کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جس نے اس (نافرمانی کی نذر) میں قسم کا کفارہ مقرر کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ أنبأ يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ ". هَذَا الْحَدِيثُ لَمْ يَسْمَعْهُ الزُّهْرِيُّ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”نافرمانی میں نذر نہیں اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے۔“
اس حدیث کو زہری نے ابوسلمہ سے نہیں سنا۔
اس حدیث کو زہری نے ابوسلمہ سے نہیں سنا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ فِي كِتَابِ يُونُسَ الْأَصْلِ أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: وَبَلَغَنِي عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوسلمہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ ”نافرمانی میں نذر نہیں اور اس کا کفارہ قسم والا ہے۔“
قَالَ يَعْقُوبُ، وَحَدَّثَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ الْأُمَوِيُّ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ خَالِدٍ، أنبأ يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: حَدَّثَ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ ". هَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ وَإِنَّمَا سَمِعَهُ مِنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَرْقَمَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ.
حافظ ثناء اللہ
ابوسلمہ بن عبدالرحمن نبی ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نافرمانی میں نذر نہیں، اس کا کفارہ قسم والا ہے۔“
یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ زہری نے اسے ابوسلمہ سے نہیں سنا، بلکہ سلیمان بن ارقم سے سنا ہے، جو یحییٰ بن ابی کثیر سے اور وہ ابوسلمہ سے روایت کرتے ہیں۔
یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ زہری نے اسے ابوسلمہ سے نہیں سنا، بلکہ سلیمان بن ارقم سے سنا ہے، جو یحییٰ بن ابی کثیر سے اور وہ ابوسلمہ سے روایت کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ فِرَاسٍ الْمَالِكِيُّ بِمَكَّةَ ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ قَالَا: ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ هُوَ ابْنُ بِلَالٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَرْقَمَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ الَّذِي كَانَ يَسْكُنُ الْيَمَامَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُخْبِرُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ "..
حافظ ثناء اللہ
ابوسلمہ بن عبدالرحمن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نافرمانی میں نذر نہیں اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے۔“
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ الْمُؤَذِّنُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ خَنْبٍ أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ فَذَكَرَهُ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا وَهْمٌ مِنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَرْقَمَ، فَيَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ إِنَّمَا رَوَاهُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْحَنْظَلِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَذَلِكَ رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ..
حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن بلال رحمہ اللہ نے بھی اسی طرح ذکر کیا ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ سلیمان بن ارقم کا وہم ہے، کیونکہ یحییٰ بن ابی کثیر نے اسے محمد بن زبیر حنظلی سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کیا ہے، اور علی بن مبارک نے بھی یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ سلیمان بن ارقم کا وہم ہے، کیونکہ یحییٰ بن ابی کثیر نے اسے محمد بن زبیر حنظلی سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کیا ہے، اور علی بن مبارک نے بھی یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ قَالَ: قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: حَدَّثَ أَبُو سَلَمَةَ، يَدُلُّ ذَلِكَ عَلَى أَنَّ الزُّهْرِيَّ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ. قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ: وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ حَدِيثُ أَيُّوبَ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، قَالَ أَحْمَدُ: وَإِنَّمَا الْحَدِيثُ حَدِيثُ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: أَرَادَ أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ أَرْقَمَ وَهِمَ فِيهِ، وَحَمَلَهُ عَنْهُ الزُّهْرِيُّ وَأَرْسَلَهُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَاهُ بَقِيَّةُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ يَحْيَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ بِإِسْنَادِ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ مِثْلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے اس طرح نقل فرماتے ہیں۔
ابن مبارک نے اس حدیث کے بارے میں کہا: ”ابوسلمہ نے بیان کیا“، یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ زہری نے اسے ابوسلمہ سے نہیں سنا۔ احمد بن محمد کہتے ہیں: اس کی تصدیق ایوب بن سلیمان بن بلال کی حدیث سے ہوتی ہے۔ احمد کہتے ہیں: دراصل یہ حدیث علی بن مبارک کی ہے جو یحییٰ بن ابی کثیر سے، وہ محمد بن زبیر سے، وہ اپنے والد سے، وہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ان کی مراد یہ ہے کہ سلیمان بن ارقم کو اس میں وہم ہوا، زہری نے اسے ان سے لیا اور ابوسلمہ سے مرسل بیان کر دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: بقیہ نے اسے اوزاعی سے، انہوں نے یحییٰ سے، انہوں نے محمد بن زبیر سے علی بن مبارک کی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کیا ہے۔
