کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: ان نذروں کا بیان جو پوری کی جائیں گی اور جو پوری نہیں کی جائیں گی۔
حدیث نمبر: 20089
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ إِمْلَاءً أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ، أنبأ أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللهَ فَلْيُطِعْهُ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَهُ فَلَا يَعْصِهِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اطاعت کی نذر مانی وہ اسے پوری کرے اور جس نے نافرمانی کی نذر مانی وہ اسے پورا نہ کرے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النذور / حدیث: 20089
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 6696۔ 6700»
حدیث نمبر: 20090
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ح، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ بْنِ وَاقِدٍ الْكِلَابِيُّ قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَتْ ثَقِيفُ حُلَفَاءَ لِبَنِي عُقَيْلٍ فَأَسَرَتْ ثَقِيفُ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَسَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا، وَأَصَابُوا مَعَهُ الْعَضْبَاءَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ كَمَا مَضَى وَفِيهِ قَالَ: وَأُسِرَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَأُصِيبَتِ الْعَضْبَاءُ فَكَانَتِ الْمَرْأَةُ فِي الْوَثَاقِ، وَكَانَ الْقَوْمُ يُرِيحُونَ نَعَمَهُمْ بَيْنَ أَيْدِي بُيُوتِهِمْ، فَانْفَلَتَتْ ذَاتَ لَيْلَةٍ مِنَ الْوَثَاقِ، فَأَتَتِ الْإِبِلَ، فَجَعَلَتْ إِذَا دَنَتْ مِنَ الْبَعِيرِ رَغَا فَتَتْرُكُهُ حَتَّى تَنْتَهِيَ إِلَى الْعَضْبَاءِ فَلَمْ تَرْغُ قَالَ: وَنَاقَةٌ مَنُوقَةٌ فَقَعَدَتْ فِي عَجُزِهَا، ثُمَّ زَجَرَتْهَا فَانْطَلَقَتْ وَنَذَرُوا بِهَا فَطَلَبُوهَا فَأَعْجَزَتْهُمْ قَالَ: وَنَذَرَتْ إِنِ اللهُ أَنْجَاهَا لَتَنْحَرَنَّهَا فَلَمَّا قَدِمَتِ الْمَدِينَةَ رَآهَا النَّاسُ فَقَالُوا: " الْعَضْبَاءُ نَاقَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّهَا قَدْ نَذَرَتْ إِنِ اللهُ أَنْجَاهَا عَلَيْهَا لَتَنْحَرَنَّهَا فَأَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " سُبْحَانَ اللهِ بِئْسَ مَا جَزَتْهَا إِنِ اللهُ أَنْجَاهَا عَلَيْهَا لَتَنْحَرَنَّهَا لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ، وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ الْعَبْدُ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
ابو مہلب سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ قبیلہ ثقیف، قبیلہ بنو عقیل کے حلیف تھے۔ ثقیف نے نبی ﷺ کے دو صحابہ رضی اللہ عنہما کو قیدی بنا لیا اور نبی ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے ایک آدمی کو قید کر لیا اور انہوں نے اس کی اونٹنی بھی قبضے میں لے لی۔ اس نے حدیث کو ذکر کیا۔ انصاری عورت قیدی بنائی گئی۔ عضباء اونٹنی چوری کر لی گئی۔ وہ عورت قید میں تھی اور لوگ اپنے جانور اپنے گھروں کے سامنے چراتے تھے۔ وہ عورت ایک رات قید سے نکلی اور کھسک کر اونٹوں کے پاس پہنچ گئی۔ جب وہ کسی اونٹ کے پاس جاتی وہ آواز نکالتا تو وہ اس کو چھوڑ دیتی یہاں تک کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی عضباء اونٹنی تک پہنچ گئی۔ اس نے آواز نہ نکالی۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ نکیل والی اونٹنی تھی۔ اس عورت نے اس پر سواری کی اور رجزیہ اشعار کہے اور چلی گئی۔ انہوں نے نذر مانی، اس عورت کو تلاش کرنا چاہا تو اس عورت نے ان کو عاجز کر دیا۔ اس نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ نے اس کو نجات دی تو وہ اس کو ذبح کرے گی۔ جب وہ مدینہ آئی تو لوگوں نے اس کو دیکھا تو کہنے لگے کہ عضباء نبی ﷺ کی اونٹنی ہے۔ اس عورت نے کہا: میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ نے مجھے نجات دی تو وہ اس کو ذبح کرے گی، وہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور اس بات کا انہوں نے تذکرہ کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ پاک ہے، اگر اللہ نے اس اونٹنی پر اس کو نجات دی تو وہ اس کو ذبح کرے گی، یہ برا ہے۔“ پھر فرمایا: ”اللہ کی نافرمانی میں نذر کا پورا کرنا نہیں اور جس کا بندہ مالک نہیں (اس میں بھی نذر نہیں)۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النذور / حدیث: 20090
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1641»
حدیث نمبر: 20091
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيٍّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ خَنْبٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَارِثٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ امْرَأَةَ أَبِي ذَرٍّ جَاءَتْ عَلَى الْقَصْوَاءِ رَاحِلَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَنَاخَتْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ، فَقَالَتْ: " يَا رَسُولَ اللهِ، " نَذَرْتُ لَئِنْ نَجَّانِي اللهُ عَلَيْهَا لَآكُلَنَّ مِنْ كَبِدِهَا وَسَنَامِهَا "، قَالَ: " بِئْسَمَا جَزَيْتِيهَا لَيْسَ هَذَا نَذْرًا، إِنَّمَا النَّذْرُ مَا ابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُ اللهِ ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ابوذر رضی اللہ عنہ کی بیوی قصواء اونٹنی پر آئی، اس کو مسجد کے قریب بٹھا دیا گیا۔ کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ نے مجھے نجات دی تو میں اس کا جگر اور کوہان کا گوشت کھاؤں گی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے برا بدلہ دیا ہے۔“ فرمایا: ”یہ نذر نہیں، نذر صرف وہ ہوتی ہے جس میں اللہ کی رضا تلاش کی جائے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النذور / حدیث: 20091
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 20092
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ح ⦗١٣٠⦘ وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ قَالَا: ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا وُهَيْبٌ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ قَائِمٍ فِي الشَّمْسِ، فَسَأَلَ عَنْهُ، فَقَالُوا: هَذَا أَبُو إِسْرَائِيلَ نَذَرَ أَنْ يَقُومَ وَلَا يَقْعُدَ، وَلَا يَسْتَظِلَّ وَلَا يَتَكَلَّمَ، وَيَصُومَ وَلَا يُفْطِرَ، فَقَالَ: " مُرْهُ فَلْيَتَكَلَّمْ وَلْيَسْتَظِلَّ وَلْيَقْعُدْ، وَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ.
