کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس شخص کے متعلق کیا مروی ہے جس نے اپنے بیٹے یا خود اپنے آپ کو ذبح کرنے کی نذر مانی۔
حدیث نمبر: 20079
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يَقُولُ: " أَتَتِ امْرَأَةٌ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقَالَتْ: " إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ ابْنِي "، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: " لَا تَنْحَرِي ابْنَكِ، وَكَفِّرِي عَنْ يَمِينِكِ " فَقَالَ شَيْخٌ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ جَالِسٌ: وَكَيْفَ يَكُونُ فِي هَذَا كَفَّارَةٌ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: " إِنَّ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ: {وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ} [المجادلة: ٣]، ثُمَّ جَعَلَ فِيهِ مِنَ الْكَفَّارَةِ مَا قَدْ رَأَيْتَ ". وَفِي رِوَايَةِ جَعْفَرٍ: فَقَالَ لَهُ شَيْخٌ: " وَكَيْفَ تَكُونُ كَفَّارَةٌ فِي طَاعَةِ الشَّيْطَانِ "؟ فَقَالَ: " بَلَى، أَلَيْسَ اللهُ يَقُولُ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ. هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ وَخَالَفَهُ عِكْرِمَةُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ: " يَذْبَحُ كَبْشًا ".
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے سنا، وہ فرما رہے تھے کہ ایک عورت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئی اور کہنے لگی: میں نے اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کی نذر مانی ہے، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: اپنے بیٹے کو ذبح مت کر اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے۔ ایک بزرگ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، کہنے لگے: اس میں کفارہ کیسے؟ تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَالَّذِيْنَ يُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَآئِھِمْ﴾ [سورة المجادلة: 3] ”وہ لوگ جو اپنی عورتوں سے ظہار کر لیتے ہیں۔“ پھر اس میں کفارہ ہے جو آپ دیکھ رہے ہیں۔
(ب) جعفر کی روایت ہے کہ بزرگ نے فرمایا: شیطان کی اطاعت میں کفارہ کیسے ہوگا؟ تو فرمانے لگے: کیوں نہیں، کیا اللہ فرماتے نہیں۔۔۔ اس کے ہم معنیٰ ذکر کیا۔
(ج) عکرمہ رحمہ اللہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک مینڈھا ذبح کرے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 20079
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 20080
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدَآبَاذِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ وَخَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ فِي رَجُلٍ نَذَرَ أَنْ يَذْبَحَ ابْنَهُ، قَالَ: " يَذْبَحُ كَبْشًا ". ⦗١٢٥⦘ وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: جس نے اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کی نذر مانی وہ ایک مینڈھا ذبح کرے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 20080
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 20081
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: " إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ ابْنِي " فَأَمَرَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِكَبْشٍ وَقَالَ {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} [الأحزاب: ٢١] " كَذَا وَجَدْتُهُ فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ.
حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ حضرت عطاء رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: ”میں نے اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کی نذر مانی ہے“، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک مینڈھا ذبح کرنے کا حکم دے دیا۔ فرماتے ہیں: ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [سورة الأحزاب: 21] ”تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں اچھا نمونہ ہے۔“ انھوں نے مینڈھا ذبح کرنے کا حکم دیا۔ حضرت عطاء رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ وہ مینڈھا کہاں ذبح کرے؟ فرمایا: مکہ میں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 20081
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 20082
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فِي رَجُلٍ نَذَرَ أَنْ يَذْبَحَ نَفْسَهُ، قَالَ: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ} [الأحزاب: ٢١] حَسَنَةٌ فَأَفْتَاهُ بِكَبْشٍ ". هَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ رِوَايَةَ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ خَطَأٌ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ غَيْرُ سُفْيَانَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
حافظ ثناء اللہ
عطاء رحمہ اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے اس آدمی کے بارے میں جس نے اپنے آپ کو ذبح کرنے کی نذر مانی کہ ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [سورة الأحزاب: 21] ”تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں اچھا نمونہ ہے۔“ تو انہوں نے ایک مینڈھے کا فتویٰ دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 20082
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 20083
أخْبَرَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَيَّارٍ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ ح، وَأنبأ أَبُو الْفَوَارِسِ الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الْفَوَارِسِ أَخُو الشَّيْخِ أَبِي الْفَتْحِ الْحَافِظِ بِبَغْدَادَ أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُظَفَّرِ الْحَافِظُ، ثنا أُسَامَةُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سَعِيدٍ بِمِصْرَ ثنا أَبُو عُبَيْدِ اللهِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنُ أَخِي ابْنِ وَهْبٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: وَزَعَمَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَنَّ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ: " إِنِّي نَذَرْتُ لَأَنْحَرَنَّ نَفْسِي "، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: " {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} [الأحزاب: ٢١]، ثُمَّ تَلَا ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا {وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ} [الصافات: ١٠٧] ". وَهَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ أَرَادَ بِرَسُولِ اللهِ إِبْرَاهِيمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى نَبِيِّنَا، ⦗١٢٦⦘ وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِيمَنْ نَذَرَ أَنْ يَنْحَرَ نَفْسَهُ فَتْوَى أُخْرَى.
