کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اللہ تعالیٰ کی صفات مثلاً عزت، قدرت، جلال، کبریائی، عظمت، کلام، سماعت اور اس جیسی دیگر صفات کی قسم کھانے کے متعلق کیا مروی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَعَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُمَا، أَنَّ النَّاسَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ تُمَارُونَ فِي الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ دُونَهُ سَحَابٌ "؟ قَالُوا: لَا، يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " فَهَلْ تُمَارُونَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ "؟ قَالُوا: لَا، يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَهُ كَذَلِكَ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: " وَيَبْقَى رَجُلٌ هُوَ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، وَآخَرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ مُقْبِلٌ بِوَجْهِهِ عَلَى النَّارِ، يَقُولُ: ⦗٧٣⦘ يَا رَبِّ اصْرِفْ وَجْهِيَ عَنِ النَّارِ، فَإِنَّهُ قَدْ قَشَبَنِي رِيحُهَا، وَأَحْرَقَنِي ذَكَاؤُهَا، فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ " فَهَلْ عَسَيْتَ إِنْ فَعَلْتُ ذَلِكَ بِكَ أَنْ تَسْأَلَ غَيْرَ ذَلِكَ "؟ فَيَقُولُ: لَا، وَعِزَّتِكَ، فَيُعْطِي رَبَّهُ مَا شَاءَ مِنْ عَهْدٍ وَمِيثَاقٍ، فَيَصْرِفُ اللهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ، فَإِذَا أَقْبَلَ بِوَجْهِهِ عَلَى الْجَنَّةِ، فَرَأَى بَهْجَتَهَا، فَيَسْكُتُ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَسْكُتَ، ثُمَّ يَقُولُ: يَا رَبِّ، قَدِّمْنِي عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ اللهُ: " أَلَسْتَ قَدْ أَعْطَيْتَ الْعُهُودَ وَالْمَوَاثِيقَ أَنْ لَا تَسْأَلَ غَيْرَ الَّذِي كُنْتَ سَأَلْتَ "؟ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، لَا أَكُونُ أَشْقَى خَلْقِكَ فَيَقُولُ: " هَلْ عَسَيْتَ إِنْ أُعْطِيتَ ذَلِكَ أَنْ تَسْأَلَ غَيْرَهُ؟ "، فَيَقُولُ: لَا، وَعِزَّتِكَ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَ ذَلِكَ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، إِلَى أَنْ، قَالَ:، ثُمَّ يَأْذَنُ لَهُ فِي دُخُولِ الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ لَهُ: تَمَنَّ، فَيَتَمَنَّى "، حَتَّى إِذَا انْقَطَعَ بِهِ قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: " مِنْ كَذَا وَكَذَا، فَسَلْ " يُذَكِّرُهُ رَبُّهُ، حَتَّى إِذَا انْتَهَتْ بِهِ الْأَمَانِيُّ، قَالَ اللهُ: " لَكَ ذَلِكَ، وَمِثْلُهُ مَعَهُ "، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، لِأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَكَ ذَلِكَ، وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، قَالَ الْبُخَارِيُّ، وَقَالَ أَيُّوبُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَعِزَّتِكَ، لَا غِنًى بِي عَنْ بَرَكَتِكَ " وَفِي حَدِيثِ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قِصَّةِ جَهَنَّمَ، فَتَقُولُ: " قَطْ قَطْ، وَعِزَّتِكَ " قَالَ الشَّيْخُ: وَفِي حَدِيثِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِي يُغْمَسُ فِي الْجَنَّةِ: " فَيُقَالُ لَهُ: هَلْ رَأَيْتَ بُؤْسًا قَطُّ، يَقُولُ: " لَا وَعِزَّتِكَ وَجَلَالِكَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سعید بن مسیب اور عطا بن یزید لیثی کو خبر دی کہ لوگوں نے نبی ﷺ سے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب عزوجل کو دیکھیں گے؟“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں چودھویں رات کے چاند کو دیکھنے میں دشواری ہوتی ہے جبکہ بادل نہ ہوں؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا بادل نہ ہونے کی صورت میں سورج کو دیکھنے میں مشکل ہوتی ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ”پس تم اسی طرح اللہ تعالیٰ کو دیکھو گے۔“ انہوں نے حدیث کو ذکر کیا۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں: ”جنت اور جہنم کے درمیان ایک آدمی رہ جائے گا اور یہ جنت میں داخل ہونے والا آخری شخص ہوگا۔“
