«ليكونن في أمتي أقوام يستحلون الخز والحرير والخمر والمعازف ولينزلن أقوام إلى جنب علم تروح عليهم سارحتهم فيأتيهم آت لحاجته فيقولون له: ارجع إلينا غدا فيبعثهم الله ويقع العلم عليهم ويمسخ منهم آخرين قردة وخنازير إلى يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت میں ایسے لوگ ضرور ہوں گے جو ریشم، شراب اور باجوں کو حلال سمجھیں گے، اور کچھ لوگ ایک پہاڑ کے دامن میں ڈیرا ڈالیں گے، ان کے مویشی شام کو ان کے پاس واپس آئیں گے، ان کے پاس ایک ضرورت مند شخص آئے گا تو وہ اسے کہیں گے: کل ہمارے پاس آنا، پس اللہ رات کو ان پر پہاڑ گرا دے گا اور کچھ کو قیامت تک کے لیے بندر اور خنزیر بنا دے گا۔“
”میری امت میں ایسے لوگ ضرور ہوں گے جو ریشم، شراب اور باجوں کو حلال سمجھیں گے، اور کچھ لوگ ایک پہاڑ کے دامن میں ڈیرا ڈالیں گے، ان کے مویشی شام کو ان کے پاس واپس آئیں گے، ان کے پاس ایک ضرورت مند شخص آئے گا تو وہ اسے کہیں گے: کل ہمارے پاس آنا، پس اللہ رات کو ان پر پہاڑ گرا دے گا اور کچھ کو قیامت تک کے لیے بندر اور خنزیر بنا دے گا۔“
«ليكونن في هذه الأمة خسف وقذف ومسخ وذلك إذا شربوا الخمور واتخذوا القينات وضربوا بالمعازف»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس امت میں زمین میں دھنسنا، پتھراؤ اور مسخ ہونا ضرور واقع ہوگا، اور یہ اس وقت ہوگا جب لوگ شراب پئیں گے، گانے والیاں رکھیں گے اور باجے بجائیں گے۔“
”اس امت میں زمین میں دھنسنا، پتھراؤ اور مسخ ہونا ضرور واقع ہوگا، اور یہ اس وقت ہوگا جب لوگ شراب پئیں گے، گانے والیاں رکھیں گے اور باجے بجائیں گے۔“
"ليلة أسري بي رأيت موسى وإذا هورجل ضرب كأنه من رجال شنوءة ورأيت عيسى فإذا هورجل ربعة أحمر كأنما خرج من ديماس. ورأيت إبراهيم وأنا أشبه ولده به. ثم أتيت بإناءين في أحدهما لبن وفي الآخر خمر فقيل لي: اشرب أيهما شئت فأخذت اللبن فشربته فقيل لي: أصبت الفطرة أما إنك لوأخذت الخمر غوت أمتك"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”معراج کی رات میں نے موسیٰ کو دیکھا، وہ ایک دبلے پتلے آدمی تھے، گویا وہ قبیلہ شنوءہ کے مردوں میں سے تھے، اور میں نے عیسیٰ کو دیکھا، وہ میانہ قد کے سرخ رنگ کے آدمی تھے، گویا وہ ابھی غسل خانے سے نکلے ہوں، اور میں نے ابراہیم کو دیکھا، اور میں ان کی اولاد میں سے ان سے سب سے زیادہ مشابہ ہوں، پھر میرے پاس دو برتن لائے گئے، ایک میں دودھ تھا اور دوسرے میں شراب، تو مجھ سے کہا گیا: ان میں سے جو چاہو پی لو، تو میں نے دودھ لیا اور اسے پی لیا، تو مجھ سے کہا گیا: تم نے فطرت کو پا لیا، سن لو! اگر تم شراب لے لیتے تو تمہاری امت گمراہ ہو جاتی۔“
”معراج کی رات میں نے موسیٰ کو دیکھا، وہ ایک دبلے پتلے آدمی تھے، گویا وہ قبیلہ شنوءہ کے مردوں میں سے تھے، اور میں نے عیسیٰ کو دیکھا، وہ میانہ قد کے سرخ رنگ کے آدمی تھے، گویا وہ ابھی غسل خانے سے نکلے ہوں، اور میں نے ابراہیم کو دیکھا، اور میں ان کی اولاد میں سے ان سے سب سے زیادہ مشابہ ہوں، پھر میرے پاس دو برتن لائے گئے، ایک میں دودھ تھا اور دوسرے میں شراب، تو مجھ سے کہا گیا: ان میں سے جو چاہو پی لو، تو میں نے دودھ لیا اور اسے پی لیا، تو مجھ سے کہا گیا: تم نے فطرت کو پا لیا، سن لو! اگر تم شراب لے لیتے تو تمہاری امت گمراہ ہو جاتی۔“