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ اچانک ایک آدمی دھوپ میں کھڑا تھا۔ آپ ﷺ نے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا: ”یہ ابواسرائیل ہے، اس نے کھڑے رہنے اور نہ بیٹھنے کی نذر مانی ہے اور نہ سائے میں جائے گا اور نہ ہی کلام کرے گا، اور روزے رکھے گا، افطار نہیں کرے گا۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو حکم دو کہ کلام کرے، سایہ حاصل کرے، بیٹھے اور اپنا روزہ پورا کرے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النذور / حدیث: 20092
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 6704»
حدیث نمبر: 20093
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الشَّافِعِيِّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِأَبِي إِسْرَائِيلَ وَهُوَ قَائِمٌ فِي الشَّمْسِ فَقَالَ: " مَا لَهُ؟ " فَقَالُوا: " نَذَرَ أَنْ لَا يَسْتَظِلَّ، وَلَا يَقْعُدَ، وَلَا يُكَلِّمَ أَحَدًا، وَيَصُومَ "، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهَ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْتَظِلَّ، وَأَنْ يَقْعُدَ، وَأَنْ يُكَلِّمَ النَّاسَ، وَيُتِمَّ صَوْمَهُ، وَلَمْ يَأْمُرْهُ بِكَفَّارَةٍ ". هَذَا مُرْسَلٌ جَيِّدٌ وَفِيهِ، وَفِيمَا قَبْلَهُ، دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ لَمْ يَأْمُرْ بِكَفَّارَةٍ. وَرَوَاهُ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِمِثْلِهِ، وَفِي آخِرِهِ: وَلَمْ يَأْمُرْهُ بِالْكَفَّارَةِ " وَرُوِيَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كُرَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَفِيهِ الْأَمْرُ بِالْكَفَّارَةِ " وَمُحَمَّدُ بْنُ كُرَيْبٍ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
طاؤس رحمہ اللہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ابو اسرائیل رضی اللہ عنہ، جو دھوپ میں کھڑے تھے، کو حکم دیا اور فرمایا: ”اس کو کیا ہے؟“ انہوں نے کہا کہ اس نے نذر مانی ہے کہ وہ نہیں بیٹھے گا اور نہ سایہ حاصل کرے گا اور نہ کسی سے کلام کرے گا اور روزہ رکھے گا، تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ: ”وہ سایہ حاصل کرے اور بیٹھ جائے اور لوگوں سے کلام کرے اور روزہ پورا کرے“ اور آپ ﷺ نے اس کو کفارے کا حکم نہیں دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النذور / حدیث: 20093
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 20094
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي عِيسَى، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ السَّبَئِيُّ الشَّهِيدُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ أَبُو إِسْرَائِيلَ بْنُ قُشَيْرٍ إِنَّهُ كَانَ نَذَرَ أَنْ يَصُومَ، وَلَا يَقْعُدَ، وَلَا يَسْتَظِلَّ، وَلَا يَتَكَلَّمَ "، فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْعُدْ، وَاسْتَظِلَّ، وَتَكَلَّمْ، وَكَفِّرْ ". كَذَا وَجَدْتُهُ " وَكَفِّرْ " وَعِنْدِي أَنَّ ذَلِكَ تَصْحِيفٌ، إِنَّمَا هُوَ: " وَصُمْ " كَمَا هُوَ فِي سَائِرِ الرِّوَايَاتِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ابواسرائیل نے نذر مانی کہ وہ روزہ رکھے گا، نہیں بیٹھے گا، سایہ حاصل نہیں کرے گا اور کلام بھی نہ کرے گا۔ انہیں نبی ﷺ کے پاس لایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیٹھ، سایہ حاصل کر، کلام کر اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے۔“ اس طرح میں نے پایا ہے کہ ”قسم کا کفارہ دے“ اور میرے نزدیک یہ تصحیف ہے کہ ”تو روزہ رکھ“ جیسے تمام روایات میں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النذور / حدیث: 20094
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 20095
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَيَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَرَّقَهُمَا قَالَا: ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِيهِ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ قَالَ: حَدَّثَتْنِي لَيْلَى امْرَأَةُ بَشِيرِ بْنِ الْخَصَاصِيَةِ وَكَانَ اسْمُهُ قَبْلَ ذَلِكَ: زَحْمًا، فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَشِيرًا، قَالَتْ: حَدَّثَنِي بَشِيرٌ أَنَّهُ ⦗١٣١⦘ سَأَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، وَأَنْ لَا يُكَلِّمَ ذَلِكَ الْيَوْمَ أَحَدًا؟ قَالَ: فَقَالَ لَهُ: " لَا تَصُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَّا فِي أَيَّامٍ كُنْتَ تَصُومُهَا، أَوْ فِي شَهْرٍ، وَأَنْ لَا تُكَلِّمَ أَحَدًا، فَلَعَمْرِي لَأَنْ تَكَلَّمَ فَتَأْمُرَ بِمَعْرُوفٍ، أَوْ تَنْهَى عَنْ مُنْكَرٍ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَسْكُتَ ".
