کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جس نے کوئی قسم کھائی پھر اس کے خلاف کرنے میں بہتری دیکھی، تو وہ بہتر کام کر لے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے۔
أَخْبَرَنَا السَّيِّدُ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنُ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ، رَحِمَهُ اللهُ، ثنا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ، أَمْلَاهُ عَلَيْنَا حِفْظًا سَنَةَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ وَثَلَاثِمِائَةٍ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ سَخْتَوَيْهِ بْنُ مَازْيَارَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ السَّدُوسِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَةَ، فَإِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَهَا، عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا، وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا، وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ، فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَكَفَرْ عَنْ يَمِينِكَ "، أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ فِي الْحَلِفِ دُونَ الْأَمَارَةِ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنِ الْحَسَنِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے عبدالرحمن! کبھی امارت کا سوال نہ کرنا۔ اگر تو نے اس کے بارے میں سوال کر لیا اور وہ تجھے دے دی گئی تو تو اس کے سپرد کر دیا جائے گا، اگر بغیر مانگے ملے تو تیری مدد کی جائے گی اور جب آپ کسی کام پر قسم اٹھائیں اور دوسرا اس سے بہتر ہو تو پھر بہتر کام کر لو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرَوَيْهِ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ هُوَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ أَبُو بَكْرٍ، ثنا الصَّعْقُ بْنُ حَزْنَ، ثنا مَطَرٌ الْوَرَّاقُ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ يَأْكُلُ لَحْمَ دَجَاجٍ، فَقَالَ: ادْنُ فَكُلْ، فَقُلْتُ: إِنِّي حَلَفْتُ لَا آكُلُهُ، قَالَ: ادْنُ فَكُلْ، وَسَأُخْبِرُكَ عَنْ يَمِينِكَ هَذِهِ، قَالَ: فَدَنَوْتُ فَأَكَلْتُ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَاسٍ مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ فَقَالَ: " لَا وَاللهِ، لَا أَحْمِلُكُمْ، وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ "، قَالَ: فَمَا بَرِحْنَا حَتَّى أَتَتْهُ فَرَائِضُ غُرُّ الذُّرَى، فَأَمَرَ لَنَا مِنْهَا بِحِمْلَانِ، فَمَا بَرِحْنَا إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى قُلْنَا مَا صَنَعْنَا نَسَّيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ، وَاللهِ لَا نُفْلِحُ قَالَ: فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ، قَالَ: " مَا رَدَّكُمْ؟ "، قَالُوا: إِنَّكَ حَلَفْتَ أَلَّا تَحْمِلَنَا فَخَشِينَا أَنْ لَا يُبَارَكَ لَنَا، وَخَشِينَا أَنْ نَكُونَ نَسَّيْنَاكَ يَمِينَكَ، قَالَ: " أَنِّي وَاللهِ مَا نُسِّيتُهَا، وَلَكِنْ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ "..
حافظ ثناء اللہ
زہدم حرمی فرماتے ہیں کہ میں ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، وہ مرغی کا گوشت کھا رہے تھے، فرمانے لگے: قریب ہو جاؤ اور کھاؤ، میں نے کہا: میں نے قسم اٹھائی ہے کہ نہیں کھاؤں گا، فرماتے ہیں: کھاؤ عنقریب میں تیری قسم کے بارے میں بتاتا ہوں، کہتے ہیں: میں نے قریب ہو کر کھا لیا، فرماتے ہیں: ہم اشعریوں کے ایک گروہ میں نبی ﷺ کے پاس آئے، ہم سواریوں کا مطالبہ کر رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں تمہیں سواری نہ دوں گا اور نہ ہی میرے پاس موجود ہے۔“ ہم ٹھہرے رہے تو بلند کوہانوں والے اونٹ آئے تو آپ ﷺ نے ہمیں سواریاں مہیا کر دیں، ہم تھوڑا ہی چلے تھے کہ ہم نے سوچا کہ ہم نے نبی ﷺ کو ان کی قسم بھلا دی ہے، اللہ کی قسم! ہم فلاح نہ پائیں گے، پھر ہم نبی ﷺ کے پاس آئے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”تمہیں کس چیز نے واپس کر دیا؟“ وہ کہنے لگے: اے اللہ کے نبی! آپ نے قسم اٹھائی تھی کہ آپ ہمیں سواری نہ دیں گے، ہمیں ڈر ہوا کہ کہیں ان میں برکت نہ دی جائے اور کہیں ہم نے آپ کو قسم بھلا نہ دی ہو، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اپنی قسم بھولا نہیں ہوں، لیکن جو کوئی قسم اٹھائے اور دوسرا کام اس سے بہتر ہو تو وہ کام کر لے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْعَلَاءِ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، ثنا الصَّعْقُ بْنُ حَزَنٍ، فَذَكَرَهُ، ⦗٥٦⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ شَيْبَانَ.