اس کا چہرہ جہنم کی طرف ہوگا، وہ کہے گا: ”اے اللہ! میرا چہرہ جہنم سے پھیر دے، اس کی حرارت میرے چہرے کو جھلس رہی ہے۔“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”اگر میں تیرا یہ سوال پورا کر دوں تو کیا تو کوئی اور سوال تو نہیں کرے گا؟“ وہ بندہ عرض کرے گا: ”اے اللہ! تیری عزت کی قسم! آئندہ سوال نہ کروں گا۔“ وہ اللہ سے وعدہ کرے گا جو اللہ چاہے گا تو اللہ اس کا چہرہ جہنم سے پھیر دے گا۔ جب اس کا چہرہ جنت کی طرف کر دیا جائے گا تو وہ جنت کی رونقوں کو دیکھ کر جتنی دیر اللہ چاہے گا خاموش رہے گا، پھر عرض کرے گا: ”اے اللہ! مجھے جنت کے دروازے کے قریب کر دے۔“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”کیا تو نے آئندہ سوال نہ کرنے کا وعدہ نہیں کیا تھا؟“ وہ عرض کرے گا: ”اے اللہ! میں تیری مخلوق میں سب سے زیادہ بدبخت نہیں ہوں۔“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”تو کیا تو پھر کوئی سوال کرے گا؟“ وہ عرض کرے گا: ”اے اللہ! تیری عزت کی قسم! اب دوبارہ سوال نہ کروں گا۔“ اس نے حدیث ذکر کی۔ آخر میں ہے کہ جب اسے جنت میں داخل ہونے کی اجازت مل جائے گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”تمنا کر۔“ جب اس کی تمام خواہشات ختم ہو جائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”اس اس طرح کی تمنا کر۔“ اللہ اسے یاد دلاتا رہے گا، یہاں تک کہ جب اس کی تمام خواہشات ختم ہو جائیں گی (تو اللہ فرمائے گا): ”یہ سب تیرے لیے ہے اور اس جتنا مزید بھی تیرے لیے ہے۔“ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تیرے لیے ہے اور اس کے برابر دس گنا مزید بھی۔“
(ب) ایوب علیہ السلام کے بارے میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ انہوں نے کہا: «بِعِزَّتِكَ لَا غِنَى بِي عَنْ بَرَكَتِكَ» ”اے اللہ! تیری عزت کی قسم! ہم تیری برکت سے لاپرواہ نہیں ہیں۔“
(ج) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے جہنم کے قصے کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ وہ کہے گی: «بِعِزَّتِكَ قَطْ قَطْ» ”تیری عزت کی قسم! بس بس۔“
(د) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے اس آدمی کے بارے میں بیان فرماتے ہیں، جسے جنت میں ایک غوطہ دیا جائے گا (یعنی سیر کروائی جائے گی) تو اس سے کہا جائے گا: ”کیا تو نے کبھی دنیا میں کوئی غم دیکھا؟“ وہ عرض کرے گا: ”تیری عزت و جلال کی قسم! میں نے کبھی کوئی غم نہیں دیکھا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 19894
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا مَعْبَدُ بْنُ هِلَالٍ الْعَنَزِيُّ وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا، قَالَ: أَتَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي رَهْطٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ وَسَمَّاهُمْ لَنَا، نَسْأَلُهُ، عَنْ حَدِيثِ الشَّفَاعَةِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ فِي سُؤَالِهِ، وَجَوَابِهِ، وَخُرُوجِهِمْ مِنْ عِنْدِهِ، وَدُخُولِهِمْ عَلَى الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، قَالَ الْحَسَنُ: حَدَّثَنِي كَمَا حَدَّثَكُمْ، قَالَ:، ثُمَّ قَالَ: يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَأَجِيءُ فِي الرَّابِعَةِ، فَأَحْمَدُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا "، ⦗٧٤⦘ فَيُقَالُ لِي: " يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ، قُلْ، يُسْمَعْ لَكَ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ "، فَأَقُولُ: " يَا رَبِّ، ائْذَنْ لِي فِيمَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ "، فَيَقُولُ: " لَيْسَ ذَلِكَ إِلَيْكَ، وَلَكِنِّي، وَعِزَّتِي، وَكِبْرِيَائِي، وَعَظَمَتِي، لَأُخْرِجَنَّ مِنْهَا مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، زَادَ فِيهِ " وَجَلَالِي "، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ، وَغَيْرِهِ، عَنْ حَمَّادٍ.
