أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ رَحِمَهُ اللهُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، فَقَالَ: " إِنْ شَاءَ اللهُ، فَقَدِ اسْتَثْنَى ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو نبی ﷺ سے خبر ملی کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی بات پر قسم اٹھائی اور «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“ کہہ دیا تو اس نے استثنا کر دیا۔“
وَأَخْبَرَنَا الْقَاضِي أَبُو عُمَرَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْحِيرِيُّ أَبُو عَمْرٍو، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى - وَهُوَ عَبْدَانُ الْأَهْوَازِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَلَفَ فَقَالَ: إِنْ شَاءَ اللهُ، فَلَهُ ثُنْيَا "، كَذَا وَجَدْتُهُ، وَهُوَ فِي الْأَوَّلِ مِنْ فَوَائِدِ أَبِي عَمْرِو بْنِ حَمْدَانَ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، وَإِنَّمَا يُعْرَفُ هَذَا الْحَدِيثُ مَرْفُوعًا مِنْ حَدِيثِ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے قسم اٹھائی اور اس نے «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“ کہہ دیا تو اس کے لیے استثناء ہے۔“ اس طرح میں نے پایا ہے۔
یہ حدیث مرفوعاً صرف ایوب سختیانی کی روایت سے معروف ہے۔
یہ حدیث مرفوعاً صرف ایوب سختیانی کی روایت سے معروف ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، وَعَبْدُ الْوَارِثِ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، فَقَالَ: إِنْ شَاءَ اللهُ، فَهُوَ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءَ فَلْيَمْضِ، وَإِنْ شَاءَ فَلْيَتْرُكْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی بات پر قسم اٹھائی اور اس نے «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“ کہہ دیا تو وہ بااختیار ہے، اگر چاہے تو قسم کو پورا کر لے یا چھوڑ دے۔“
وَحَدَّثَنَا الشَّيْخُ الْإِمَامُ أَبُو الطَّيِّبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْحَنَفِيُّ رَحِمَهُ اللهُ إِمْلَاءً، ثنا الْإِمَامُ وَالِدِي، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَلَفَ فَاسْتَثْنَى، فَهُوَ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءَ أَنْ يَمْضِيَ عَلَى يَمِينِهِ ⦗٨٠⦘ مَضَى، وَإِنْ شَاءَ أَنْ يَرْجِعَ رَجَعَ غَيْرَ حَرِجٍ "،.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے قسم میں استثناء کیا وہ بااختیار ہے، اگر وہ اپنی قسم پوری کرنا چاہے تو کرلے، وگرنہ چھوڑنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدَانُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا ابْنُ عُلَيَّةَ فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: لَا أَعْلَمُ إِلَّا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الشَّكُّ مِنْ أَيُّوبَ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: " رَجَعَ غَيْرَ حَنِثٍ "،.
حافظ ثناء اللہ
ابن علیہ نے بھی اسی طرح ذکر کیا ہے، لیکن ان کو ایوب سے نقل کرنے میں شک ہے، اس کے آخر میں ہے کہ: ”وہ اپنا کام کرلیتا ہے لیکن حانث نہ ہوگا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا عَبْدَانُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ، قَالَ: قَالَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ: كَانَ أَيُّوبُ يَرْفَعُ هَذَا الْحَدِيثَ، ثُمَّ تَرَكَهُ، قَالَ الشَّيْخُ: لَعَلَّهُ إِنَّمَا تَرَكَهُ لِشَكٍّ اعْتَرَاهُ فِي رَفْعِهِ، وَهُوَ أَيُّوبُ بْنُ أَبِي تَمِيمَةَ السَّخْتِيَانِيُّ، وَقَدْ رُوِيَ ذَلِكَ أَيْضًا عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، وَحَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، وَكَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يَكَادُ يَصِحُّ رَفْعُهُ إِلَّا مِنْ جِهَةِ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، وَأَيُّوبُ يَشُكُّ فِيهِ أَيْضًا، وَرِوَايَةُ الْجَمَاعَةِ مِنْ أَوْجُهٍ صَحِيحَةٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مِنْ قَوْلِهِ غَيْرَ مَرْفُوعٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