حافظ ثناء اللہ
بشیر بن خصاصیہ رضی اللہ عنہ کی بیوی لیلیٰ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ان کا پہلا نام زحم تھا۔ نبی کریم ﷺ نے ان کا نام بشیر رکھا۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے جمعہ کے روزے کے بارے میں سوال کیا اور یہ کہ اس دن وہ کسی سے کلام بھی نہیں کریں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان ایام کے روزے رکھ جن کے تو رکھتا ہے یا مہینے میں۔ میری عمر کی قسم! کسی سے کلام نہ کرو، لیکن اچھائی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا، یہ خاموشی سے بہتر ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النذور / حدیث: 20095
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسند احمد 21447»
حدیث نمبر: 20096
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو الْقَاسِمِ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ مِنْ أَصْلِهِ قَالَا: أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، ثنا بَيَانُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: " دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى امْرَأَةٍ مِنْ أَحْمَسَ يُقَالُ لَهَا: زَيْنَبُ، قَالَ: فَرَآهَا لَا تَكَلَّمُ، قَالَ: " مَا لِهَذِهِ لَا تَكَلَّمُ؟ "، قَالَ: فَقَالُوا: " حَجَّتْ مُصْمِتَةً فَقَالَ: " تَكَلَّمِي، فَإِنَّ هَذَا لَا يَحِلُّ، هَذَا مِنْ عَمَلِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَتَكَلَّمَتْ، فَقَالَتْ: " مَنْ أَنْتَ؟ "، قَالَ: " أَنَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ "، قَالَتْ: " مِنْ أِيِّ الْمُهَاجِرِينَ؟ "، قَالَ: " مِنْ قُرَيْشٍ "، قَالَتْ: " مِنْ أِيِّ قُرَيْشٍ؟ "، قَالَ: " إِنَّكِ لَسئُولٌ، أَنَا أَبُو بَكْرٍ "، فَقَالَتْ: " مَا بَقَاؤُنَا عَلَى هَذَا الْأَمْرِ الصَّالِحِ الَّذِي جَاءَ اللهُ بِهِ بَعْدَ الْجَاهِلِيَّةِ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ "، قَالَ: فَقَالَ: " بَقَاؤُكُمْ عَلَيْهِ مَا اسْتَقَامَتْ أَئِمَّتُكُمْ "، قَالَتْ: " وَمَا الْأَئِمَّةُ؟ "، قَالَ: " أَمَا كَانَ لِقَوْمِكِ رُءُوسٌ وَأَشْرَافٌ يَأْمُرُونَهُمْ وَيُطِيعُونَهُمْ؟ "، قَالَتْ: " بَلَى "، قَالَ: " فَهُمْ أَمْثَالُ أُولَئِكَ يَكُونُونَ عَلَى النَّاسِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ احمس قبیلہ کی ایک عورت کے پاس آئے، اس کا نام زینب تھا، انہوں نے دیکھا وہ کلام نہیں کرتی، پوچھا: تو کلام کیوں نہیں کرتی؟ راوی بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے کہا کہ اس نے حج خاموشی سے کیا ہے، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کلام کر! یہ جائز نہیں ہے، یہ جاہلیت کا کام ہے، کہنے لگی: آپ کون ہیں؟ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: میں مہاجرین میں سے ہوں، کہنے لگی: کون سے مہاجرین؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قریشی، کہنے لگی: کون سے قریش؟ فرمایا: میں ابوبکر ہوں، کہنے لگی: جاہلیت کے کون سے نیک اعمال ہیں جن پر اللہ نے ہمیں نبی ﷺ کے بعد باقی رکھا ہے؟ فرمایا: جن پر تمہارے ائمہ کو باقی رکھا ہے، کہنے لگی: ائمہ سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: کیا تمہاری قوم کے سردار اور اشراف نہیں جو انہیں نیکی کا حکم دیں اور اطاعت کے لیے ابھاریں؟ کہنے لگی: کیوں نہیں، فرمایا: اسی طرح لوگوں کے بھی ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النذور / حدیث: 20096
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 3834»
حدیث نمبر: 20097
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ أَتَى قُبَّةَ امْرَأَةٍ، فَسَلَّمَ فَلَمْ تُكَلِّمْهُ، فَلَمْ يَتْرُكْهَا حَتَّى كَلَّمَتْهُ، قَالَتْ: " يَا عَبْدَ اللهِ، مَنْ أَنْتَ؟ "، قَالَ: " مِنَ الْمُهَاجِرِينَ "، قَالَتْ: " الْمُهَاجِرُونَ كَثِيرٌ، فَمِنْ أَيِّهِمْ أَنْتَ؟ "، قَالَ: فَقَالَ: " مِنْ قُرَيْشٍ "، قَالَتْ: " قُرَيْشٌ كَثِيرٌ، فَمِنْ أَيِّهِمْ أَنْتَ؟ "، قَالَ: " أَنَا أَبُو بَكْرٍ "، قَالَتْ: " بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي كَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ شَيْءٌ، فَحَلَفْتُ إِنِ اللهُ عَافَانَا أَنْ لَا أُكَلِّمَ أَحَدًا حَتَّى أَحُجَّ "، قَالَ: " إِنَّ الْإِسْلَامَ هَدَمَ ذَلِكَ، فَتَكَلَّمِي ".