حافظ ثناء اللہ
صعق بن حزن رحمہ اللہ بھی اسی طرح بیان کرتے ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ حَمْدَوَيْهِ بْنِ سَهْلٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ السِّنْجِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ، عَنْ زَهْدَمٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ فَقَالَ: " وَاللهِ لَا أَحْمِلُكُمْ، وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ"، قَالَ: فَلَمَّا رَجَعْنَا أَرْسَلَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ ذَوْدٍ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّكَ حَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنَا فَحَمَلْتَنَا، قَالَ: " أَنِّي لَمْ أَحْمِلُكُمْ وَلَكِنَّ اللهَ حَمَلَكُمْ، وَاللهِ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ، فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَتَيْتُهُ"، أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ سُلَيْمَانَ. قَالَ الشَّيْخُ: قَصَرَ بِهِ التَّيْمِيُّ فَلَمْ يَنْقُلْ فِيهِ الْكَفَّارَةَ.
حافظ ثناء اللہ
زہدم حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس سواریوں کا مطالبہ لے کر آئے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! نہ تو میں تمہیں سوار کروں گا اور نہ ہی میرے پاس سواری موجود ہے کہ تمہیں مہیا کر سکوں۔“ لیکن جب ہم واپس پلٹے تو آپ ﷺ نے ہمیں تین اونٹ دیے۔ میں نے کہا: آپ ﷺ نے تو قسم اٹھائی تھی کہ سواری نہ دیں گے لیکن پھر ہمیں آپ ﷺ نے سواری دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب میں قسم اٹھاتا ہوں اور دوسرا کام بہتر دیکھتا ہوں تو بہتر کام کر لیتا ہوں۔“
وَقَدْ أَخْرَجْنَاهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي قِلَابَةَ، وَالْقَاسِمِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ زَهْدَمِ الْجَرْمِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: " قَالَ: إِنِّي وَاللهِ إِنْ شَاءَ اللهُ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ، فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَتَحَلَّلْتُهَا ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ، قَالَ أَيُّوبُ: وَحَدَّثَنِيهِ الْقَاسِمُ الْكَلْبِيُّ، عَنْ زَهْدَمٍ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
زہدم جرمی سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”«إِنْ شَاءَ اللَّهُ» ”اگر اللہ چاہے“ میں جب بھی قسم اٹھاتا ہوں، پھر دوسرا کام اس سے بہتر ہو تو وہ کر لیتا ہوں اور اپنی قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں۔“
وَرَوَاهُ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: " إِنِّي وَاللهِ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا كَفَّرْتُ يَمِينِي وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا حَمَّادٌ، ثنا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ فَذَكَرَهُ، أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ كَمَا مَضَى.
حافظ ثناء اللہ
ابو بردہ بن ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب میں کسی کام پر قسم اٹھاتا ہوں، دوسرا بہتر ہو تو اپنی قسم کا کفارہ دے کر بہتر کام کر لیتا ہوں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَمْرِو بْنُ زُرَارَةَ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ الْيَشْكُرِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: اعْتَمَّ رَجُلٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ، فَوَجَدَ الصِّبْيَةَ قَدْ نَامُوا، فَأَتَاهُ أَهْلُهُ بِطَعَامٍ فَحَلَفَ أَنْ لَا يَأْكُلَ مِنْ أَجْلِ صِبْيَتِهِ، ثُمَّ بَدَا لَهُ فَأَكَلَ، فَأَتَيَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَلْيَأْتِهَا وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ ". ⦗٥٧⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ مَرْوَانَ.
