کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: قسم کھانے والے کا اپنی قسم اور استثناء کے درمیان آواز ٹوٹنے یا سانس لینے کی وجہ سے تھوڑی دیر خاموش رہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 19927
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْأَسْفَاطِيُّ - يَعْنِي: الْعَبَّاسَ بْنَ الْفَضْلِ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " وَاللهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا، وَاللهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا، ثُمَّ سَكَتَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ إِنْ شَاءَ اللهُ "،.
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں قریش سے غزوہ کروں گا، اللہ کی قسم! میں قریش سے غزوہ کروں گا۔“ پھر تھوڑی دیر خاموش رہے، پھر کہا: ”«إِنْ شَاءَ اللَّهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“۔“
حدیث نمبر: 19928
وَرَوَاهُ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، عَنْ شَرِيكٍ كَذَلِكَ مَوْصُولًا، وَقَالَ:، ثُمَّ سَكَتَ سَكْتَةً، ثُمَّ قَالَ: " إِنْ شَاءَ اللهُ "، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ، ثنا شَرِيكٌ فَذَكَرَهُ، وَرَوَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شَرِيكٍ، فَأَرْسَلَهُ، وَلَمْ يَذْكُرِ السُّكَاتَ.
حافظ ثناء اللہ
شریک رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح منقول ہے، فرماتے ہیں کہ پھر تھوڑی دیر خاموش رہے اور پھر فرمایا: ”«إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“”۔
حدیث نمبر: 19929
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " وَاللهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا، وَاللهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا، وَاللهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا، ثُمَّ قَالَ: إِنْ شَاءَ اللهُ "، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مِسْعَرٌ، عَنْ سِمَاكٍ مُرْسَلًا، وَذَكَرَ السُّكَاتَ فِي آخِرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں قریش سے غزوہ کروں گا۔ اللہ کی قسم! میں قریش سے غزوہ کروں گا۔ اللہ کی قسم! میں قریش سے غزوہ کروں گا“، پھر فرمایا: «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”ان شاء اللہ۔“
حدیث نمبر: 19930
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أنبأ ابْنُ بِشْرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ يَرْفَعُهُ قَالَ: " وَاللهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا "، ثُمَّ قَالَ: " إِنْ شَاءَ اللهُ "، ثُمَّ قَالَ: " وَاللهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا، إِنْ شَاءَ اللهُ "، ثُمَّ قَالَ: " وَاللهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا "، ثُمَّ سَكَتَ، ثُمَّ قَالَ: " إِنْ شَاءَ اللهُ "، قَالَ الشَّيْخُ: يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنْ صَحَّ هَذَا - لَمْ يَقْصِدْ رَدَّ الِاسْتِثْنَاءِ إِلَى الْيَمِينِ، وَإِنَّمَا قَالَ ذَلِكَ لِقَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَلِكَ غَدًا إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللهُ} [الكهف: ٢٤].
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ مرفوع حدیث بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں ضرور قریش سے غزوہ کروں گا“، پھر فرمایا: «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”ان شاء اللہ۔“ پھر فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں ضرور قریش سے غزوہ کروں گا، «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ان شاء اللہ۔“ پھر فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں ضرور قریش سے غزوہ کروں گا“، پھر خاموش رہے، پھر فرمایا: «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”ان شاء اللہ۔“
شیخ فرماتے ہیں: اس میں قسم کے اندر استثناء کا رد نہیں ہے، بلکہ یہ اللہ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَلِكَ غَدًا﴾ [سورة الكهف: 23] ”اور آپ کسی کام کے لیے یہ نہ کہیں کہ میں کل اس کو کرنے والا ہوں۔“
شیخ فرماتے ہیں: اس میں قسم کے اندر استثناء کا رد نہیں ہے، بلکہ یہ اللہ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَلِكَ غَدًا﴾ [سورة الكهف: 23] ”اور آپ کسی کام کے لیے یہ نہ کہیں کہ میں کل اس کو کرنے والا ہوں۔“
حدیث نمبر: 19931
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، أنبأ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، " أَنَّهُ كَانَ يَرَى الِاسْتِثْنَاءَ، وَلَوْ بَعْدَ سَنَةٍ "، ثُمَّ قَرَأَ {وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ⦗٨٣⦘ ذَلِكَ غَدًا إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللهُ وَاذْكُرْ رَبَّكَ إِذَا نَسِيتَ} [الكهف: ٢٣]، قَالَ: " إِذَا ذَكَرْتَ "، قَالَ الشَّيْخُ: كَذَا قَالَ: وَبِقَوْلِ ابْنِ عُمَرَ نَقُولُ فِي ذَلِكَ فِي الْأَيْمَانِ، وَقَدْ يَحْتَمِلُ قَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِهِ أَنَّهُ يَكُونُ مُسْتَعْمِلًا لِلْآيَةِ، وَإِنْ ذَكَرَ الِاسْتِثْنَاءَ بَعْدَ حِينٍ فِي مِثْلِ مَا وَرَدَتْ فِيهِ الْآيَةُ، لَا فِيمَا يَكُونُ يَمِينًا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما استثناء کو صحیح خیال کرتے تھے، اگرچہ وہ ایک سال کے بعد بھی ہو۔ پھر پڑھا: ﴿وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَلِكَ غَدًا * إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ وَاذْكُرْ رَبَّكَ إِذَا نَسِيتَ﴾ [سورة الكهف: 23-24] ”یہ نہ کہو کہ یہ کام میں کل کروں گا، ہاں اگر اللہ نے چاہا اور اللہ کا ذکر کیجیے، جب آپ بھول جائیں، یعنی جس وقت یاد آئے۔“
تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جب بھی استثناء کرنا یاد آ جائے تو کر لے۔“
تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جب بھی استثناء کرنا یاد آ جائے تو کر لے۔“