کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جس نے کہا: ”اللہ کی بقا کی قسم“ (لعمر اللہ)۔
حدیث نمبر: 19893
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الْإِفْكِ مَا قَالُوا، فَبَرَّأَهَا اللهُ مِمَّا قَالُوا، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: " يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ مَنْ يَعْذِرُنَا مِنْ رَجُلٍ قَدْ بَلَغَنَا أَذَاهُ فِي أَهْلِ بَيْتِي، فَوَاللهِ مَا عَلِمْتُ فِي أَهْلِي إِلَّا خَيْرًا، وَلَقَدْ ذَكَرُوا رَجُلًا مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِ إِلَّا خَيْرًا، وَمَا كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أَهْلِي إِلَّا مَعِي "، فَقَامَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَا أَعْذِرُكَ مِنْهُ، إِنْ كَانَ مِنَ الْأَوْسِ ضَرَبْتُ عُنُقَهُ، وَإِنْ كَانَ مِنْ إِخْوَانِنَا مِنَ الْخَزْرَجِ، أَمَرْتَنَا فَفَعَلْنَا أَمْرَكَ، قَالَتْ: فَقَامَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَهُوَ سَيِّدُ الْخَزْرَجِ، وَكَانَ قَبْلَ ذَلِكَ رَجُلًا صَالِحًا، وَلَكِنِ احْتَمَلَتْهُ الْحَمِيَّةُ، فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ: كَذَبْتَ لَعَمْرُ اللهِ، لَا تَقْتُلُهُ، وَلَا تَقْدِرُ عَلَى قَتْلِهِ، فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَهُوَ ابْنُ عَمِّ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ: كَذَبْتَ لَعَمْرُ اللهِ، لَنَقْتُلَنَّهُ، فَإِنَّكَ مُنَافِقٌ، تُجَادِلُ عَنِ الْمُنَافِقِينَ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ يُونُسَ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمہم اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث نقل فرماتے ہیں کہ جب تہمت لگانے والوں نے باتیں کیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کو پاک کر دیا، یہ لمبی حدیث ہے۔ فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے منبر پر ارشاد فرمایا: ”اے مسلمانو کی جماعت! کون ہمیں راحت دے گا جس نے ہمارے گھر والوں کے بارے میں ہمیں تکلیف دی ہے؟ اللہ کی قسم! میں اپنے گھر والوں کے متعلق بھلائی ہی کو جانتا ہوں اور جس آدمی کا تذکرہ انہوں نے کیا ہے، اس میں بھی بھلائی ہی کو پاتا ہوں، وہ صرف میرے گھر والوں کے پاس میرے ساتھ ہی گیا ہے۔“ تو سیدنا سعد بن معاذ انصاری رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کرنے لگے: ”اے اللہ کے نبی ﷺ! اگر وہ اوس قبیلہ سے ہے تو میں اس کی گردن اتار دوں گا اور اگر وہ ہمارے بھائیوں خزرج کے قبیلہ سے ہے تو جو آپ کا حکم (ہوگا وہ) سر آنکھوں پر۔“ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ جو خزرج کے سردار تھے کھڑے ہو گئے، یہ نیک آدمی تھے لیکن حمیت نے ابھارا تو وہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے: ”اللہ کی قسم! تم نے جھوٹ بولا ہے، نہ تم اسے قتل کرو گے اور نہ تم اس کی طاقت رکھتے ہو۔“ تو سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ جو سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے چچا زاد بھائی تھے کھڑے ہو کر سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے: ”تم نے جھوٹ بولا ہے، اللہ کی قسم! ہم اس کو قتل کریں گے، تم منافق ہو اور منافقین کی جانب سے جھگڑا کرتے ہو۔“