حافظ ثناء اللہ
ابوحازم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ کے پاس دیر کر دی۔ پھر اپنے گھر واپس آیا تو اس کے بچے سو چکے تھے، اس کی بیوی نے کھانا پیش کیا تو اس نے بچوں کی وجہ سے قسم کھائی کہ وہ کھانا نہیں کھائے گا۔ لیکن بعد میں اس نے کھا لیا۔ پھر انہوں نے نبی ﷺ کے پاس اس کا تذکرہ کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو قسم اٹھائے اور دوسرا کام اس سے بہتر ہو تو اس کو کر لے اور اپنی قسم کا کفارہ دے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، أنبأ أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيُّ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، فَسَأَلَهُ نَفَقَةً، أَوْ فِي ثَمَنِ خَادِمٍ، فَقَالَ لَهُ عَدِيُّ: مَا عِنْدِي إِلَّا دِرْعِي وَمِغْفَرِي، فَأَنَا أَكْتُبُ لَكَ إِلَى أَهْلِي تُعْطَهَا، قَالَ: فَلَمْ يَرْضَ، قَالَ: فَغَضِبَ عَدِيُّ فَحَلَفَ لَا يُعْطِيهِ شَيْئًا، قَالَ: فَرَضِيَ الرَّجُلُ، قَالَ: فَقَالَ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، فَرَأَى تُقَاءَهَا، فَلْيَأْتِ التَّقْوَى مَا حَنَثَتْ "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنْ جَرِيرٍ.
حافظ ثناء اللہ
تمیم بن طرفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اس نے خرچ یا ایک خادم کی قیمت کا سوال کیا، تو سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرے پاس تو زرہ یا خود ہے، لیکن میں اپنے گھر والوں کو لکھ دیتا ہوں وہ تجھے دے دیں گے۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ شخص راضی نہ ہوا تو سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کو غصہ آگیا اور انہوں نے قسم اٹھائی کہ کچھ نہ دیں گے۔ بعد میں وہ آدمی راضی ہو گیا تو سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ نہ سنا ہوتا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص قسم اٹھائے، پھر اس سے بہتر تقویٰ والی بات دیکھے تو تقویٰ کی خاطر اس کو چھوڑ دے۔“ ورنہ میں قسم نہ توڑتا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ تَمِيمٍ الطَّائِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَلْيَتْرُكْ ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ حَدِيثِ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيِّ، عَنْ شُعْبَةَ وَقَالَ: " وَلْيَتْرُكْ يَمِينَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”جو قسم اٹھائے اور دوسرا کام اس سے بہتر ہو تو بہتر کام کرلے یا اس کو چھوڑ دے۔“
(ب) حضرت معاذ عنبری رحمہ اللہ شعبہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”وہ اپنی قسم ترک کر دے۔“
(ج) عدی رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی قسم اٹھائے پھر اس سے بہتر کام دیکھے تو اپنی قسم کا کفارہ دے دے اور بہتر کام کرلے۔“
(ب) حضرت معاذ عنبری رحمہ اللہ شعبہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”وہ اپنی قسم ترک کر دے۔“
(ج) عدی رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی قسم اٹھائے پھر اس سے بہتر کام دیکھے تو اپنی قسم کا کفارہ دے دے اور بہتر کام کرلے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْبُخَارِي، أنبأ صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، فَذَكَرَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ، وَأَخْرَجَهُ مِنْ حَدِيثِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ مَعَ ذِكْرِ الْكَفَّارَةِ فِيهِ. وَرَوَاهُ سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، فَذَكَرَ فِيهِ الْكَفَّارَةَ فِي إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ عَنْهُ، وَلَمْ يَذْكُرُهَا فِي الرِّوَايَةِ الْأُخْرَى، وَرَوَاهُ غَيْرُ تَمِيمٍ، عَنْ عَدِيٍّ فَذَكَرَ فِيهِ الْكَفَّارَةَ.