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ ایک آدمی ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے اپنے آپ کو ذبح کرنے کی نذر مانی ہے، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [سورة الأحزاب: 21] ”تمہارے لیے رسول اللہ کی زندگی میں اچھا نمونہ ہے۔“ پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے پڑھا: ﴿وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ﴾ [سورة الصافات: 107] ”کہ ہم نے عظیم بدلہ دیا۔“ یہ دلالت کرتا ہے کہ رسول اللہ سے مراد یہاں ابراہیم علیہ السلام ہیں اور ہمارے نبی ﷺ پر۔
(ب) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس بارے میں دوسرا فتویٰ بھی منقول ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 20083
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»
حدیث نمبر: 20084
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانِ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: " إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ نَفْسِي "، قَالَ: وَعِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا رَجُلٌ يُرِيدُ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى الْجِهَادِ، وَمعهُ أَبَوَاهُ، وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مُشْتَغِلٌ يَقُولُ لَهُ: " أَقِمْ مَعَ أَبَوَيْكَ "، قَالَ: فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَقُولُ: " إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ نَفْسِي "، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: " مَا أَصْنَعُ بِكَ؟ اذْهَبْ فَانْحَرْ نَفْسَكَ "، فَلَمَّا فَرَغَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مِنَ الرَّجُلِ وَأَبَوَيْهِ قَالَ: " عَلَيَّ بِالرَّجُلِ "، فَذَهَبُوا فَوَجَدُوهُ قَدْ بَرَكَ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، يُرِيدُ أَنْ يَنْحَرَ نَفْسَهُ، فَجَاءُوا بِهِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ: " وَيْحَكَ لَقَدْ أَرَدْتَ أَنْ تُحِلَّ ثَلَاثَ خِصَالٍ: أَنْ تُحِلَّ بَلَدًا حَرَامًا، وَتَقْطَعَ رَحِمًا حَرَامًا - نَفْسَكَ أَقْرَبَ الْأَرْحَامِ إِلَيْكَ، وَأَنْ تَسْفِكَ دَمًا حَرَامًا، أَتَجِدُ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ؟ "، قَالَ: " نَعَمْ "، قَالَ: " فَاذْهَبْ فَانْحَرْ فِي كُلِّ عَامٍ ثُلُثًا، لَا يَفْسَدُ اللَّحْمُ ". هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَرِوَايَةُ ابْنِ نُمَيْرٍ بِمَعْنَاهُ، وَزَادَ: قَالَ كُرَيْبٌ: " فَشَهِدْتُهُ عَامَيْنِ، فَأَمَّا الثَّالِثُ، فَلَا أَدْرِي مَا فَعَلَ "، وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنِ الْأَعْمَشِ بِمَعْنَاهُ، وَزَادَ: قَالَ الْأَعْمَشُ: فَبَلَغَنِي عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ: " لَوِ اعْتَلَّ عَلَيَّ، لَأَمَرْتُهُ بِكَبْشٍ،.