حافظ ثناء اللہ
معبد بن ہلال عنزی فرماتے ہیں کہ میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ وہ اہل بصرہ کے گروہ میں تھے، انہوں نے ہمارا نام بتایا تو ہم نے ان سے شفاعت والی حدیث کے بارے میں سوال کیا۔ انہوں نے حدیث کا تذکرہ فرمایا، سوال و جواب اور ان کے پاس سے نکلنے کا تذکرہ کیا اور حسن بن ابوالحسن کے پاس آنے کا تذکرہ کیا، حضرت فرمانے لگے: مجھے ویسے بیان کرو جیسے انہوں نے بیان کیا ہے، پھر کہنے لگے: نبی ﷺ نے فرمایا: ”میں چوتھی مرتبہ آؤں گا اور اللہ کی تعریفیں بیان کروں گا، پھر سجدہ میں گر پڑوں گا۔ مجھے کہا جائے گا: اے محمد ﷺ! اپنا سر اٹھائیے، کہیے آپ کی بات سنی جائے گی۔ سوال کرو دیا جائے گا، سفارش کرو قبول کی جائے گی۔ میں کہوں گا: اے میرے رب! جس نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ پڑھا ان کے بارے میں مجھے اجازت، تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: یہ آپ کا کام نہیں، مجھے میری عزت و کبریائی اور عظمت کی قسم! میں ضرور ان کو نکالوں گا جس نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کہا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 19895
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
أَخْبَرَنَا الشَّرِيفَانِ أَبُو الْفَتْحِ نَاصِرُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعُمَرِيُّ، وَأَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ أَشْعَثَ الْقُرَشِيُّ، قَالَا: أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا شَيْبَانُ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَوْلًى لِأَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ: دَخَلَ أَبُو مَسْعُودٍ عَلَى حُذَيْفَةَ، فَقَالَ: اعْهَدْ إِلِيَّ، فَقَالَ لَهُ: أَلَمْ يَأْتِكَ الْيَقِينُ؟ قَالَ: بَلَى، وَعِزَّةِ رَبِّي، قَالَ: " فَاعْلَمْ أَنَّ الضَّلَالَةَ حَقَّ الضَّلَالَةِ أَنْ تَعْرِفَ مَا كُنْتَ تُنْكِرُ، وَأَنْ تُنْكِرَ مَا كُنْتَ تَعْرِفُ، وَإِيَّاكَ وَالتَّلَوُّنَ، فَإِنَّ دِينَ اللهِ وَاحِدٌ ".