«ليلة أسري بي ما مررت على ملأ من الملائكة إلا أمروني بالحجامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس رات مجھے معراج کرائی گئی، میں فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے بھی گزرا انہوں نے مجھے پچھنے لگوانے کا حکم دیا۔“
”جس رات مجھے معراج کرائی گئی، میں فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے بھی گزرا انہوں نے مجھے پچھنے لگوانے کا حکم دیا۔“
«ليلة الضيف حق على كل مسلم فمن أصبح الضيف بفنائه فهو له عليه دين إن شاء اقتضى وإن شاء ترك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مہمان کی ایک رات ہر مسلمان پر حق ہے، پس جو مہمان کسی کے صحن میں رات گزار کر صبح کرے تو یہ میزبانی اس میزبان پر اس کے ذمے قرض ہے، چاہے تو وہ اسے وصول کر لے اور چاہے تو چھوڑ دے۔“
”مہمان کی ایک رات ہر مسلمان پر حق ہے، پس جو مہمان کسی کے صحن میں رات گزار کر صبح کرے تو یہ میزبانی اس میزبان پر اس کے ذمے قرض ہے، چاہے تو وہ اسے وصول کر لے اور چاہے تو چھوڑ دے۔“
«ليلة القدر في العشر الأواخر في الخامسة أو الثالثة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”شبِ قدر رمضان کے آخری عشرے میں، پانچویں یا تیسری طاق رات میں ہے۔“
”شبِ قدر رمضان کے آخری عشرے میں، پانچویں یا تیسری طاق رات میں ہے۔“
«ليلة القدر ليلة بلجة لا حارة ولا باردة,.......... ولا يرمى فيها بنجم ومن علامة يومها تطلع الشمس لا شعاع لها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”شبِ قدر ایک روشن رات ہے، نہ گرم نہ ٹھنڈی، اور اس میں کوئی ستارہ نہیں ٹوٹتا، اور اس کے دن کی علامت یہ ہے کہ سورج بغیر کرنوں کے طلوع ہوتا ہے۔“
”شبِ قدر ایک روشن رات ہے، نہ گرم نہ ٹھنڈی، اور اس میں کوئی ستارہ نہیں ٹوٹتا، اور اس کے دن کی علامت یہ ہے کہ سورج بغیر کرنوں کے طلوع ہوتا ہے۔“
«ليلة القدر ليلة سابعة أو تاسعة وعشرين إن الملائكة تلك الليلة في الأرض أكثر من عدد الحصى»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”شبِ قدر ستائیسویں یا انتیسویں رات ہے، اس رات فرشتے زمین پر کنکریوں کی تعداد سے بھی زیادہ ہوتے ہیں۔“
”شبِ قدر ستائیسویں یا انتیسویں رات ہے، اس رات فرشتے زمین پر کنکریوں کی تعداد سے بھی زیادہ ہوتے ہیں۔“
«ليلة القدر ليلة سبع وعشرين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”شبِ قدر ستائیسویں رات ہے۔“
”شبِ قدر ستائیسویں رات ہے۔“
«ليلة القدر ليلة سمحة طلقة لا حارة ولا باردة تصبح الشمس صبيحتها ضعيفة حمراء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”شبِ قدر ایک نرم اور کشادہ رات ہے، نہ گرم نہ ٹھنڈی، اس کی صبح سورج طلوع ہوتے وقت کمزور اور سرخ ہوتا ہے۔“
”شبِ قدر ایک نرم اور کشادہ رات ہے، نہ گرم نہ ٹھنڈی، اس کی صبح سورج طلوع ہوتے وقت کمزور اور سرخ ہوتا ہے۔“
«ليليني منكم أولوا الأحلام والنهى ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم ولا تختلفوا فتختلف قلوبكم وإياكم وهيشات الأسواق»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم میں سے عقل اور سمجھ رکھنے والے میرے قریب کھڑے ہوں، پھر ان کے بعد والے، پھر ان کے بعد والے، اور آپس میں اختلاف نہ کرو ورنہ تمہارے دل بھی مختلف ہو جائیں گے، اور بازاروں کے شور و غل سے بچو۔“
