کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اللہ عزوجل کی، یا اللہ عزوجل کے ناموں میں سے کسی نام کی قسم کھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 19807
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ح وَأنبأ أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ، قَالَ: " وَاللهِ مَا أَحْمِلُكُمْ، وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ "، قَالَ: فَلَبِثْنَا مَا شَاءَ اللهُ، ثُمَّ أُتِيَ بِإِبِلٍ، فَأَمَرَ لَنَا بِثَلَاثِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى، فَلَمَّا انْطَلَقْنَا قُلْنَا، أَوْ قَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ: لَا يُبَارَكُ اللهُ لَنَا أَتَيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ، فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا، ثُمَّ حَمَلَنَا، فَأَتَوْهُ فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ: " مَا أَنَا حَمَلْتُكُمْ وَلَكِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَ حَمَلَكُمْ، إِنِّي وَاللهِ إِنْ شَاءَ اللهُ، لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ، ثُمَّ أَرَى خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا كَفَّرْتُ يَمِينِي، وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ "، لَفْظُ حَدِيثِ خَلَفِ بْنِ هِشَامٍ، وَحَدِيثُ الطَّيَالِسِيُّ بِمَعْنَاهُ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ، وَقُتَيْبَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ خَلَفِ بْنِ هِشَامٍ، وَغَيْرِهِ، كُلُّهُمْ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اشعریوں کے ایک گروہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا تھا کہ آپ ﷺ ہمیں سواریاں مہیا کر دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں تمہیں سوار نہ کروں گا اور میرے پاس سواریاں نہیں جن پر تمہیں سوار کروں۔“ وہ کہتے ہیں: جتنی دیر اللہ نے چاہا ہم ٹھہرے رہے۔ پھر آپ ﷺ کے پاس اونٹ لائے گئے، آپ ﷺ نے ہمارے لیے حکم فرمایا کہ تین اونٹ سفید کوہانوں والے دیے جائیں۔ جب ہم چلے تو ہم نے کہا یا بعض لوگوں نے کہا: اللہ ہمیں برکت نہ دے، ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس سواریاں طلب کرنے کے لیے آتے تھے۔ آپ ﷺ نے قسم اٹھائی کہ وہ ہم کو سوار نہ کریں گے لیکن بعد میں سواریاں مہیا فرما دیں۔ وہ آپ ﷺ کے پاس آئے اور خبر دی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تمہیں سوار نہ کیا بلکہ اللہ نے تمہیں سوار کیا اور اگر میں قسم اٹھا لوں پھر اس سے بہتر کام دیکھوں تو وہ کر لیتا ہوں اور اپنی قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 19807
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
حدیث نمبر: 19808
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَتْ: فَقَالَ: " وَاللهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ، لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدَةَ،، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ کے دور میں سورج گرہن ہو گیا۔ (لمبی حدیث ہے) آخر میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اگر تم وہ جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم ہنسو کم اور روؤ زیادہ۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 19808
حدیث نمبر: 19809
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا ⦗٤٧⦘ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ تَعْلمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا، وَلَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا "، أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ مَعْمَرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو تو مجھے زیادہ محبوب ہے کہ وہ میرے پاس تین رات تک نہ رہے اور میرے پاس اس میں سے ایک دینار بھی نہ ہو، صرف قرض کے لیے کچھ بچا کر رکھوں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 19809
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه، بدون لفظ القسم»
حدیث نمبر: 19810
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَحْمَدُ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ عِنْدِي أُحُدًا ذَهَبًا، لَأَحْبَبْتُ أَنْ لَا يَأْتِيَ عَلَيَّ ثَلَاثُ لَيَالٍ، وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ أَجِدُ مَنْ يَتَقَبَّلُهُ، إِلَّا شَيئًا أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ عَلَيَّ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم زیادہ رویا کرو اور کم ہنسا کرو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 19810
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 6630»
حدیث نمبر: 19811
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ شُمَيْخٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اجْتَهَدَ فِي الْيَمِينِ قَالَ: " لَا وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الْقَاسِمِ بِيَدِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب بھی نبی ﷺ قسم اٹھاتے تو فرماتے: ”قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں ابوالقاسم کی جان ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 19811