حافظ ثناء اللہ
حمید بن ہلال رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ کے غلام نے مجھے بیان کیا کہ ابومسعود رضی اللہ عنہ، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے: ”مجھ سے وعدہ لیں۔“ وہ کہنے لگے: ”کیا آپ کو یقین نہیں آیا؟“ کہتے ہیں: ”کیوں نہیں، میرے رب کی قسم!“ انہوں نے فرمایا: ”گمراہی کی پوری پہچان یہ ہے کہ جس (بات) کو آپ (پہلے) برا جانتے تھے، (اب) اسے پہچاننے لگیں اور جس کی (پہلے سے) پہچان ہے، اس کا انکار کرنے لگیں، اور مختلف آراء سے بچو کیونکہ اللہ تعالیٰ کا دین ایک ہی ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 19896
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَأَخْبَرَنَا الشَّرِيفَانِ أَبُو الْفَتْحِ، وَأَبُو عَلِيٍّ، قَالَا: أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شَرِيكٌ، عَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ، أَوْ سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَأَنَا أَسْمَعُ عَنِ الْخَمْرِ؟ فَقَالَ: " لَا وَسَمْعِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، لَا يَحِلُّ بَيْعُهَا، وَلَا ابْتِيَاعُهَا ".
حافظ ثناء اللہ
ابو عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا یا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا (اور میں سن رہا تھا) شراب کے بارے میں، وہ فرماتے ہیں: اللہ کی سماعت کی قسم! اس کی خرید و فروخت جائز نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 19897
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ شَوْذَبَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَلَفَ بِسُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ فَعَلَيْهِ بِكُلِّ آيَةِ كَفَّارَةٌ، إِنْ شَاءَ بَرَّ، وَإِنْ شَاءَ فَجَرَ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت حسن رحمہ اللہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے قرآن کی کسی سورہ کی قسم اٹھائی تو اس پر ہر آیت کے عوض کفارہ ہے، اگرچہ وہ نیک ہو یا فاجر۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 19898
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرَدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَلَفَ بِسُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ، فَعَلَيْهِ بِكُلِّ آيَةٍ يَمِينُ صَبْرٍ، مَنْ شَاءَ بَرَّ، وَمَنْ شَاءَ فَجَرَ "،.
حافظ ثناء اللہ
حضرت حسن رحمہ اللہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے قرآن کی کسی سورت کی قسم اٹھائی تو ہر آیت کا عوض قسم کا کفارہ ہے، جو چاہے نیکی کرے اور جو چاہے فاجر بنے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 19899
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
قَالَ وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، هَذَا الْحَدِيثُ إِنَّمَا رُوِيَ مِنْ وَجْهَيْنِ جَمِيعًا مُرْسَلًا، وَرُوِيَ عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ مَوْصُولًا مَرْفُوعًا، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ، وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے مرفوع اور موصول بیان ہوئی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 19900
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الضَّبِّيُّ، ثنا ⦗٧٥⦘ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي كَنَفٍ قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أَمْشِي مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي سُوقِ الدَّقِيقِ، إِذْ سَمِعَ رَجُلًا يَحْلِفُ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: إِنَّ عَلَيْهِ لِكُلِّ آيَةٍ مِنْهَا يَمِينًا، قَالَ الْأَعْمَشُ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ فَقَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: " مَنْ حَلَفَ بِالْقُرْآنِ فَعَلَيْهِ بِكُلِّ آيَةٍ يَمِينٌ، وَمَنْ كَفَرَ بِآيَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ فَقَدْ كَفَرَ بِهِ كُلِّهِ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن مرہ رحمہ اللہ حضرت ابو کنف رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم آٹے کے بازار میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ چل رہے تھے، اچانک انہوں نے ایک آدمی کو سنا، وہ قرآن کی کسی سورہ کی قسم اٹھا رہا تھا تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ اس پر ہر آیت کے عوض کفارہِ قسم ہے، اعمش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم رحمہ اللہ سے تذکرہ کیا تو فرمانے لگے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس نے قرآن کی قسم اٹھائی، اس پر ہر آیت کے عوض قسم کا کفارہ ہے اور جس نے ایک آیت کا انکار کر دیا، اس نے پورے قرآن کا انکار کر دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 19901
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ الجرح والتعديل 1722»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ خُوَيْلِدٍ الْعَنْبَرِيِّ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَتَّى أَتَى السُّدَّةَ - سُدَّةً بِالسُّوقِ - فَاسْتَقْبَلَهَا، ثُمَّ قَالَ: " إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهَا، وَخَيْرِ أَهْلِهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا، وَشَرِّ أَهْلِهَا "، ثُمَّ مَشَى حَتَّى أَتَى دَرَجَ الْمَسْجِدِ، فَسَمِعَ رَجُلًا يَحْلِفُ بِسُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ، فَقَالَ: " يَا حَنْظَلَةُ أَتَرَى هَذَا يُكَفِّرُ عَنْ يَمِينِهِ، إِنَّ كُلَّ آيَةٍ كَفَّارَةٌ، أَوْ قَالَ: يَمِينٌ "، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مِسْعَرٌ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، وَقَالَ شُعْبَةُ: سُوَيْدُ بْنُ حَنْظَلَةَ، وَقَالَ سُفْيَانُ: هُوَ عَبْدُ اللهِ بْنُ حَنْظَلَةَ.