”تم میں سے عقل اور سمجھ رکھنے والے میرے قریب کھڑے ہوں، پھر ان کے بعد والے، پھر ان کے بعد والے، اور آپس میں اختلاف نہ کرو ورنہ تمہارے دل بھی مختلف ہو جائیں گے، اور بازاروں کے شور و غل سے بچو۔“
«لينبعث من كل رجلين أحدهما والأجر بينهما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ہر دو آدمیوں میں سے ایک نکلے اور اجر ان دونوں کے درمیان مشترک ہوگا۔“
”ہر دو آدمیوں میں سے ایک نکلے اور اجر ان دونوں کے درمیان مشترک ہوگا۔“
«لينتقضن الإسلام عروة عروة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اسلام کی گرہیں ایک ایک کر کے ضرور کھلتی جائیں گی۔“
”اسلام کی گرہیں ایک ایک کر کے ضرور کھلتی جائیں گی۔“
«لينتهين أقوام عن رفعهم أبصارهم عند الدعاء في الصلاة إلى السماء أو لتخطفن أبصارهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کچھ لوگ نماز میں دعا کے وقت اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھانے سے ضرور باز آ جائیں، ورنہ ان کی نگاہیں اچک لی جائیں گی۔“
”کچھ لوگ نماز میں دعا کے وقت اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھانے سے ضرور باز آ جائیں، ورنہ ان کی نگاہیں اچک لی جائیں گی۔“
«لينتهين أقوام عن ودعهم الجمعات أو ليختمن الله على قلوبهم ثم ليكونن من الغافلين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کچھ لوگ جمعے چھوڑنے سے ضرور باز آ جائیں، ورنہ اللہ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا، پھر وہ غافلوں میں سے ہو جائیں گے۔“
”کچھ لوگ جمعے چھوڑنے سے ضرور باز آ جائیں، ورنہ اللہ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا، پھر وہ غافلوں میں سے ہو جائیں گے۔“
«لينتهين أقوام يرفعون أبصارهم إلى السماء في الصلاة أو لا ترجع إليهم أبصارهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کچھ لوگ جو نماز میں اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں، وہ اس سے ضرور باز آ جائیں، ورنہ ان کی نگاہیں ان کی طرف واپس نہیں آئیں گی۔“
”کچھ لوگ جو نماز میں اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں، وہ اس سے ضرور باز آ جائیں، ورنہ ان کی نگاہیں ان کی طرف واپس نہیں آئیں گی۔“
«لينتهين أقوام يفتخرون بآبائهم الذين ماتوا إنما هم فحم جهنم أو ليكونن أهون على الله من الجعل الذي يدهده الخرء بأنفه إن الله أذهب عنكم عبية الجاهلية وفخرها بالآباء إنما هو مؤمن تقي أو فاجر شقي الناس كلهم بنوآدم وآدم خلق من التراب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کچھ لوگ جو اپنے مرے ہوئے آبا و اجداد پر فخر کرتے ہیں، وہ اس سے ضرور باز آ جائیں، وہ آبا و اجداد تو جہنم کا کوئلہ ہیں، ورنہ وہ اللہ کے نزدیک اس گبریلے کیڑے سے بھی زیادہ حقیر ہو جائیں گے جو اپنی ناک سے گندگی کو لڑھکاتا ہے، بے شک اللہ نے تم سے جاہلیت کا تکبر اور آباؤ اجداد پر فخر کرنا دور کر دیا ہے، آدمی یا تو مومن پرہیزگار ہے یا بدکار بدبخت، تمام لوگ آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے پیدا کیے گئے تھے۔“
