کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: نذر پوری کرنے کا بیان۔
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ فِي مَدْحِ قَوْمٍ {يُوفُونَ بِالنَّذْرِ وَيَخَافُونَ يَوْمًا كَانَ شَرُّهُ مُسْتَطِيرًا} [الإنسان: 7]، وَقَالَ فِي ذَمِّ آخَرِينَ {وَمِنْهُمْ مَنْ عَاهَدَ اللهَ لَئِنْ آتَانَا مِنْ فَضْلِهِ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَكُونَنَّ مِنَ الصَّالِحِينَ فَلَمَّا آتَاهُمْ مِنْ فَضْلِهِ بَخِلُوا بِهِ وَتَوَلَّوْا وَهُمْ مُعْرِضُونَ فَأَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِي قُلُوبِهِمْ إِلَى يَوْمِ يَلْقَوْنَهُ بِمَا أَخْلَفُوا اللهَ مَا وَعَدُوهُ وَبِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ} [التوبة: 76].
حافظ ثناء اللہ
اللہ جل ثناؤہ نے ایک قوم کی مدح میں فرمایا: ﴿يُوفُونَ بِالنَّذْرِ وَيَخَافُونَ يَوْمًا كَانَ شَرُّهُ مُسْتَطِيرًا﴾ ”وہ نذر پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی برائی ہر طرف پھیلی ہوئی ہو گی۔“ [سورة الإنسان: 7]
اور دوسرے لوگوں کی مذمت میں فرمایا: ﴿وَمِنْهُمْ مَنْ عَاهَدَ اللهَ لَئِنْ آتَانَا مِنْ فَضْلِهِ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَكُونَنَّ مِنَ الصَّالِحِينَ فَلَمَّا آتَاهُمْ مِنْ فَضْلِهِ بَخِلُوا بِهِ وَتَوَلَّوْا وَهُمْ مُعْرِضُونَ فَأَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِي قُلُوبِهِمْ إِلَى يَوْمِ يَلْقَوْنَهُ بِمَا أَخْلَفُوا اللهَ مَا وَعَدُوهُ وَبِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ﴾ ”اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا کہ اگر اس نے ہمیں اپنے فضل سے عطا کیا تو ہم ضرور صدقہ کریں گے اور ضرور نیک لوگوں میں سے ہو جائیں گے، پھر جب اس نے انہیں اپنے فضل سے عطا کیا تو انہوں نے اس میں بخل کیا اور منہ پھیر گئے اور وہ اعراض کرنے والے ہیں، تو اس کے نتیجے میں اس نے ان کے دلوں میں اس دن تک کے لیے نفاق ڈال دیا جس دن وہ اس سے ملیں گے، اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا تھا اس کی خلاف ورزی کی اور اس وجہ سے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔“ [سورة التوبة: 75-77]
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 20087
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي رِوَايَةِ سُفْيَانَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا، وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْ نِفَاقٍ حَتَّى يَدَعَهَا: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سفیان رحمہ اللہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس میں چار چیزیں پائی گئیں، وہ پکا منافق ہے۔ جس میں چار میں سے ایک ہوئی اس میں نفاق کی ایک علامت ہے یہاں تک کہ اس کو چھوڑ دے: (1) جب بات کرے جھوٹ بولے، (2) وعدہ خلافی کرے، (3) جھگڑتے ہوئے گالی گلوچ دے، (4) معاہدے کو توڑے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 20087
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، ثنا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي أَبُو جَمْرَةَ قَالَ: دَخَلَ عَلَيَّ زَهْدَمٌ فَأَخْبَرَنِي أَنَّهَ سَمِعَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُكُمْ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَكُونُ قَوْمٌ بَعْدَهُمْ، يَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ، وَيَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ، وَيَنْذِرُونَ وَلَا يُوفُونَ، وَيَظْهَرُ فِيهِمْ السِّمَنُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
ابو جمرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زہدم رحمہ اللہ میرے پاس آئے، انہوں نے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بہترین زمانہ میرا ہے، پھر ان کا جو میرے بعد آئیں گے، پھر ان کا جو ان کے بعد آئیں گے، پھر ان کے بعد ایک ایسی قوم آئے گی جو خیانت کرے گی اور امانت دار نہ ہوگی، وہ گواہی دیں گے حالانکہ ان سے گواہی کا مطالبہ نہ ہوگا اور وہ نذریں مانیں گے لیکن انہیں پورا نہ کریں گے اور ان میں موٹاپا ظاہر ہوگا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 20088
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»