حافظ ثناء اللہ
حنظلہ بن خویلد عنبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلا، یہاں تک کہ وہ سدہ (بازار کی اونچی جگہ) کے پاس آئے۔ وہ ان کی طرف متوجہ ہوئے، پھر فرمایا: میں تجھ سے اس کی بھلائی اور اس کے اہل کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں، اس کی برائی اور اس کے اہل کی برائی سے پناہ طلب کرتا ہوں۔ پھر وہ مسجد کی سیڑھیوں پر آئے، انہوں نے ایک آدمی کو سنا، وہ قرآن کی قسم اٹھا رہا تھا، کہنے لگے: اے حنظلہ! کیا تو جانتا ہے اس پر قسم کا کفارہ ہے؟ ہر آیت کے عوض کفارہ ہے، یا فرمایا: ہر قسم کے عوض۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 19902
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرَدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَنْظَلَةَ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَسَمِعَ رَجُلًا يَحْلِفُ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ، فَقَالَ: " أَتُرَاهُ مُكَفَّرًا عَلَيْهِ بِكُلِّ آيَةٍ يَمِينٌ ". فَقُولُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، مَعَ الْحَدِيثِ الْمُرْسَلِ فِيهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْحَلِفَ بِالْقُرْآنِ يَكُونُ يَمِينًا فِي الْجُمْلَةِ، ثُمَّ التَّغْلِيظُ فِي الْكَفَّارَةِ مَتْرُوكٌ بِالْإِجْمَاعِ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، انہوں نے ایک آدمی سے سنا، وہ قرآن کی قسم اٹھا رہا تھا، آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”کیا تو جانتا ہے اس پر ہر آیت کے عوض قسم کا کفارہ ہے؟“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرسل حدیث میں ہے کہ قرآن کی قسم پر تغلیظاً کفارہ واجب کیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 19903
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ الْعَنَزِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ عُثْمَانَ بْنَ سَعِيدٍ الدَّارِمِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيَّ، يَقُولُ: قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: " أَدْرَكْتُ النَّاسَ مُنْذُ سَبْعِينَ سَنَةٍ يَقُولُونَ: اللهُ الْخَالِقُ، وَمَا سِوَاهُ مَخْلُوقٌ، وَالْقُرْآنُ كَلَامُ اللهِ عَزَّ وَجَلِّ ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے لوگوں کو ستر سال سے پایا، وہ کہتے ہیں: اللہ خالق ہے اور باقی سب مخلوق ہیں اور قرآن اللہ کا کلام ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 19904
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ مَحْمُودٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ الرَّبِيعَ بْنَ سُلَيْمَانَ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو شُعَيْبٍ، أَنَّ حَفْصًا ⦗٧٦⦘ الْفَرْدَ نَاظَرَ الشَّافِعِيَّ، فَقَالَ حَفْصٌ: " الْقُرْآنُ مَخْلُوقٌ "، فَقَالَ لَهُ الشَّافِعِيُّ: " كَفَرْتَ بِاللهِ الْعَظِيمِ ".
حافظ ثناء اللہ
حفص فرماتے ہیں کہ قرآن مخلوق ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: تو نے اللہ عظیم کے ساتھ کفر کیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 19905