”کچھ لوگ جو اپنے مرے ہوئے آبا و اجداد پر فخر کرتے ہیں، وہ اس سے ضرور باز آ جائیں، وہ آبا و اجداد تو جہنم کا کوئلہ ہیں، ورنہ وہ اللہ کے نزدیک اس گبریلے کیڑے سے بھی زیادہ حقیر ہو جائیں گے جو اپنی ناک سے گندگی کو لڑھکاتا ہے، بے شک اللہ نے تم سے جاہلیت کا تکبر اور آباؤ اجداد پر فخر کرنا دور کر دیا ہے، آدمی یا تو مومن پرہیزگار ہے یا بدکار بدبخت، تمام لوگ آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے پیدا کیے گئے تھے۔“
«لينصرن الرجل أخاه ظالما أو مظلوما إن كان ظالما فلينهه فإنه له نصرة وإن كان مظلوما فلينصره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”آدمی اپنے بھائی کی مدد کرے چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم، اگر وہ ظالم ہو تو اسے ظلم سے روکے، کیونکہ یہی اس کی مدد ہے، اور اگر وہ مظلوم ہو تو اس کی مدد کرے۔“
”آدمی اپنے بھائی کی مدد کرے چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم، اگر وہ ظالم ہو تو اسے ظلم سے روکے، کیونکہ یہی اس کی مدد ہے، اور اگر وہ مظلوم ہو تو اس کی مدد کرے۔“
«ليودن أهل العافية يوم القيامة أن جلودهم قرضت بالمقاريض مما يرون من ثواب أهل البلاء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عافیت والے لوگ قیامت کے دن یہ تمنا ضرور کریں گے کہ کاش ان کی کھالیں قینچیوں سے کاٹی جاتیں، جب وہ آزمائش والوں کا ثواب دیکھیں گے۔“
”عافیت والے لوگ قیامت کے دن یہ تمنا ضرور کریں گے کہ کاش ان کی کھالیں قینچیوں سے کاٹی جاتیں، جب وہ آزمائش والوں کا ثواب دیکھیں گے۔“
«ليودن رجل أنه خر من عند الثريا وأنه لم يل من أمر الناس شيئا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ایک آدمی ضرور یہ تمنا کرے گا کہ کاش وہ ثریا سے گر پڑا ہوتا اور اس نے لوگوں کے کسی معاملے کی ذمہ داری نہ سنبھالی ہوتی۔“
”ایک آدمی ضرور یہ تمنا کرے گا کہ کاش وہ ثریا سے گر پڑا ہوتا اور اس نے لوگوں کے کسی معاملے کی ذمہ داری نہ سنبھالی ہوتی۔“
«ليوشكن رجل أن يتمنى أنه خر من الثريا ولم يل من أمر الناس شيئا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عنقریب ایک آدمی یہ تمنا کرے گا کہ کاش وہ ثریا سے گر پڑا ہوتا اور اس نے لوگوں کے کسی معاملے کی ذمہ داری نہ سنبھالی ہوتی۔“
”عنقریب ایک آدمی یہ تمنا کرے گا کہ کاش وہ ثریا سے گر پڑا ہوتا اور اس نے لوگوں کے کسی معاملے کی ذمہ داری نہ سنبھالی ہوتی۔“
«لي الواجد يحل عرضه وعقوبته»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قرض کی ادائیگی پر قدرت رکھنے والے کا ٹال مٹول کرنا اس کی عزت اور سزا دونوں کو حلال کر دیتا ہے۔“
”قرض کی ادائیگی پر قدرت رکھنے والے کا ٹال مٹول کرنا اس کی عزت اور سزا دونوں کو حلال کر دیتا ہے۔“
«اللبن في المنام فطرة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”خواب میں دودھ دیکھنا فطرت کی علامت ہے۔“
”خواب میں دودھ دیکھنا فطرت کی علامت ہے۔“
«اللحد لنا والشق لغيرنا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”لحد ہمارے لیے ہے اور شق دوسروں کے لیے ہے۔“
”لحد ہمارے لیے ہے اور شق دوسروں کے لیے ہے۔“
«اللحد لنا والشق لغيرنا من أهل الكتاب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”لحد ہمارے لیے ہے اور شق ہمارے سوا اہلِ کتاب کے لیے ہے۔“
”لحد ہمارے لیے ہے اور شق ہمارے سوا اہلِ کتاب کے لیے ہے۔“
