کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کے متعلق کیا مروی ہے جس نے قسم کھائی کہ وہ اس کا حق کچھ مدت یا کچھ زمانے تک ادا کر دے گا، اور اس دلیل کا بیان کہ اس کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَعْنٍ، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " الْحِينُ: سِتَّةُ أَشْهُرٍ ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن عبداللہ بن حنین رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرماتے تھے کہ وقت چھ ماہ کی مدت ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " الْحِينُ: قَدْ يَكُونُ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً ".
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وقت کبھی صبح یا شام کا ہوتا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ الْمُسَيِّبِ قَالَ: " إِنِّي حَلَفْتُ أَنْ لَا أُكَلِّمَ رَجُلًا حِينًا "، قَالَ: " {تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا} [إبراهيم: ٢٥] قَالَ: " هِيَ النَّخْلَةُ يَكُونُ فِيهَا حِمْلُهَا شَهْرًا، وَشَهْرَينِ، فَنَرَى الْحِينَ: شَهْرَيْنِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم بن میسرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے ابن مسیب رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ میں نے قسم کھائی ہے کہ ”ایک یا حین“ تک میں آدمی سے کلام نہ کروں گا؟ فرمایا: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا﴾ [سورة إبراهيم: 25] ”ہر سال وہ اپنے رب کے حکم سے پھل لاتا ہے۔“ فرماتے ہیں: یہ کھجور ہے کہ اس کا پھل لاتا ہے۔ فرماتے ہیں: یہ کھجور ہے کہ اس کا پھل ایک یا دو مہینے تک اٹھاتے تھے۔ ہمارے خیال میں «حِين» سے مراد دو مہینے ہیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمِنْهَالِ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: " الْحِينُ سِتَّةُ أَشْهُرٍ ".
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ «حِين» سے مراد چھ ماہ ہیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدٌ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا ابْنُ الْغَسِيلِ، أَخْبَرَنِي عِكْرِمَةُ قَالَ: " أَرْسَلَ إِلِيَّ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَقَالَ: " إِنِّي حَلَفْتُ أَنْ لَا أَصْنَعَ حِينًا كَذَا وَكَذَا، فَمَا الْحِينُ الَّذِي لَا يُدْرَكُ؟ "، قَالَ: " فَقَرَأَ {هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ} [الإنسان: ١]، مَا يَدْرِي كَمْ أَتَى مُنْذُ خَلَقَهُ اللهُ، وَأَمَّا الْحِينُ الَّذِي يُدْرَكُ: قَوْلُ اللهِ تَعَالَى {تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ} [إبراهيم: ٢٥] مَا بَيْنَ صِرَامِ النَّخْلِ إِلَى ثَمَرِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے مجھے روانہ کیا کہ ایک وقت تک میں یہ نہ کروں گا تو «حِينٌ» ”حین“ سے مراد کیا ہے جس کو وہ پا نہ سکیں؟ تو انہوں نے پڑھا: ﴿هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ﴾ [سورة الإنسان: 1] ”کوئی نہیں جانتا کتنی مدت گزر گئی، جب سے اللہ نے اس کو پیدا کیا ہے۔ لیکن وہ لفظ «حِينٌ» ”حین“ جو اللہ کے اس فرمان میں موجود ہے“ ﴿تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ﴾ [سورة إبراهيم: 25] اس سے مراد پھل آنے سے لے کر پھل توڑنے کی مدت کا درمیانی حصہ ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَأَهُ بَعْدَ حِينٍ} [ص: ٨٨]، قَالَ: " بَعْدَ الْمَوْتِ "، {وَفِي ثَمُودَ إِذْ قِيلَ لَهُمْ تَمَتَّعُوا حَتَّى حِينٍ} [الذاريات: ٤٣]، قَالَ: " ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ "، وَفِي قَوْلِهِ {تُؤْتِي أَكُلَهَا كُلَّ حِينٍ} [إبراهيم: ٢٥]، قَالَ: " كُلَّ سَبْعَةِ أَشْهُرٍ " وَذُكِرَ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ قَالَ: " الْحِينُ سَنَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَاَهٗ بَعْدَ حِیْنٍ﴾ [سورة ص: 88] ”تم ضرور ایک وقت کے بعد اس کی خبر جان لو گے“ کے متعلق فرماتے ہیں: یعنی موت کے بعد۔ ﴿وَفِی ثَمُوْدَ اِذْ قِیْلَ لَهُمْ تَمَتَّعُوْا حَتّٰى حِیْنٍ﴾ [سورة الذاريات: 43] ”اور قوم ثمود کے بارے میں جب ان سے کہا گیا کہ تم ایک وقت تک فائدہ اٹھاؤ“ یعنی تین دن تک۔ ﴿تُؤْتِیْٓ اُکُلَهَا کُلَّ حِیْنٍ﴾ [سورة إبراهيم: 25] فرماتے ہیں: ہر ساتویں مہینے۔ ربیعہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سے منقول ہے، فرماتے ہیں: حین سے مراد ایک سال ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا أَبُو حَفْصٍ يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ: " سُئِلَ طَاوُسٌ وَأَنَا عِنْدَهُ، عَنْ رَجُلٍ حَلَفَ: أَنْ لَا يُكَلِّمَ رَجُلًا زَمَانًا؟ قَالَ: " الزَّمَانُ شَهْرَانِ أَوْ ثَلَاثَةٌ، مَا لَمْ يُوَقِّتْ أَجَلًا ". اخْتِلَافُهُمْ فِي الْحِينِ وَاخْتِلَافُ مَعْنَى الْحِينِ فِي مَوَاضِعِهِ، دَلِيلٌ عَلَى أَنْ لَيْسَ لَلْحِينِ غَايَةٌ عِنْدَ الْإِطْلَاقِ، وَكَذَلِكَ الزَّمَانُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
ابوحفص یزید بن کیسان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طاؤس رحمہ اللہ سے ایک آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا جس نے قسم اٹھائی کہ وہ ایک آدمی سے ایک وقت تک کلام نہ کرے گا، اس وقت میں بھی موجود تھا۔ فرماتے ہیں: «زَمَان» ”زمان“ سے مراد دو یا تین ماہ ہیں، جب وقت کا تعین نہ ہو۔ ان کا «حِين» ”حین“ کے بارے میں اختلاف ہے اور «حِين» ”حین“ کے معنی میں بھی مختلف جگہوں میں اختلاف ہے، لیکن لفظِ «حِين» ”حین“ کے مطلق استعمال پر تعین نہیں ہے۔ ایسے ہی لفظِ «زَمَان» ”زمان“ بھی ہے۔