کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: جس شخص نے قسم کھائی کہ وہ اپنے غلام کو سو کوڑے مارے گا، پھر اس نے ان (کوڑوں) کو جمع کیا اور ایک ہی بار مار دیا تو اس کی قسم نہیں ٹوٹے گی، اللہ عزوجل کے اس فرمان سے استدلال کرتے ہوئے: ”اور اپنے ہاتھ میں سینکوں کی ایک مٹھی لو اور اس سے مارو اور قسم نہ توڑو“۔
حدیث نمبر: 20030
بِقَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِهِ وَلَا تَحْنَثْ} [ص: 44].
حافظ ثناء اللہ
(اس سے استدلال کیا گیا ہے) اللہ عزوجل کے اس فرمان سے: ﴿وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِهِ وَلَا تَحْنَثْ﴾ ”اور اپنے ہاتھ میں تنکوں کا ایک مٹھا لو اور اس سے مارو اور قسم نہ توڑو۔“ [سورة ص: 44]
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 20030
حدیث نمبر: 20030
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمَذَانِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَّهُ اشْتَكَى رَجُلٌ مِنْهُمْ حَتَّى أُضْنِيَ، فَعَادَ جِلْدُهُ عَلَى عَظْمٍ، فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ جَارِيَةٌ لِبَعْضِهِمْ فَهَشَّ لَهَا فَوَقَعَ عَلَيْهَا، ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّتَهُ قَالَ: " فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْخُذُوا لَهُ مِائَةَ شِمْرَاخٍ، فَيَضْرِبُوهُ بِهَا ضَرْبَةً وَاحِدَةً ".
حافظ ثناء اللہ
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کے انصاری صحابہ رضی اللہ عنہم سے نقل کیا کہ ایک آدمی بیماری کی وجہ سے تڑپ رہا تھا، اس کی جلد اس کی ہڈی پر چڑ چکی تھی، اس کے پاس ایک لونڈی آئی جس نے ہنس مکھ ہو کر اس سے باتیں کیں تو وہ اس پر واقع ہو گیا، پھر اس نے اپنا واقعہ نبی ﷺ کے پاس ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو شاخیں جمع کر کے ایک ہی مرتبہ مارو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 20030
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه السجستاني 4472»
حدیث نمبر: 20031
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: " جَاءَهُ رَجُلٌ وَأَنَا عِنْدَهُ، فَقَالَ: " إِنِّي حَلَفْتُ أَنْ لَا أَكْسُوَ أَهْلِي حَتَّى أَقِفَ بِعَرَفَةَ وَذَاكَ فِي غَيْرِ أَيَّامِ الْحَجِّ فَقَالَ عَطَاءٌ: " اذْهَبْ فَقِفْ، وَاكْسُ أَهْلَكَ "، فَقِيلَ لِعَطَاءٍ: " إِنَّمَا نَوَى الْحَجَّ "، فَقَالَ عَطَاءٌ: أَرَأَيْتَ أَيُّوبَ عَلَيْهِ السَّلَامُ حِينَ حَلَفَ لَيَضْرِبَنَّ أَهْلَهُ، حَلَفَ لَيَضْرِبَنَّهَا بِضِغْثٍ؟ إِنَّمَا الْقُرْآنُ أَمْثَالٌ وَعِبَرٌ ".
حافظ ثناء اللہ
اسماعیل بن عبدالملک رحمہ اللہ حضرت عطاء رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور میں بھی موجود تھا، اس نے کہا: میں نے اپنے گھر والوں کو وقوفِ عرفہ تک کپڑے نہ پہنانے کی قسم اٹھائی ہے لیکن یہ حج کے دن نہ تھے، تو عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جاؤ اپنے گھر والوں کو کپڑے پہناؤ۔ عطاء رحمہ اللہ سے کہا گیا کہ اس نے حج کی نیت کی تھی، تو عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایوب علیہ السلام نے بھی اپنے گھر والوں کو مارنے کی قسم اٹھائی تھی کہ وہ ایک مٹھے سے ماریں گے، قرآن میں کئی مثالیں موجود ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 20031
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»