَةَ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهَ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كَفَّارَةُ النَّذْرِ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ ". سَقَطَ مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ أَبُو الْخَيْرِ فَلَمْ يَذْكُرْهُ فِي إِسْنَادِهِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ هَارُونَ بْنِ سَعِيدٍ، وَأَحْمَدَ بْنِ عِيسَى، وَيُونُسَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى.
حافظ ثناء اللہ
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نذر کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّمَا النَّذْرُ مَا ابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُ اللهِ ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”نذر وہ ہے جس کے ذریعے اللہ کی رضا حاصل کی جائے۔“