ابن مبارک نے اس حدیث کے بارے میں کہا: ”ابوسلمہ نے بیان کیا“، یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ زہری نے اسے ابوسلمہ سے نہیں سنا۔ احمد بن محمد کہتے ہیں: اس کی تصدیق ایوب بن سلیمان بن بلال کی حدیث سے ہوتی ہے۔ احمد کہتے ہیں: دراصل یہ حدیث علی بن مبارک کی ہے جو یحییٰ بن ابی کثیر سے، وہ محمد بن زبیر سے، وہ اپنے والد سے، وہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ان کی مراد یہ ہے کہ سلیمان بن ارقم کو اس میں وہم ہوا، زہری نے اسے ان سے لیا اور ابوسلمہ سے مرسل بیان کر دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: بقیہ نے اسے اوزاعی سے، انہوں نے یحییٰ سے، انہوں نے محمد بن زبیر سے علی بن مبارک کی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ هُوَ ابْنُ مَزَيْدٍ أَخْبَرَنِي أَبِي، أنبأ الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنْظَلَةَ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا نَذْرَ فِي غَضِبٍ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”غصے میں نذر ماننا نہیں ہے، اس کا کفارہ قسم والا ہے۔“
وَرَوَاهُ هِقْلُ بْنُ زِيَادٍ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي حَنْظَلَةَ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِمْرَانَ مِثْلَهُ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرِ بْنِ طُوَيْطٍ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّيَ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي هِقْلٌ فَذَكَرَهُ وَهَذَا الْحَدِيثُ مَشْهُورٌ بِمُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْحَنْظَلِيِّ وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِي إِسْنَادِهِ وَمَتْنِهِ.
حافظ ثناء اللہ
ہِقْل رحمہ اللہ نے بھی اسی طرح ذکر کیا ہے۔
یہ حدیث محمد بن زبیر حنظلی کے واسطے سے مشہور ہے اور اس کی سند اور متن میں ان پر اختلاف کیا گیا ہے۔
یہ حدیث محمد بن زبیر حنظلی کے واسطے سے مشہور ہے اور اس کی سند اور متن میں ان پر اختلاف کیا گیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا رَوْحٌ، ثنا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْحَنْظَلِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”نافرمانی میں نذر نہیں اور اس کا کفارہ قسم والا ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْكَرَابِيسِيُّ، ثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا نَذْرَ فِي غَضَبٍ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ ". وَهَذَا مُنْقَطِعٌ الزُّبَيْرُ الْحَنْظَلِيُّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عِمْرَانَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”ناراضگی میں نذر نہیں اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے۔“
یہ روایت منقطع ہے، زبیر حنظلی نے سیدنا عمران رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا۔
یہ روایت منقطع ہے، زبیر حنظلی نے سیدنا عمران رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: قَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ: قِيلَ لِمُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْحَنْظَلِيِّ: سَمِعَ أَبُوكَ مِنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ؟ " قَالَ: " لَا " قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَالَّذِي يَدُلُّ عَلَى هَذَا.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ محمد بن زبیر حنظلی سے کہا گیا کہ کیا تیرے والد نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں۔
مَا أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْحَنْظَلِيُّ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَأَلَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَجُلٍ ⦗١٢١⦘ حَلَفَ أَنَّهُ لَا يُصَلِّي فِي مَسْجِدِ قَوْمِهِ؟ فَقَالَ عِمْرَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ ". وَقِيلَ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْحَنْظَلِيِّ، عَنْ رَجُلٍ صَحِبَهُ، عَنْ عِمْرَانَ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن زبیر حنظلی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے بیان کیا کہ اس نے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے ایک آدمی کے بارے میں سوال کیا جس نے قسم اٹھائی کہ وہ اپنی قوم کی مسجد میں نماز نہ پڑھے گا۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”اللہ کی نافرمانی میں نذر نہیں، اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا أَبُو عَرُوبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ رَجُلٍ صَحِبَهُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " النَّذْرُ نَذْرَانِ: فَمَا كَانَ مِنْ نَذْرٍ فِي طَاعَةِ اللهِ فَذَلِكَ لَكَ، وَفِيهِ الْوَفَاءُ، وَمَا كَانَ مِنْ نَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ، فَذَلِكَ لِلشَّيْطَانِ، وَلَا وَفَاءَ فِيهِ، فَيُكَفِّرُهُ مَا يُكَفِّرُ الْيَمِينَ ". وَقِيلَ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن زبیر رحمہ اللہ، سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے شاگرد سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”نذر دو قسم کی ہے: 1 نذر جو اللہ کی اطاعت میں ہو اس کو پورا کرنا ضروری ہے۔ 2 وہ نذر جو اللہ کی نافرمانی کی ہو، یہ شیطان کے لیے ہے، اس کا پورا کرنا درست نہیں ہے، اس کا کفارہ قسم والا کفارہ ہے۔“
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ ثنا مُطَيَّنٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا مُعَاوِيَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ ". وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ عَنْ سُفْيَانَ بِإِسْنَادِهِ " لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ، أَوْ فِي غَضَبٍ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ " وَهَذَا أَيْضًا مُنْقَطِعٌ وَلَا يَصِحُّ عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ سَمَاعٌ مِنْ وَجْهٍ صَحِيحٍ يَثْبُتُ مِثْلُهُ.
