کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اللہ عزوجل کی راہ میں جنگی تیاری کے لیے گھوڑے پالنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: سَمِعَ شَبِيبُ بْنُ غَرْقَدَةَ عُرْوَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الْخَيْرُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِي الْخَيْلِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ "، ⦗٢٧⦘ قَالَ: سُفْيَانُ، وَزَادَ فِيهِ مُجَالِدٌ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ: " الْأَجْرَ وَالْمَغْنَمَ "،.
حافظ ثناء اللہ
شبیب بن غرقدہ رحمہ اللہ، عروہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”قیامت تک گھوڑوں کی پیشانیوں میں بھلائی باندھی گئی ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ شَيْبَانَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ، عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ، وَعَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَذَكَرَ مِثْلَهُ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ، عَنْ شَبِيبٍ كَمَا مَضَى.
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ عروہ بارقی رضی اللہ عنہ سے ایسے ہی روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اسی طرح فرمایا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ، لِرَجُلٍ أَجْرٌ، وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ، وَعَلَى رَجُلٍ وِزْرٌ، فَأَمَّا الَّذِي هُوَ لَهُ أَجْرٌ، فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللهِ، فَأَطَالَ لَهَا فِي مَرْجٍ أَوْ رَوْضَةٍ، فَمَا أَصَابَتْ فِي طِيَلِهَا ذَلِكَ مِنَ الْمَرْجِ أَوِ الرَّوْضَةِ كَانَتْ لَهُ حَسَنَاتٍ، وَلَوْ أَنَّهَا قَطَعَتْ طِيَلَهَا، فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ كَانَتْ آثَارُهَا وَأَرْوَاثُهَا حَسَنَاتٍ لَهُ، وَلَوْ أَنَّهَا مَرَّتْ بِنَهَرٍ فَشَرِبَتْ مِنْهُ، وَلَمْ يُرِدْ أَنْ يَسْقِيَهَا، كَانَ ذَلِكَ حَسَنَاتٍ لَهُ، وَرَجُلٌ رَبَطَهَا تَغَنِّيًا وَتَعَفُّفًا وَسِتْرًا، ثُمَّ لَمْ يَنْسَ حَقَّ اللهِ فِي رِقَابِهَا، وَلَا ظُهُورِهَا، فَهِيَ لِذَلِكَ سِتْرٌ، وَرَجُلٌ رَبَطَهَا فَخْرًا وَرِئَاءً وَنِوَاءً لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ، فَهِيَ عَلَى ذَلِكَ وِزْرٌ "، وَسُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحُمُرِ، فَقَالَ: " مَا أُنْزِلَ عَلَيَّ فِيهَا شَيْءٌ إِلَّا هَذِهِ الْآيَةُ الْجَامِعَةُ الْفَاذَّةُ {فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ} [الزلزلة: ٨] ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ.
حافظ ثناء اللہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”گھوڑے تین قسم کے ہیں: ایک آدمی کے لیے اجر کا باعث، دوسرا آدمی کے لیے پردہ ہے اور تیسرا آدمی پر بوجھ ہے۔ وہ گھوڑا جو آدمی کے لیے اجر کا باعث ہے، انسان اس کو اللہ کے راستے میں باندھتا ہے، اس کی رسی چراگاہ یا باغ میں لمبی کر دیتا ہے۔ وہ رسی کی لمبائی تک چراگاہ اور باغیچے سے جو کچھ کھاتا ہے تو اس کی نیکیاں اس آدمی کو ملتی ہیں۔ اگر اس کی وہ رسی ٹوٹ جاتی ہے تو اس کے نشاناتِ قدم اور گوبر کا بھی اس کو ثواب ملے گا۔ اگر وہ نہر سے گزرتے ہوئے پانی پی لیتا ہے جس کا اس نے قصد نہیں کیا تو اس کے لیے نیکیاں ہوں گی۔ جس نے گھوڑا باندھا بے نیاز ہو کر پاکدامنی اور پردے کے لیے، پھر وہ اس میں اللہ کا حق اس کی گردن اور پیٹھ میں نہیں بھولتا تو یہ اس کے لیے پردہ ہے۔ جس نے گھوڑا رکھا فخر و ریاکاری کے لیے اور اہل اسلام کی مشقت کے لیے تو یہ اس کے لیے وبال اور بوجھ ہوگا۔“ رسول اللہ ﷺ سے گدھوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے بارے میں ایک جامع آیت نازل ہوئی ہے: ﴿فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ﴾ [سورة الزلزلة: 7-8]۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، ثنا طَلْحَةُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ سَعِيدًا الْمَقْبُرِيَّ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِيمٍ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، ثنا عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ طَلْحَةُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدًا الْمَقْبُرِيَّ، يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ احْتَبَسَ فَرَسًا فِي سَبِيلِ اللهِ إِيمَانًا بِاللهِ، وَتَصْدِيقًا بِمَوْعُودِهِ، كَانَ شِبَعُهُ وَرِيُّهُ وَبَوْلُهُ وَرَوَثُهُ حَسَنَاتٍ فِي مِيزَانِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ وَهْبٍ " إِيمَانًا بِاللهِ، وَتَصْدِيقَ مَوْعُودِ اللهِ "، ⦗٢٨⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اللہ کے راستے میں گھوڑے کو روکا اللہ پر ایمان رکھتے ہوئے اور اس کے وعدے کی تصدیق کرتے ہوئے، تو اس کا سیر و سیراب ہونا، بول و براز، یعنی لید کرنا ان تمام کے عوض اس کو قیامت کے دن نیکیاں ملیں گی۔“ ابن وہب کی روایت میں ہے کہ ”اللہ پر ایمان رکھتے ہوئے اور اللہ کے وعدے کی تصدیق کرتے ہوئے۔“