کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف لام سے شروع ہونے والی احادیث
«ليكونن في أمتي أقوام يستحلون الخز والحرير والخمر والمعازف ولينزلن أقوام إلى جنب علم تروح عليهم سارحتهم فيأتيهم آت لحاجته فيقولون له: ارجع إلينا غدا فيبعثهم الله ويقع العلم عليهم ويمسخ منهم آخرين قردة وخنازير إلى يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت میں ایسے لوگ ضرور ہوں گے جو ریشم، شراب اور باجوں کو حلال سمجھیں گے، اور کچھ لوگ ایک پہاڑ کے دامن میں ڈیرا ڈالیں گے، ان کے مویشی شام کو ان کے پاس واپس آئیں گے، ان کے پاس ایک ضرورت مند شخص آئے گا تو وہ اسے کہیں گے: کل ہمارے پاس آنا، پس اللہ رات کو ان پر پہاڑ گرا دے گا اور کچھ کو قیامت تک کے لیے بندر اور خنزیر بنا دے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5466
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ د] عن أبي عامر وأبي مالك الأشعري. الصحيحة ٩١.
«ليكونن في هذه الأمة خسف وقذف ومسخ وذلك إذا شربوا الخمور واتخذوا القينات وضربوا بالمعازف»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس امت میں زمین میں دھنسنا، پتھراؤ اور مسخ ہونا ضرور واقع ہوگا، اور یہ اس وقت ہوگا جب لوگ شراب پئیں گے، گانے والیاں رکھیں گے اور باجے بجائیں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5467
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن أبي الدنيا في ذم الملاهي] عن أنس. الصحيحة ٢٢٠٣: ت، ابن أبي الدنيا - عمران. حم، ابن أبي الدنيا - أبي أمامة. ت، ابن أبي الدنيا - علي، وعن أبي هريرة. خم - سعيد بن المسيب وإبراهيم النخعي مرسلا، ابن أبي الدنيا - عبد الرحمن بن سابط مرسلا.
"ليلة أسري بي رأيت موسى وإذا هورجل ضرب كأنه من رجال شنوءة ورأيت عيسى فإذا هورجل ربعة أحمر كأنما خرج من ديماس. ورأيت إبراهيم وأنا أشبه ولده به. ثم أتيت بإناءين في أحدهما لبن وفي الآخر خمر فقيل لي: اشرب أيهما شئت فأخذت اللبن فشربته فقيل لي: أصبت الفطرة أما إنك لوأخذت الخمر غوت أمتك"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”معراج کی رات میں نے موسیٰ کو دیکھا، وہ ایک دبلے پتلے آدمی تھے، گویا وہ قبیلہ شنوءہ کے مردوں میں سے تھے، اور میں نے عیسیٰ کو دیکھا، وہ میانہ قد کے سرخ رنگ کے آدمی تھے، گویا وہ ابھی غسل خانے سے نکلے ہوں، اور میں نے ابراہیم کو دیکھا، اور میں ان کی اولاد میں سے ان سے سب سے زیادہ مشابہ ہوں، پھر میرے پاس دو برتن لائے گئے، ایک میں دودھ تھا اور دوسرے میں شراب، تو مجھ سے کہا گیا: ان میں سے جو چاہو پی لو، تو میں نے دودھ لیا اور اسے پی لیا، تو مجھ سے کہا گیا: تم نے فطرت کو پا لیا، سن لو! اگر تم شراب لے لیتے تو تمہاری امت گمراہ ہو جاتی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5468
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق ن] عن أبي هريرة. المشكاة ٥٧١٦.
«ليلة أسري بي ما مررت على ملأ من الملائكة إلا أمروني بالحجامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس رات مجھے معراج کرائی گئی، میں فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے بھی گزرا انہوں نے مجھے پچھنے لگوانے کا حکم دیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5469
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن ابن عباس. المشكاة ٤٥٤٤.
«ليلة الضيف حق على كل مسلم فمن أصبح الضيف بفنائه فهو له عليه دين إن شاء اقتضى وإن شاء ترك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مہمان کی ایک رات ہر مسلمان پر حق ہے، پس جو مہمان کسی کے صحن میں رات گزار کر صبح کرے تو یہ میزبانی اس میزبان پر اس کے ذمے قرض ہے، چاہے تو وہ اسے وصول کر لے اور چاہے تو چھوڑ دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5470
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د هـ] عن أبي كريمة. الصحيحة ٢٢٠٤: خد، الطحاوي، تمام، ابن عساكر.
«ليلة القدر في العشر الأواخر في الخامسة أو الثالثة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”شبِ قدر رمضان کے آخری عشرے میں، پانچویں یا تیسری طاق رات میں ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5471
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن معاذ. الصحيحة ١٤٧١.
«ليلة القدر ليلة بلجة لا حارة ولا باردة,.......... ولا يرمى فيها بنجم ومن علامة يومها تطلع الشمس لا شعاع لها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”شبِ قدر ایک روشن رات ہے، نہ گرم نہ ٹھنڈی، اور اس میں کوئی ستارہ نہیں ٹوٹتا، اور اس کے دن کی علامت یہ ہے کہ سورج بغیر کرنوں کے طلوع ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5472
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب] عن واثلة. الضعيفة ٤٤٠٤: أبو موسى المديني. حم، ابن نصر - عبادة.
