کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جس نے اللہ کی نافرمانی کے کام کی نذر مانی۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ: أَصْلُ مَعْقُولِ قَوْلِ عَطَاءٍ فِي هَذَا: أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَى أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ قَضَاءٌ، وَلَا كَفَّارَةٌ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " وَإِنَّمَا أَبْطَلَ اللهُ النَّذْرَ فِي الْبَحِيرَةِ وَالسَّائِبَةِ أَنَّهَا مَعْصِيَةٌ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي ذَلِكَ كَفَّارَةً، وَبِذَلِكَ جَاءَتِ السُّنَّةُ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس بارے میں عطاء رحمہ اللہ کے قول کی عقلی بنیاد یہ ہے کہ وہ اس طرف گئے ہیں کہ اس پر نہ قضا ہے اور نہ کفارہ۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے بحیرہ اور سائبہ (جانوروں) کی نذر کو اسی لیے باطل قرار دیا کہ وہ معصیت ہے، اور اس میں کسی کفارے کا ذکر نہیں فرمایا، اور اسی کے مطابق سنت بھی وارد ہوئی ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے بحیرہ اور سائبہ (جانوروں) کی نذر کو اسی لیے باطل قرار دیا کہ وہ معصیت ہے، اور اس میں کسی کفارے کا ذکر نہیں فرمایا، اور اسی کے مطابق سنت بھی وارد ہوئی ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، وَابْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأَيْلِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللهَ فَلْيُطِعْهُ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللهَ فَلَا يَعْصِهِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ، وَأَبِي نُعَيْمٍ، عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
قاسم بن محمد، نبی ﷺ کی بیوی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اطاعت میں نذر مانی وہ اطاعت کرے، اور جس نے اللہ کی نافرمانی میں نذر مانی وہ نافرمانی نہ کرے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ، وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَكَانَ فِي حَدِيثِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ: أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ نَذَرَتْ وَهَرَبَتْ عَلَى نَاقَةٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ نَجَّاهَا اللهُ عَلَيْهَا لَتَنْحَرَنَّهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْقَوْلَ، وَأَخَذَ نَاقَتَهُ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَمْ يَأْمُرْهَا أَنْ تَنْحَرَ مِثْلَهَا، وَلَا تُكَفِّرَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَبِذَلِكَ نَقُولُ: إِنَّ مَنْ نَذَرَ تَبَرُّرًا أَنْ يَنْحَرَ مَالَ غَيْرِهِ، فَالنَّذْرُ سَاقِطٌ عَنْهُ، وَمَنْ نَذَرَ مَا لَا يُطِيقُ أَنْ يَعْمَلَهُ بِحَالٍ سَقَطَ النَّذْرُ عَنْهُ، لِأَنَّهُ لَا يَمْلِكُ أَنْ يَعْمَلَهُ، فَهُوَ كَمَا لَا يَمْلِكُ مَا سِوَاهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نافرمانی میں اور جس چیز کا ابنِ آدم مالک نہیں ہے، اس میں کوئی نذر نہیں۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عبدالوہاب ثقفی کی اسی سند والی روایت میں ہے کہ انصار کی ایک عورت نبی ﷺ کی اونٹنی پر (سوار ہو کر) بھاگ نکلی اور اس نے نذر مانی کہ اگر اللہ نے اسے اس پر نجات دی تو وہ اسے ضرور ذبح کرے گی، تو آپ ﷺ نے یہ بات فرمائی اور اپنی اونٹنی لے لی۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نہ تو آپ ﷺ نے اسے اس جیسی اونٹنی ذبح کرنے کا حکم دیا اور نہ ہی کفارہ دینے کا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ جس نے نیکی کے طور پر غیر کا مال ذبح کرنے کی نذر مانی تو وہ نذر اس سے ساقط ہو جائے گی، اور جس نے ایسی نذر مانی جسے وہ کسی حال میں پورا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تو بھی نذر ساقط ہو جائے گی؛ کیونکہ وہ اسے کرنے کا اختیار نہیں رکھتا، تو یہ ایسے ہی ہے جیسے وہ کسی اور چیز کا مالک نہ ہو۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عبدالوہاب ثقفی کی اسی سند والی روایت میں ہے کہ انصار کی ایک عورت نبی ﷺ کی اونٹنی پر (سوار ہو کر) بھاگ نکلی اور اس نے نذر مانی کہ اگر اللہ نے اسے اس پر نجات دی تو وہ اسے ضرور ذبح کرے گی، تو آپ ﷺ نے یہ بات فرمائی اور اپنی اونٹنی لے لی۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نہ تو آپ ﷺ نے اسے اس جیسی اونٹنی ذبح کرنے کا حکم دیا اور نہ ہی کفارہ دینے کا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ جس نے نیکی کے طور پر غیر کا مال ذبح کرنے کی نذر مانی تو وہ نذر اس سے ساقط ہو جائے گی، اور جس نے ایسی نذر مانی جسے وہ کسی حال میں پورا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تو بھی نذر ساقط ہو جائے گی؛ کیونکہ وہ اسے کرنے کا اختیار نہیں رکھتا، تو یہ ایسے ہی ہے جیسے وہ کسی اور چیز کا مالک نہ ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ عَائِذٍ الطَّائِيُّ قَالَ: " قُلْتُ لِلشَّعْبِيِّ: رَجُلٌ نَذَرَ أَنْ يَنْحَرَ ابْنَهُ؟ "، فَقَالَ: " لَعَلَّكَ مِنَ الْقَيَّاسِينَ، مَا عَلِمْتُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ كَانَ أَطْلَبَ لَعِلْمٍ فِي أُفُقٍ مِنَ الْآفَاقِ مِنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: " لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
ایوب بن عائذ طائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے شعبی رحمہ اللہ سے کہا کہ ایک آدمی نے نذر مانی کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کرے گا۔ انہوں نے کہا: معلوم ہوتا ہے تو قیاس کرنے والوں میں سے ہے، میں لوگوں میں سے کسی ایسے کو نہیں جانتا جو «الأطراف» یعنی اطراف (کناروں) سے علم حاصل کرنے والا ہو مسروق رحمہ اللہ سے بڑھ کر۔ وہ فرماتے ہیں: ”نافرمانی میں نذر نہیں ہے۔“