أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ، وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ، أَمَرَنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعِ الْجَنَازَةِ، وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَإِفْشَاءِ السَّلَامِ، وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ، وَإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ، وَإِجَابَةِ الدَّاعِي، وَنَهَانَا عَنْ خَوَاتِيمِ الذَّهَبِ، وَعَنِ الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ، وَعَنِ الْحَرِيرِ، وَالدِّيبَاجِ، وَالْإِسْتَبْرَقِ، وَالْمَيَاثِرِ، وَالْقَسِّيِّ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي عَوَانَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے سات کاموں سے منع فرمایا اور سات کے کرنے کا حکم دیا: ”تیمار داری کرنا، جنازہ پڑھنا، چھینک کا جواب دینا، سلام کو عام کرنا، مظلوم کی مدد کرنا، قسم کھانے والے کی قسم پوری کرنا، دعوت کو قبول کرنا“ اور سات سے منع کیا: ”سونے کی انگوٹھی پہننا، چاندی کے برتن میں پینا، ریشم زیب تن کرنا، موٹا ریشم پہننا، باریک ریشم زیب تن کرنا، سرخ ریشمی زین، ریشمی گدے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنَ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ ⦗٧١⦘ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي لِيُبَايِعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ، قَالَ: " بَلْ أُبَايِعُهُ عَلَى الْجِهَادِ "، فَانْطَلَقْتُ إِلَى الْعَبَّاسِ وَهُوَ فِي السِّقَايَةِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا الْفَضْلِ إِنِّي انْطَلَقْتُ بِأَبِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُبَايِعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ، فَلَمْ يَفْعَلْ، فَقَامَ مَعَهُ الْعَبَّاسُ فِي قَمِيصٍ مَا عَلَيْهِ رِدَاءٌ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ عَرَفْتَ مَا بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ، وَأَتَاكَ بِأَبِيهِ لِتُبَايِعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ، فَلَمْ تَفْعَلْ، فَقَالَ: " إِنَّهَا لَا هِجْرَةَ "، قَالَ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ لَتُبَايِعَنَّهُ، قَالَ: فَمَدَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ، وَقَالَ: " هَا أَبْرَرْتُ عَمِّي، وَلَا هِجْرَةَ "، قَالَ الْبُخَارِيُّ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَفْوَانَ أَوْ صَفْوَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَهُ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ لَا يَصِحُّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبدالرحمن بن صفوان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد کو لے کر نبی ﷺ کے پاس ہجرت کی بیعت کے لیے آیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ جہاد پر بیعت لوں گا۔“ میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا جو پانی پلا رہے تھے، میں نے کہا: اے ابوالفضل! میں اپنے باپ کو لے کر آپ ﷺ کے پاس آیا کہ آپ ﷺ ہجرت پر بیعت لیں، لیکن آپ ﷺ نے نہیں کیا، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ انھیں کپڑوں میں چل پڑے۔ نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول ﷺ! جو میرے اور عبدالرحمن کے درمیان بات چیت ہوئی آپ نے اس کو پہچان لیا، آپ اس کے باپ سے ہجرت پر بیعت لیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہجرت نہیں ہے“، تو آپ ﷺ پر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے قسم ڈال دی کہ آپ ہجرت پر بیعت لیں، تو نبی ﷺ نے اپنا ہاتھ پھیلایا اور فرمایا: ”میں اپنے چچا کی قسم پوری کرتا ہوں، لیکن ہجرت نہیں ہے۔“
امام بخاری فرماتے ہیں: ”عبدالرحمن بن صفوان یا صفوان بن عبدالرحمن، نبی ﷺ سے“، یزید بن ابی زیاد نے اسے مجاہد سے اسی طرح بیان کیا ہے، یہ صحیح نہیں ہے۔
امام بخاری فرماتے ہیں: ”عبدالرحمن بن صفوان یا صفوان بن عبدالرحمن، نبی ﷺ سے“، یزید بن ابی زیاد نے اسے مجاہد سے اسی طرح بیان کیا ہے، یہ صحیح نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ الْفَارِسِيُّ، أَنْبَأَ إِبْرَاهِيمُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ، عَنِ الْبُخَارِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ هَارُونَ بْنِ رُسْتُمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا بَقِيَّةُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَالِكٍ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى أَحَدٍ بِيَمِينٍ، وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ سَيَبَرُّهُ، فَلَمْ يَفْعَلْ، فَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى الَّذِي لَمْ يَبَرَّهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی پر قسم ڈالی اس لیے کہ وہ اسی کی قسم پوری کر دے گا لیکن وہ ایسا نہیں کرتا تو گناہ اس پر ہے جس نے اسے بری الذمہ قرار نہیں دلوایا۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا الصَّغَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الطَّيِّبِ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، وَرَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: أَهْدَتْ لَهَا امْرَأَةٌ طَبَقًا فِيهِ تَمْرٌ، فَأَكَلَتْ مِنْهُ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، وَأَبْقَتْ مِنْهُ تَمَرَاتٍ، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكِ إِلَّا أَكَلْتِيهِ كُلَّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبِرِّيهَا فَإِنَّ الْإِثْمَ عَلَى الْمُحَنِّثِ "، حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي إِسْنَادِهِ مَنْ يُجْهَلُ مِنْ مَشَايِخِ بَقِيَّةَ، وَحَدِيثُ عَائِشَةَ أَمْثَلُ، وَهُوَ مُرْسَلٌ، أَورَدَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ مِنْ حَدِيثِ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ وَلَهُ شَاهِدٌ مِنْ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ وَاللهُ أَعْلَمُ، ⦗٧٢⦘ وَرُوِّينَا عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَمَكْحُولٍ، وَالْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ: " أَنَّ الْكَفَّارَةَ عَلَى الْمُقْسِمِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک عورت نے کھجور سے بھری ایک تھالی تحفہ میں دی تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے کھائیں اور کچھ پلیٹ میں بچ گئی۔ عورت کہنے لگی: میں قسم ڈالتی ہوں کہ آپ مکمل کھائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی قسم پوری کرو؛ کیونکہ گناہ قسم تڑوانے والے پر ہوتا ہے۔“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث کی سند میں بقیہ کے مشائخ میں سے ایک مجہول راوی ہے، اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا والی حدیث بہتر ہے، لیکن وہ مرسل ہے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث کی سند میں بقیہ کے مشائخ میں سے ایک مجہول راوی ہے، اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا والی حدیث بہتر ہے، لیکن وہ مرسل ہے۔