حافظ ثناء اللہ
کریب رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: میں نے اپنے آپ کو ذبح کرنے کی نذر مانی ہے، راوی فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس اس وقت ایک آدمی تھا جو جہاد کے لیے جانا چاہتا تھا، اس کے والدین بھی موجود تھے تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرما رہے تھے: والدین کے ساتھ رہو۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ (نذر ماننے والا) کہنے لگا: میں نے اپنے آپ کو ذبح کرنے کی نذر مانی ہے تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں کیا کروں؟ جاؤ اپنے آپ کو قتل کرو۔ جب سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس آدمی اور اس کے والدین سے فارغ ہوئے تو فرمایا: اس آدمی کو میرے پاس لاؤ۔ وہ گئے تو وہ اپنے آپ کو ذبح کرنے کے لیے تیار کر رہا تھا۔ وہ اس کو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس لے کر آئے تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: تو نے تین اشیاء کو حلال کرنے کی کوشش کی ہے: 1۔ حرمت والے شہر کی حرمت کو ختم کرنا، 2۔ قطع رحمی کرنا، یعنی تیرا اپنا نفس سب سے زیادہ صلہ رحمی کا حق رکھتا ہے، 3۔ اور حرام خون بہانا۔ کیا تیرے پاس سو اونٹ ہیں؟ اس نے کہا: ہاں، فرمایا: جاؤ ہر سال اونٹوں کا تہائی حصہ ذبح کرو لیکن گوشت خراب نہ کرنا۔
(ب) کریب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دو سال تک میں حاضر ہوتا رہا، لیکن تیسرے سال میں حاضر نہ ہوا، مجھے معلوم نہیں اس نے (ایسا) کیا یا نہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 20084
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 20085
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنِ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ فَذَكَرَهُ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ أَمَرَ فِي مِثْلِ هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ بِكَبْشٍ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " اخْتِلَافُ فَتَاوِيهِ فِي ذَلِكَ، وَفِيمَنْ نَذَرَ أَنْ يَنْحَرَ ابْنَهُ، يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ كَانَ يَقُولُهُ اسْتِدْلَالًا وَنَظَرًا، لَا أَنَّهُ عَرَفَ فِيهِ تَوقِيفًا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
اعمش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مجھے خبر ملی کہ اگر کوئی میرے اوپر اسلحہ سونتے گا تو میں اس کو ایک مینڈھا ذبح کرنے کا حکم دوں گا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 20085
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 20086
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنِي ⦗١٢٧⦘ رَجُلٌ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنْ رَجُلٍ نَذَرَ أَنْ لَا يُكَلِّمَ أَخَاهُ، فَإِنْ كَلَّمَهُ فَهُوَ يَنْحَرُ نَفْسَهُ بَيْنَ الْمَقَامِ وَالرُّكْنِ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ فَقَالَ: " يَا ابْنَ أَخِي، أَبْلِغْ مَنْ وَرَاءَكَ أَنَّهُ لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ، لَوْ نَذَرَ أَنْ لَا يَصُومَ رَمَضَانَ فَصَامَهُ، كَانَ خَيْرًا لَهُ، وَلَوْ نَذَرَ أَنْ لَا يُصَلِّيَ فَصَلَّى، كَانَ خَيْرًا لَهُ، مُرْ صَاحِبَكَ، فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيُكَلِّمْ أَخَاهُ ". هَذَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مُنْقَطِعٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عون رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ فلاں آدمی نے اپنے بھائی سے کلام نہ کرنے کی قسم کھائی ہے کہ اگر اس نے کلام کر لی تو وہ ایامِ تشریق کے اندر مقامِ ابراہیم اور رکن کے درمیان اپنے آپ کو ذبح کرے گا۔ وہ فرمانے لگے: اے بھتیجے! دوسروں کو بھی بتاؤ، ”نافرمانی کے اندر نذر نہیں ہوتی۔“ اگر کسی نے رمضان کے روزے نہ رکھنے کی قسم کھائی ہو تو وہ روزے رکھے، یہ اس کے لیے بہتر ہے۔ اگر نماز پڑھنے کی قسم اٹھائی ہے تو نماز پڑھنا اس کے لیے بہتر ہے، اپنے ساتھی کو کہو کہ قسم کا کفارہ دے اور اپنے بھائی سے کلام کرے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 20086
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»