«ليلة القدر ليلة سابعة أو تاسعة وعشرين إن الملائكة تلك الليلة في الأرض أكثر من عدد الحصى»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”شبِ قدر ستائیسویں یا انتیسویں رات ہے، اس رات فرشتے زمین پر کنکریوں کی تعداد سے بھی زیادہ ہوتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5473
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم] عن أبي هريرة. الصحيحة ٢٢٠٥: الطيالسي، ابن خزيمة.
«ليلة القدر ليلة سبع وعشرين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”شبِ قدر ستائیسویں رات ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5474
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن معاوية. صحيح أبي داود ١٢٥٤، الصحيحة ١٤٧١: حب.
«ليلة القدر ليلة سمحة طلقة لا حارة ولا باردة تصبح الشمس صبيحتها ضعيفة حمراء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”شبِ قدر ایک نرم اور کشادہ رات ہے، نہ گرم نہ ٹھنڈی، اس کی صبح سورج طلوع ہوتے وقت کمزور اور سرخ ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5475
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [الطيالسي هب] عن ابن عباس. الضعيفة ... : ابن نصر، ابن خزيمة، البزار، عق، أبو نعيم، أبو القاسم الاصبهاني، الضياء.
«ليليني منكم أولوا الأحلام والنهى ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم ولا تختلفوا فتختلف قلوبكم وإياكم وهيشات الأسواق»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم میں سے عقل اور سمجھ رکھنے والے میرے قریب کھڑے ہوں، پھر ان کے بعد والے، پھر ان کے بعد والے، اور آپس میں اختلاف نہ کرو ورنہ تمہارے دل بھی مختلف ہو جائیں گے، اور بازاروں کے شور و غل سے بچو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5476
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م ٤] عن أبي مسعود. صحيح أبي داود ٦٧٨.
«لينبعث من كل رجلين أحدهما والأجر بينهما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ہر دو آدمیوں میں سے ایک نکلے اور اجر ان دونوں کے درمیان مشترک ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5477
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن أبي سعيد. المشكاة ٣٨٠٠.
«لينتقضن الإسلام عروة عروة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اسلام کی گرہیں ایک ایک کر کے ضرور کھلتی جائیں گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5478
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث صحيح الترغيب ٥٧١: حم، حب، ك، هب - أبي أمامة.
«لينتهين أقوام عن رفعهم أبصارهم عند الدعاء في الصلاة إلى السماء أو لتخطفن أبصارهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کچھ لوگ نماز میں دعا کے وقت اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھانے سے ضرور باز آ جائیں، ورنہ ان کی نگاہیں اچک لی جائیں گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5479
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث مختصر مسلم ٣٣٦، صحيح الترغيب ٥٥٠: حم.
«لينتهين أقوام عن ودعهم الجمعات أو ليختمن الله على قلوبهم ثم ليكونن من الغافلين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کچھ لوگ جمعے چھوڑنے سے ضرور باز آ جائیں، ورنہ اللہ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا، پھر وہ غافلوں میں سے ہو جائیں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5480
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ن هـ] عن ابن عباس وابن عمر. مختصر مسلم ٤٢٦.
«لينتهين أقوام يرفعون أبصارهم إلى السماء في الصلاة أو لا ترجع إليهم أبصارهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کچھ لوگ جو نماز میں اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں، وہ اس سے ضرور باز آ جائیں، ورنہ ان کی نگاہیں ان کی طرف واپس نہیں آئیں گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5481
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث صحيح أبي داود ٨٤٦، صحيح الترغيب ٥٥٢: الدارمي، حب.
«لينتهين أقوام يفتخرون بآبائهم الذين ماتوا إنما هم فحم جهنم أو ليكونن أهون على الله من الجعل الذي يدهده الخرء بأنفه إن الله أذهب عنكم عبية الجاهلية وفخرها بالآباء إنما هو مؤمن تقي أو فاجر شقي الناس كلهم بنوآدم وآدم خلق من التراب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کچھ لوگ جو اپنے مرے ہوئے آبا و اجداد پر فخر کرتے ہیں، وہ اس سے ضرور باز آ جائیں، وہ آبا و اجداد تو جہنم کا کوئلہ ہیں، ورنہ وہ اللہ کے نزدیک اس گبریلے کیڑے سے بھی زیادہ حقیر ہو جائیں گے جو اپنی ناک سے گندگی کو لڑھکاتا ہے، بے شک اللہ نے تم سے جاہلیت کا تکبر اور آباؤ اجداد پر فخر کرنا دور کر دیا ہے، آدمی یا تو مومن پرہیزگار ہے یا بدکار بدبخت، تمام لوگ آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے پیدا کیے گئے تھے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5482
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن أبي هريرة. المشكاة ٤٨٩٩: حم، د.