«الذي تفوته صلاة العصر كأنما وتر أهله وماله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس شخص کی عصر کی نماز فوت ہو جائے گویا اس کے گھر والوں اور مال کو اس سے چھین لیا گیا۔“
”جس شخص کی عصر کی نماز فوت ہو جائے گویا اس کے گھر والوں اور مال کو اس سے چھین لیا گیا۔“
«الذي لا يتم ركوعه وينقر في سجوده مثل الجائع يأكل التمرة والتمرتين لا يغنيان عنه شيئا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو اپنا رکوع پورا نہیں کرتا اور اپنے سجدے میں جلدی کرتا ہے، اس کی مثال اس بھوکے شخص کی طرح ہے جو ایک یا دو کھجوریں کھائے، جو اسے کچھ فائدہ نہیں دیتیں۔“
”جو اپنا رکوع پورا نہیں کرتا اور اپنے سجدے میں جلدی کرتا ہے، اس کی مثال اس بھوکے شخص کی طرح ہے جو ایک یا دو کھجوریں کھائے، جو اسے کچھ فائدہ نہیں دیتیں۔“
«الذي لا ينام حتى يوتر حازم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو وتر پڑھے بغیر نہیں سوتا وہ دانا ہے۔“
”جو وتر پڑھے بغیر نہیں سوتا وہ دانا ہے۔“
«الذي يخنق نفسه يخنقها في النار والذي يطعنها يطعنها في النار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو اپنے آپ کو گلا گھونٹ کر خودکشی کرتا ہے وہ جہنم میں ہمیشہ اپنا گلا گھونٹتا رہے گا، اور جو اپنے آپ کو نیزہ مار کر خودکشی کرتا ہے وہ جہنم میں اپنے آپ کو نیزہ مارتا رہے گا۔“
”جو اپنے آپ کو گلا گھونٹ کر خودکشی کرتا ہے وہ جہنم میں ہمیشہ اپنا گلا گھونٹتا رہے گا، اور جو اپنے آپ کو نیزہ مار کر خودکشی کرتا ہے وہ جہنم میں اپنے آپ کو نیزہ مارتا رہے گا۔“
«الذي يسأل من غير حاجة كمثل الذي يلتقط الجمر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو بغیر ضرورت کے سوال کرتا ہے اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو انگارے چن رہا ہو۔“
”جو بغیر ضرورت کے سوال کرتا ہے اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو انگارے چن رہا ہو۔“
«الذي يشرب في آنية الفضة إنما يجرجر في بطنه نار جهنم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص چاندی کے برتن میں پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ گڑگڑا رہا ہوتا ہے۔“
”جو شخص چاندی کے برتن میں پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ گڑگڑا رہا ہوتا ہے۔“
«الذي يقرأ القرآن وهو ماهر به مع السفرة الكرام البررة والذي يقرؤه وهو عليه شاق له أجران»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو قرآن پڑھتا ہے اور اس میں ماہر ہے وہ باعزت اور نیکوکار لکھنے والے فرشتوں کے ساتھ ہوگا، اور جو اسے پڑھتا ہے اور یہ اس پر دشوار گزرتا ہے تو اس کے لیے دگنا اجر ہے۔“
”جو قرآن پڑھتا ہے اور اس میں ماہر ہے وہ باعزت اور نیکوکار لکھنے والے فرشتوں کے ساتھ ہوگا، اور جو اسے پڑھتا ہے اور یہ اس پر دشوار گزرتا ہے تو اس کے لیے دگنا اجر ہے۔“
«اللهو في ثلاث: تأديب فرسك ورميك بقوسك وملاعبتك أهلك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کھیل تین چیزوں میں جائز ہے: اپنے گھوڑے کو تربیت دینا، اپنی کمان سے تیر اندازی کرنا اور اپنی بیوی سے دل لگی کرنا۔“
”کھیل تین چیزوں میں جائز ہے: اپنے گھوڑے کو تربیت دینا، اپنی کمان سے تیر اندازی کرنا اور اپنی بیوی سے دل لگی کرنا۔“