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 19812
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ أَبِي هَاشِمٍ الْعَلَوِيُّ بِالْكُوفَةِ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي بِنَيْسَابُورَ، قَالَا: أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، فَلَمَّا رَآنِي قَالَ: " هُمُ الْأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ "، قَالَ: فَجِئْتُ حَتَّى جَلَسْتُ، فَلَمْ أَتَقَارَّ أَنْ قُمْتُ، فَقُلْتُ: فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ، مَنْ هُمْ؟ قَالَ: " هُمُ الْأَكْثَرُونَ أَمْوَالًا، إِلَّا مَنْ قَالَ بِالْمَالِ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا مِنْ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَمِنْ خَلْفِهِ، وَعَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ شِمَالِهِ، وَقَلِيلٌ مَا هُمْ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ وَكِيعٍ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس گیا، آپ ﷺ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ جب آپ ﷺ نے مجھے دیکھا تو فرمایا: ”وہ خسارہ پا گئے، ربِ کعبہ کی قسم!“ فرماتے ہیں: میں آیا اور بیٹھ گیا لیکن ابھی جم کر بیٹھا بھی نہ تھا کہ اٹھ کھڑا ہوا۔ میں نے کہا: میرے ماں باپ فدا، وہ کون لوگ ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”امیر لوگ، لیکن جنہوں نے اپنے مال سے ایسے ایسے کیا، یعنی سامنے، پیچھے، دائیں اور بائیں خرچ کیا، لیکن یہ لوگ تھوڑے ہیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 19812
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
حدیث نمبر: 19813
عَنْ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَيْهِ، وَهُوَ يَقُولُ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ: " هُمُ الْأَخْسَرُونَ، وَرَبِّ الْكَعْبَةِ "، قُلْتُ: مَا شَأْنِي؟ أَيَرَى فِيَّ شَيْئًا، فَجَلَسْتُ وَهُوَ يَقُولُ، فَمَا اسْتَطَعْتُ أَنْ أَسْكُتَ، وَتَغَشَّانِي مَا شَاءَ اللهُ، فَقُلْتُ: مَنْ هُمْ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " الْأَكْثَرُونَ أَمْوَالًا، إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا "، أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، ثنا أَبِي، ثنا الْأَعْمَشُ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں نبی کریم ﷺ کے پاس گیا تو آپ ﷺ کعبہ کے سائے میں بیٹھے فرما رہے تھے: ”رب کعبہ کی قسم! وہ خسارہ پانے والے ہیں۔“ میں نے (اپنے جی میں) کہا: میری کیا حالت ہے؟ کیا نبی کریم ﷺ نے میرے اندر کوئی چیز دیکھی ہے؟ میں بیٹھ گیا اور آپ ﷺ (وہی بات) فرما رہے تھے، میں خاموش نہ رہ سکا اور مجھے کسی ایسی کیفیت نے ڈھانپ لیا جو اللہ نے چاہا، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، وہ کون لوگ ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”زیادہ مال والے، لیکن اس طرح اس طرح یعنی مال خرچ کرنے والے محفوظ رہیں گے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 19813
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»
حدیث نمبر: 19814
وأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْعَطَّارُ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، أنبأ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَعْلَمُ إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً، وَإِذَا كُنْتِ عَلَيَّ غَضْبَى "، قَالَتْ: قُلْتُ: مِنْ أَيْنَ تَعْلَمُ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً قُلْتِ: لَا، وَرَبِّ مُحَمَّدٍ، وَإِذَا كُنْتِ عَلَيَّ غَضْبَى قُلْتِ: لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”میں جان جاتا ہوں جب تم مجھ پر ناراض ہوتی ہو یا خوش۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کو کیسے پتہ چلتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو تب تم کہتی ہو: «لَا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ» ”نہیں، محمد (ﷺ) کے رب کی قسم!“ لیکن جب ناراض ہوتی ہو اس وقت «لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ» ”نہیں، ابراہیم (علیہ السلام) کے رب کی قسم!“ کہتی ہو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 19814
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
حدیث نمبر: 19815
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينٌ يَحْلِفُ بِهَا: لَا وَمُقَلِّبِ الْقُلُوبِ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ.
حافظ ثناء اللہ
سالم، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ ان الفاظ کے ساتھ قسم اٹھاتے: «لَا وَمُقَلِّبِ الْقُلُوبِ» ”دلوں کو پھیرنے والے کی قسم۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 19815
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 6617»