حماد بن زید فرماتے ہیں کہ ایوب اس حدیث کو مرفوع بیان کرتے تھے، پھر انہوں نے اسے (مرفوع بیان کرنا) چھوڑ دیا۔
شیخ فرماتے ہیں: شاید انہوں نے اسے مرفوع ہونے میں پیش آنے والے شک کی وجہ سے چھوڑا ہو، اور یہ ایوب بن ابی تمیمہ سختیانی ہیں۔ یہ روایت موسیٰ بن عقبہ، عبداللہ بن عمر، حسان بن عطیہ اور کثیر بن فرقد سے بھی نافع کے واسطے سے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، نبی ﷺ سے منقول ہے، لیکن اس کا مرفوع ہونا ایوب سختیانی کے طریق کے سوا صحیح نہیں ہوتا، اور ایوب کو بھی اس میں شک ہے۔ جبکہ ایک جماعت کی روایت صحیح طرق سے نافع کے واسطے سے ابن عمر رضی اللہ عنہما کا اپنا قول ہے، مرفوع نہیں۔ واللہ اعلم۔
شیخ فرماتے ہیں: شاید انہوں نے اسے مرفوع ہونے میں پیش آنے والے شک کی وجہ سے چھوڑا ہو، اور یہ ایوب بن ابی تمیمہ سختیانی ہیں۔ یہ روایت موسیٰ بن عقبہ، عبداللہ بن عمر، حسان بن عطیہ اور کثیر بن فرقد سے بھی نافع کے واسطے سے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، نبی ﷺ سے منقول ہے، لیکن اس کا مرفوع ہونا ایوب سختیانی کے طریق کے سوا صحیح نہیں ہوتا، اور ایوب کو بھی اس میں شک ہے۔ جبکہ ایک جماعت کی روایت صحیح طرق سے نافع کے واسطے سے ابن عمر رضی اللہ عنہما کا اپنا قول ہے، مرفوع نہیں۔ واللہ اعلم۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ نَافِعًا، حَدَّثَهُمْ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " مَنْ قَالَ: وَاللهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنْ شَاءَ اللهُ، فَلَمْ يَفْعَلِ الَّذِي حَلَفَ عَلَيْهِ، لَمْ يَحْنَثْ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس نے کہا: ”اللہ کی قسم“، پھر «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“ کہہ دیا، پھر وہ کام نہیں کیا جس کے لیے قسم اٹھائی تھی تو وہ حانث نہ ہوگا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ مِسْعَرٌ، عَنِ الْقَاسِمِ يعني ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ، يَعْنِي: ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، فَقَالَ: إِنْ شَاءَ اللهُ، فَقَدِ اسْتَثْنَى ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس نے کسی بات پر قسم اٹھائی اور اس نے «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“ کہہ دیا تو اس نے استثناء کر دیا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ بِشْرٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: " الِاسْتِثْنَاءُ جَائِزٌ فِي كُلِّ يَمِينٍ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہر قسم میں استثناء جائز ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ جِبْرِيلَ الْأَدِيبُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبٍ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ مَالِكٍ اللَّخْمِيِّ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِامْرَأَتِهِ: أَنْتِ طَالِقٌ، إِنْ شَاءَ اللهُ، لَمْ تُطَلَّقْ، وَإِذَا قَالَ لِعَبْدِهِ: أَنْتَ حُرٌّ إِنْ شَاءَ اللهُ، فَإِنَّهُ حُرٌّ "، تَفَرَّدَ بِهِ حُمَيْدُ بْنُ مَالِكٍ وَهُوَ مَجْهُولٌ، وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِي إِسْنَادِهِ فَقِيلَ: هَكَذَا، وَقِيلَ: عَنْهُ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ، عَنْ مُعَاذٍ وَقِيلَ: عَنْهُ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ مُعَاذٍ وَهُوَ مُنْقَطِعٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے معاذ بن جبل! جب آدمی اپنی بیوی سے کہہ دے: تو طلاق والی ہے اگر اللہ نے چاہا، تو اس کو طلاق نہ ہوگی، لیکن جب اپنے غلام سے کہہ دے: تو آزاد ہے اگر اللہ نے چاہا، تو وہ آزاد ہے۔“
اسے بیان کرنے میں حمید بن مالک منفرد ہیں اور وہ مجہول ہیں، اور ان پر اس کی سند میں اختلاف کیا گیا ہے: ایک قول یہی ہے، ایک قول ہے: ان سے، مکحول سے، مالک بن یخامر سے، معاذ سے، اور ایک قول ہے: ان سے، مکحول سے، معاذ سے، اور یہ منقطع ہے۔
اسے بیان کرنے میں حمید بن مالک منفرد ہیں اور وہ مجہول ہیں، اور ان پر اس کی سند میں اختلاف کیا گیا ہے: ایک قول یہی ہے، ایک قول ہے: ان سے، مکحول سے، مالک بن یخامر سے، معاذ سے، اور ایک قول ہے: ان سے، مکحول سے، معاذ سے، اور یہ منقطع ہے۔