کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: قسم پوری کرنے کا بیان جب اسے پورا کرنا طاعت ہو، یا اسے توڑنا اسے پورا کرنے سے بہتر نہ ہو۔
حدیث نمبر: 19865
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السَّكَنِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَأنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ الْخُوَارِزْمِيُّ الْحَافِظُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْدَانَ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ أَبُو عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ، وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ، نَهَانَا عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ، أَوْ حَلْقَةِ الذَّهَبِ، وَعَنْ آنِيَةِ الْفِضَّةِ، وَعَنْ لِبْسِ الْحَرِيرِ، وَالدِّيبَاجِ، وَالْإِسْتَبْرَقِ، وَالْمِيثَرَةِ، وَالْقَسِّيِّ، وَأَمَرَنَا بِسَبْعٍ، أَمَرَنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَرَدِّ السَّلَامِ، وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَإِجَابَةِ الدَّاعِي، وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ، وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ ". لَفْظُ حَدِيثِ الْخُوَارِزْمِيِّ، وَحَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ بِمَعْنَاهُ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَأَبِي عُمَرَ الْحَوْضِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ہمیں سات کام کرنے کا حکم دیا اور سات سے منع کیا: ”(1) سونے کی انگوٹھی یا چھلا پہننے (2) چاندی کے برتن استعمال کرنے اور (3) ریشم (4) موٹا ریشم (5) باریک ریشم (6) سرخ گدی (7) قسی (علاقے کا بنا ہوا ریشمی کپڑا) پہننے سے منع فرمایا اور سات کام کرنے کا حکم فرمایا: (1) بیمار پرسی کرنا (2) جنازہ پڑھنا (3) سلام کا جواب دینا (4) چھینک کا جواب دینا (5) دعوت کو قبول کرنا (6) مظلوم کی مدد کرنا (7) نیکی کی قسم یعنی سچی قسم۔“
حدیث نمبر: 19866
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو عَامِرٍ مُوسَى بْنُ عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَخْبَرَنِي حَرِيزٌ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ شُفْعَةَ، عَنْ نَاسِجٍ الْحَضْرَمِيِّ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٦٢⦘ بِرَجُلَيْنِ يَتَحَالَفَانِ عَلَى بَيْعٍ، يَقُولُ أَحَدُهُمَا: وَاللهِ لَا أَخْفِضُكَ، وَالْآخَرُ يَقُولُ: وَاللهِ لَا أَزِيدُكَ، ثُمَّ رَأَى الشَّاةَ قَدِ اشْتَرَاهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَجَبَ أَحَدُهُمَا "، يَعْنِي الْإِثْمَ وَالْكَفَّارَةَ،. تَفَرَّدَ بِهِ حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ بِإِسْنَادِهِ هَذَا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
ناصح الحضرمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ دو آدمیوں کے پاس سے گزرے جو بیع کی خاطر آپس میں قسمیں اٹھا رہے تھے، ایک کہہ رہا تھا: اللہ کی قسم! کم نہ کروں گا اور دوسرا کہہ رہا تھا: میں زیادہ نہ کروں گا، پھر آپ ﷺ نے ایک بکری کو دیکھا جو اس نے خریدی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے دو چیزوں میں سے ایک واجب کر لیا یعنی گناہ اور کفارہ۔“
حدیث نمبر: 19867
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْمَيْمُونِيُّ، ثنا رَوْحٌ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي الْفَيْضِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ حِمْصَ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُسَاوِمُ رَجُلًا بِغَنَمٍ، فَحَلَفَ أَنْ لَا يَبِيعَهَا، ثُمَّ قَالَ بَعْدُ: أَبِيعُهَا، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: " إِنِّي لَأكْرَهُ أَنْ أَحْمِلَكَ عَلَى إِثْمٍ، فَأَبَى أَنْ يَشْتَرِيَهَا ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ جو اہل حمص میں سے ہیں بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابودرداء رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ ایک آدمی سے بکری کا سودا کر رہے تھے، تو اس نے قسم اٹھائی کہ وہ اس کو فروخت نہ کرے گا، بعد میں کہنے لگا: میں فروخت کرتا ہوں، تو ابودرداء رضی اللہ عنہ نے اس سے بکری خریدنے سے انکار کر دیا کہ میں تجھے گناہ پر نہیں ابھارنا چاہتا۔