حدیث نمبر: 19998
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنِ الْمَقْبُرِيِّ أَنَّهُ سُئِلَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ الرَّجُلِ يَكُونُ عَلَيْهِ الرَّقَبَةُ، هَلْ يُعْتِقُ ابْنَ زِنًا؟ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: " نَعَمْ ".
حافظ ثناء اللہ
مقبري رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جس کے ذمے گردن آزاد کرنا ہو، کیا وہ حرامی بچہ آزاد کر دے؟ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں۔
حدیث نمبر: 19999
قَالَ: وَحَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ أَعْتَقَ ابْنَ زِنًا، وَأُمَّهُ.
حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ولد الزنا اور اس کی والدہ کو آزاد کیا۔
حدیث نمبر: 20000
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرٌو، أَخْبَرَنِي الزُّبَيْرُ بْنُ مُوسَى، عَنْ أُمِّ حَكِيمِ بِنْتِ طَارِقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ فِي أَوْلَادِ الزِّنَا: " أَعْتِقُوهُمْ، وَأَحْسِنُوا إِلَيْهِمْ ".
حافظ ثناء اللہ
ام حکیم بنت طارق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتی ہیں کہ حرامی اولاد کے بارے میں حکم یہ ہے کہ ”تم ان کو آزاد کر لو اور ان سے اچھا سلوک کرو۔“
حدیث نمبر: 20001
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيِّ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا سُئِلَ عَنْ وَلَدِ الزِّنَا، وَوَلَدِ رِشْدَةٍ فِي الْعِتَاقَةِ؟ فَقَالَ: " انْظُرْ أَكْثَرَهُمَا ثَمَنًا "، فَوَجَدُوا وَلَدَ الزِّنَا أَكْثَرَهُمَا ثَمَنًا بِدِينَارٍ، فَأَمَرَهُمْ بِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
عمر بن عبدالرحمن قرشی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ حرامی بچے کے بارے میں پوچھا گیا اور صحیح النسب لڑکے کی آزادی کے بارے میں بھی، تو فرمایا: دیکھو! ان دونوں میں سے کس کی قیمت زیادہ ہے؟ تو انہوں نے دیکھا، حرامی بچے کی قیمت ایک دینار زیادہ تھی، چنانچہ آپ نے اس کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 20002
قَالَ: وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّهُ كَانَ يَرَى وَلَدَ الزِّنَا وَغَيْرَهُ فِي الْعِتْقِ سَوَاءً ". وَعَنْ فِرَاسٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: " انْظُرْ أَكْثَرَهُمَا ثَمَنًا ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت حسن رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ وہ حرامی بچے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان کی آزادی برابر ہے۔
(ب) فراس، شعبی رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ قیمت میں جو زیادہ ہو۔
(ب) فراس، شعبی رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ قیمت میں جو زیادہ ہو۔
حدیث نمبر: 20003
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: " أَعْتَقَ ابْنُ عُمَرَ غُلَامًا لَهُ، وَلَدَ زِنًا ".
حافظ ثناء اللہ
نافع فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنا حرامی غلام آزاد کیا۔
حدیث نمبر: 20004
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَزَّازُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْهَيْثَمِ الْبَصْرِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ أَعْتَقَ وَلَدَ زِنْيَةٍ، وَقَالَ: " قَدْ أَمَرَنَا اللهُ وَرَسُولُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَمُنَّ عَلَى مَنْ هُوَ شَرٌّ مِنْهُ "، قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً} [محمد: ٤] ". وَرُوِيَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَرِهَهُ.
حافظ ثناء اللہ
نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے حرامی بچہ آزاد کیا اور کہا: ”اللہ اور رسول ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم برے لوگوں پر احسان کریں،“ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً﴾ [سورة محمد: 4] ”احسان کرنا یا فدیہ لینا۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ وہ اس کو ناپسند فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 20005
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو صَالِحٍ، وَابْنُ بُكَيْرٍ قَالَا: ثنا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو حَسَنٍ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ وَكَانَ مِنْ قُدَمَاءِ مَوَالِي قُرَيْشٍ وَأَهْلِ الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَالصَّلَاحِ، أَنَّهُ سَمِعَ امْرَأَةً تَقُولُ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ نَوْفلٍ تَسْتَفْتِيهِ فِي غُلَامٍ لَهَا، ابْنِ زِنْيَةٍ فِي رَقَبَةٍ كَانَتْ عَلَيْهَا قَالَ لَهَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَوْفَلٍ: " لَا أَرَاهُ يَقْضِي الرَّقَبَةَ الَّتِي عَلَيْكِ عِتْقُ ابْنِ زِنْيَةٍ " قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ نَوْفَلٍ: سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: " لَأَنْ أُحْمَلَ عَلَى نَعْلَيْنِ فِي سَبِيلِ اللهِ، أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ ابْنَ زِنْيَةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو حسن جو عبداللہ بن حارث کے آزاد کردہ غلام ہیں اور وہ قدیم قریشی غلاموں اور اہل علم اور صلاح پسند لوگوں میں سے تھے، انہوں نے ایک عورت سے سنا جو عبداللہ بن نوفل سے کہہ رہی تھی کہ میرے ذمہ گردن کا آزاد کرنا ہے اس کے بارے میں بتائیں، تو عبداللہ بن نوفل نے فرمایا: ”حرامی بچے کی گردن آزاد کرنے سے تو بری الذمہ نہ ہوگی۔“ ابن نوفل فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرما رہے تھے: ”میں جوتے اللہ کے راستے میں دوں یہ مجھے زیادہ پسند ہے کہ میں حرامی بچے کو آزاد کر دوں۔“