حافظ ثناء اللہ
زید بن وہب رحمہ اللہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ ایک عورت کے خیمے کے پاس آئے۔ اس پر سلام کہا، اس نے کلام نہ کیا۔ انہوں نے بھی کلام کرنے تک اس کو نہ چھوڑا۔ وہ کہنے لگی: اے اللہ کے بندے! آپ کون ہیں؟ فرمایا: مہاجرین میں سے۔ کہنے لگی: کون سے مہاجرین؟ کیونکہ مہاجرین بہت زیادہ ہیں۔ فرمایا: قریش سے۔ کہنے لگی: قریش بہت زیادہ ہیں، آپ کن میں سے ہیں؟ فرمایا: میں ابوبکر ہوں۔ کہنے لگی: میرے ماں باپ (آپ پر) قربان! ہمارے اور قوم کے درمیان جاہلیت میں کچھ معاہدہ تھا۔ میں نے حج کرنے تک قسم اٹھائی ہے کہ کسی سے کلام نہ کروں گی۔ فرمایا: اسلام نے اس کو ختم کر دیا ہے، تو کلام کر۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النذور / حدیث: 20097
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 20098
أَخْبَرَنَا الْفَقِيهُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَجَاءَ رَجُلَانِ، فَسَلَّمَ أَحَدُهُمَا، وَلَمْ يُسَلِّمِ الْآخَرُ، فَقُلْنَا، أَوْ قَالَ: " مَا بَالُ صَاحِبِكَ لَمْ يُسَلِّمْ؟ " قَالَ: " إِنَّهُ نَذَرَ صَوْمًا لَا يُكَلِّمُ الْيَوْمَ إِنْسِيًّا، قَالَ عَبْدُ اللهِ: بِئْسَ مَا قُلْتَ إِنَّمَا كَانَتْ تِلْكَ امْرَأَةً، قَالَتْ ذَلِكَ لِيَكُونَ لَهَا عُذْرٌ، وَكَانُوا يُنْكِرُونَ أَنْ يَكُونَ وَلَدٌ مِنْ غَيْرِ زَوْجٍ، وَلَا زِنًا "، أَوْ: إِلَّا زِنًا، فَسَلِّمْ، وَمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ ".
حافظ ثناء اللہ
حارثہ بن مضرب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ دو آدمی آئے۔ ایک نے سلام کیا اور دوسرے نے سلام نہ کیا۔ ہم نے کہا یا انہوں نے فرمایا: آپ کے ساتھی نے سلام نہیں کیا؟ وہ کہنے لگے: انہوں نے انسان سے کلام نہ کرنے کا روزہ رکھا ہوا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تو نے برا کہا، بلکہ یہ ایک عورت تھی جس نے عذر پیش کیا، وہ اس عورت کے بچے کا انکار کرتے تھے کہ یہ بچہ زنا کا ہے۔ نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النذور / حدیث: 20098
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»