حافظ ثناء اللہ
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نافرمانی میں نذر نہیں اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہی ہے۔“
(ب) سفیان اپنی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ ”نافرمانی اور غضب میں نذر نہیں اور اس کا کفارہ قسم کے کفارہ کی طرح ہے۔“
یہ روایت بھی منقطع ہے، اور حسن کا عمران رضی اللہ عنہ سے سماع کسی صحیح سند سے ثابت نہیں ہے۔
(ب) سفیان اپنی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ ”نافرمانی اور غضب میں نذر نہیں اور اس کا کفارہ قسم کے کفارہ کی طرح ہے۔“
یہ روایت بھی منقطع ہے، اور حسن کا عمران رضی اللہ عنہ سے سماع کسی صحیح سند سے ثابت نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْمَدِينِيِّ يَقُولُ: " لَمْ يَصِحَّ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَمَاعٌ مِنْ وَجْهٍ صَحِيحٍ يَثْبُتُ ". ⦗١٢٢⦘ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَمُحَمَّدُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْحَنْظَلِيُّ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
علی بن مدینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”حسن کا سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے سماع کسی صحیح سند سے ثابت نہیں ہے۔“
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: محمد بن زبیر حنظلی قوی نہیں ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: محمد بن زبیر حنظلی قوی نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ حَمَّادٍ يَقُولُ: قَالَ الْبُخَارِيُّ: مُحَمَّدُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْحَنْظَلِيُّ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ، وَفِيهِ نَظَرٌ. قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ غَيْرُهُ، عَنِ الْحَسَنِ كَمَا.
حافظ ثناء اللہ
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: محمد بن زبیر حنظلی منکر الحدیث ہے اور اس میں کلام ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دوسروں نے اسے حسن سے اس طرح روایت کیا ہے جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دوسروں نے اسے حسن سے اس طرح روایت کیا ہے جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مَهْرَوَيْهِ الرَّازِيُّ ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ اللَّيْثِ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاوُدَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ اللَّيْثِ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَخِي ابْنِ وَهْبٍ، ثنا عَمِّي، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ مُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كَفَّارَةُ النَّذْرِ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ ". زَادَ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاوُدَ فِي رِوَايَتِهِ: قَالَ أَبُو حَاتِمٍ وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الرَّازِيُّ: رَوَى عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ مُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ هَذَا الْحَدِيثَ الْوَاحِدَ، وَقَدْ رَوَى مُبَارَكٌ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ أَحَادِيثَ، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَأَصَحُّ شَيْءٍ فِيهِ عَنِ الْحَسَنِ مَا.
حافظ ثناء اللہ
حضرت حسن رحمہ اللہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نذر کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْعَوَقِيُّ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَفَّانُ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا قَتَادَةُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ هَيَّاجِ بْنِ عِمْرَانَ الْبُرْجُمِيِّ أَنَّ غُلَامًا لِأَبِيهِ أَبَقَ، فَجَعَلَ لِلَّهِ عَلَيْهِ، لَئِنْ قَدِرَ عَلَيْهِ لَيَقْطَعَنَّ يَدَهُ، فَلَمَّا قَدِرَ عَلَيْهِ بَعَثَنِي إِلَى عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحُثُّ فِي خُطْبَتِهِ عَلَى الصَّدَقَةِ، وَيَنْهَى عَنِ الْمُثْلَةِ فَقَالَ: " قُلْ لِأَبِيكَ فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَتَجَاوَزْ عَنْ غُلَامِهِ "، قَالَ: " وَبَعَثَنِي إِلَى سَمُرَةَ فَقَالَ: " سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحُثُّ فِي خُطْبَتِهِ عَلَى الصَّدَقَةِ، وَيَنْهَى عَنِ الْمُثْلَةِ، فَقُلْ لِأَبِيكَ يُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَتَجَاوَزْ عَنْ غُلَامِهِ ". وَهَذَا إِسْنَادٌ مَوْصُولٌ إِلَّا أَنَّ الْأَمْرَ بِالتَّكْفِيرِ عَنْ يَمِينِهِ مَوْقُوفٌ فِيهِ عَلَى عِمْرَانَ وَسَمُرَةَ وَأَمَّا الْهَيَّاجُ بْنُ عِمْرَانَ فَإِنَّهُ مُخْتَلَفٌ فِي اسْمِهِ، فَقِيلَ: هَكَذَا وَقِيلَ: حَيَّانُ بْنُ عِمْرَانَ الْبُرْجُمِيُّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حسن رحمہ اللہ، ہیاج بن عمران برجمی سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے والد کا غلام بھاگ گیا، انہوں نے قسم کھائی کہ اگر اس پر قدرت پائی تو ضرور اس کا ہاتھ کاٹ دیں گے۔ جب میرے والد نے اس پر قدرت پا لی تو انہوں نے مجھے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی طرف روانہ کیا۔ میں نے ان سے سوال کیا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا، آپ ﷺ خطبہ کے دوران ”صدقہ کی ترغیب دے رہے تھے اور «مُثْلَة» سے منع فرما رہے تھے۔“ انہوں نے کہا: اپنے والد سے کہو کہ اپنی قسم کا کفارہ دیں اور غلام کو معاف کر دیں۔ ہیاج کہتے ہیں: میرے والد نے مجھے سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ کی طرف روانہ کیا، انہوں نے بھی کہا: میں نے نبی ﷺ کو سنا، آپ ﷺ خطبہ کے دوران ”صدقہ پر ابھار رہے تھے اور «مُثْلَة» سے منع فرما رہے تھے۔“ انہوں نے فرمایا: اپنے والد سے کہو کہ اپنی قسم کا کفارہ دیں اور اپنے غلام کو معاف کر دیں۔
یہ سند موصول ہے، البتہ اس میں قسم کا کفارہ دینے کا حکم سیدنا عمران اور سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہما پر موقوف ہے۔ اور ہیاج بن عمران کے نام میں اختلاف ہے، ایک قول یہی ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ حیان بن عمران برجمی ہیں۔
یہ سند موصول ہے، البتہ اس میں قسم کا کفارہ دینے کا حکم سیدنا عمران اور سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہما پر موقوف ہے۔ اور ہیاج بن عمران کے نام میں اختلاف ہے، ایک قول یہی ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ حیان بن عمران برجمی ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ، ثنا هَاشِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّبَعِيُّ، ثنا عَنْبَسَةُ بْنُ خَالِدٍ الْأَيْلِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ نَذَرَ نَذْرًا لَمْ يُسَمِّهِ فَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ، وَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا فِي مَعْصِيَةِ اللهِ عَزَّ وَجَلِّ فَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ، وَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا لَمْ يُطِقْهُ فَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ، وَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا فَأَطَاقَهُ فَلْيَفِ بِهِ " وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى تَارَةً عَنْهُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ بُكَيْرٍ وَتَارَةً: عَنْهُ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدَ، وَرَوَاهُ وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدٍ مَوْقُوفًا عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، ⦗١٢٤⦘ وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے نذر مانی، لیکن نام نہ لیا اس کا کفارہ قسم والا ہے اور جس نے نافرمانی والی نذر مانی اس کا کفارہ بھی قسم والا ہے اور جس نے ایسی نذر مانی جس کی وہ طاقت نہیں رکھتا، اس کا کفارہ بھی قسم والا ہے اور جس نے نذر مانی جس کی وہ طاقت رکھتا ہے تو وہ اس کو پورا کرے۔“
وکیع بن جراح نے اسے عبداللہ بن سعید سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما پر موقوف روایت کیا ہے، اور یہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک اور ضعیف سند سے بھی مروی ہے۔
وکیع بن جراح نے اسے عبداللہ بن سعید سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما پر موقوف روایت کیا ہے، اور یہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک اور ضعیف سند سے بھی مروی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا ابْنُ الْجَارُودِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ، ثنا خَطَّابٌ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ النَّذْرَ نَذْرَانِ: فَمَا كَانَ لِلَّهِ فَكَفَّارَتُهُ الْوَفَاءُ بِهِ، وَمَا كَانَ لِلشَّيْطَانِ فَلَا وَفَاءَ لَهُ، وَعَلَيْهِ كَفَّارَةُ يَمِينٍ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نذر کی دو قسمیں ہیں: 1 جو اللہ کے لیے ہو اس کا کفارہ اس کو پورا کرنا ہے۔ 2 جو شیطان کے لیے ہو اس کو پورا نہیں کیا جاتا بلکہ قسم کا کفارہ ادا کرنا ہوتا ہے۔“