حافظ ثناء اللہ
تمیم بن طرفہ رحمہ اللہ نے ایک روایت میں کفارے کا تذکرہ کیا ہے اور ایک روایت میں کفارے کا ذکر نہیں کیا۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَمْرِو بْنُ مُرَّةَ، سَمِعَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ يُحَدِّثُ، أَنَّ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سُئِلَ فَحَلَفَ أَنْ لَا يُعْطِي، ثُمَّ أَعْطَى فَقَالَ: ⦗٥٨⦘ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَلْيُكَفِّرْ يَمِينَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن مرہ نے عبداللہ بن عمرو سے سنا، جو حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام ہیں کہ عدی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا تو انہوں نے قسم کھائی کہ وہ نہیں دیں گے لیکن بعد میں دے دیا۔ پھر فرمایا: میں نے نبی ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے قسم کھائی پھر اس سے بہتر کام دیکھا تو اپنی قسم کا کفارہ دے کر بہتر کام کر لے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَاللهِ لَأَنْ يَلِجَ أَحَدُكُمْ بِيَمِينِهِ فِي أَهْلِهِ آثَمُ لَهُ عِنْدَ اللهِ مِنْ أَنْ يُعْطِيَ كَفَّارَتَهُ الَّتِي فَرَضَ اللهُ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ كِلَاهُمَا، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اگر تم میں سے کوئی اپنے گھر والوں کے بارے میں قسم اٹھائے تو وہ اس میں اللہ کے ہاں اس سے زیادہ گناہ گار ہے کہ وہ اللہ کا فرض کردہ کفارہ دے دے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ حَنْبَلٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اسْتَلَجَّ الرَّجُلُ فِي أَهْلِهِ، فَهُوَ أَعْظَمُ إِثْمًا لَيْسَ تُغْنِي الْكَفَّارَةُ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ صَالِحٍ..
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو اپنے گھر والوں کے بارے میں قسم کے اندر ضد کرتا ہے وہ بہت بڑا گناہ گار ہے، اس میں کفارہ بھی کفایت نہیں کرتا۔“
وَأَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ إِجَازَةً، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْقَارِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " مِنَ اسْتَلَجَّ فِي أَهْلِهِ بِيَمِينِهِ، فَهُوَ أَعْظَمُ إِثْمًا ".
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن صالح وحاظی رحمہ اللہ اپنی سند سے ذکر کرتے ہیں کہ ”جب آدمی اپنے گھر والوں کے بارے میں قسم کے لیے ضد کرتا ہے تو وہ گناہ کے اعتبار سے بڑا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَلَا تَجْعَلُوا اللهَ عُرْضَةً لِأَيْمَانِكُمْ} [البقرة: ٢٢٤]، يَقُولُ: " لَا تَجْعَلْنِي عُرْضَةً لِيَمَيْنِكَ، أَنْ لَا تَصْنَعَ الْخَيْرَ، وَلَكِنْ كَفَرْ عَنْ يَمِينِكَ، وَاصْنَعِ الْخَيْرَ ".
حافظ ثناء اللہ
علی بن ابو طلحہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿وَلَا تَجْعَلُوا اللّٰهَ عُرْضَةً لِّاَيْمَانِكُمْ﴾ [سورة البقرة: 224] ”تم اپنی قسموں کا نشانہ اللہ کو نہ بناؤ۔“ کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ وہ فرماتے ہیں کہ تم اپنی قسموں کا نشانہ اللہ کو نہ بناؤ کہ پھر تم بھلائی نہ کرو، بلکہ قسم کا کفارہ دے کر اچھا کام کرلو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي قَوْلِهِ {وَلَا تَجْعَلُوا اللهَ عُرْضَةً لِأَيْمَانِكُمْ} [البقرة: ٢٢٤]، قَالَ: " لَا تَعْتَلُّوا بِاللهِ، لَا يَقُولُ أَحَدُكُمْ إِنِّي آلَيْتُ أَنْ لَا أَصْلَ رَحِمًا، وَلَا أَسْعَى فِي صَلَاحٍ، وَلَا أَتَصَدَّقَ مِنْ مَالِي كَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ، وَائْتِ اللهَ الَّذِي حَلَفْتَ عَلَيْهِ "، وَهُوَ قَوْلُ قَتَادَةَ.
حافظ ثناء اللہ
قتادہ رحمہ اللہ حضرت حسن رحمہ اللہ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿وَلَا تَجْعَلُوا اللَّهَ عُرْضَةً لِّأَيْمَانِكُمْ﴾ [سورة البقرة: 224] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ تم اللہ کی قسم نہ اٹھاؤ، تم میں سے کوئی یہ نہ کہے: اللہ کی قسم! میں صلہ رحمی نہ کروں گا، اصلاح نہ کروں گا، اپنے مال سے صدقہ نہ کروں گا؛ (بلکہ ایسی صورت میں) اپنی قسم کو ختم کرے اور کفارہ دے۔