«لينصرن الرجل أخاه ظالما أو مظلوما إن كان ظالما فلينهه فإنه له نصرة وإن كان مظلوما فلينصره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”آدمی اپنے بھائی کی مدد کرے چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم، اگر وہ ظالم ہو تو اسے ظلم سے روکے، کیونکہ یہی اس کی مدد ہے، اور اگر وہ مظلوم ہو تو اس کی مدد کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5483
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن جابر. الإرواء: ٢٤٤٩.
«ليودن أهل العافية يوم القيامة أن جلودهم قرضت بالمقاريض مما يرون من ثواب أهل البلاء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عافیت والے لوگ قیامت کے دن یہ تمنا ضرور کریں گے کہ کاش ان کی کھالیں قینچیوں سے کاٹی جاتیں، جب وہ آزمائش والوں کا ثواب دیکھیں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5484
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث الصحيحة٢٢٠٦: خط، ابن عساكر، طب، ابن عباس.
«ليودن رجل أنه خر من عند الثريا وأنه لم يل من أمر الناس شيئا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ایک آدمی ضرور یہ تمنا کرے گا کہ کاش وہ ثریا سے گر پڑا ہوتا اور اس نے لوگوں کے کسی معاملے کی ذمہ داری نہ سنبھالی ہوتی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5485
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [الحارث ك] عن أبي هريرة. الصحيحة ٣٦١: حم.
«ليوشكن رجل أن يتمنى أنه خر من الثريا ولم يل من أمر الناس شيئا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عنقریب ایک آدمی یہ تمنا کرے گا کہ کاش وہ ثریا سے گر پڑا ہوتا اور اس نے لوگوں کے کسی معاملے کی ذمہ داری نہ سنبھالی ہوتی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5486
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ك] عن أبي هريرة. الصحيحة ٣٦١: حم.
«لي الواجد يحل عرضه وعقوبته»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قرض کی ادائیگی پر قدرت رکھنے والے کا ٹال مٹول کرنا اس کی عزت اور سزا دونوں کو حلال کر دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5487
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم د ن هـ ك] عن الشريد بن سويد. المشكاة ٢٩١٩، الإرواء ١٤٣٤. فصل في المحلى بـ [ال] من هذا الحرف.
«اللبن في المنام فطرة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”خواب میں دودھ دیکھنا فطرت کی علامت ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5488
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [البزار] عن أبي هريرة١. الصحيحة ١٢٠٧.
«اللحد لنا والشق لغيرنا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”لحد ہمارے لیے ہے اور شق دوسروں کے لیے ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5489
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [٤] عن ابن عباس. أحكام الجنائز ١٤٤.
«اللحد لنا والشق لغيرنا من أهل الكتاب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”لحد ہمارے لیے ہے اور شق ہمارے سوا اہلِ کتاب کے لیے ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5490
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن جرير. أحكام الجنائز ١٤٤.
«الذي تفوته صلاة العصر كأنما وتر أهله وماله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس شخص کی عصر کی نماز فوت ہو جائے گویا اس کے گھر والوں اور مال کو اس سے چھین لیا گیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5491
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق ٤] عن ابن عمر. مختصر مسلم ٢١٦، صحيح أبي داود ٤٤١.
«الذي لا يتم ركوعه وينقر في سجوده مثل الجائع يأكل التمرة والتمرتين لا يغنيان عنه شيئا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو اپنا رکوع پورا نہیں کرتا اور اپنے سجدے میں جلدی کرتا ہے، اس کی مثال اس بھوکے شخص کی طرح ہے جو ایک یا دو کھجوریں کھائے، جو اسے کچھ فائدہ نہیں دیتیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5492
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث صحيح الترغيب ٥٢٩، صفة الصلاة ١٢٢: ع، طب، ابن خزيمة.
«الذي لا ينام حتى يوتر حازم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو وتر پڑھے بغیر نہیں سوتا وہ دانا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5493
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن سعد. الصحيحة ٢٢٠٨.
«الذي يخنق نفسه يخنقها في النار والذي يطعنها يطعنها في النار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو اپنے آپ کو گلا گھونٹ کر خودکشی کرتا ہے وہ جہنم میں ہمیشہ اپنا گلا گھونٹتا رہے گا، اور جو اپنے آپ کو نیزہ مار کر خودکشی کرتا ہے وہ جہنم میں اپنے آپ کو نیزہ مارتا رہے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5494
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن أبي هريرة.
«الذي يسأل من غير حاجة كمثل الذي يلتقط الجمر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو بغیر ضرورت کے سوال کرتا ہے اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو انگارے چن رہا ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5495
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هب] عن حبشي بن جنادة. صحيح الترغيب ٧٩٦: حم، ابن خزيمة، طب١.
«الذي يشرب في آنية الفضة إنما يجرجر في بطنه نار جهنم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص چاندی کے برتن میں پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ گڑگڑا رہا ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5496
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن أم سلمة. مختصر مسلم ١٣٨٩.
«الذي يقرأ القرآن وهو ماهر به مع السفرة الكرام البررة والذي يقرؤه وهو عليه شاق له أجران»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو قرآن پڑھتا ہے اور اس میں ماہر ہے وہ باعزت اور نیکوکار لکھنے والے فرشتوں کے ساتھ ہوگا، اور جو اسے پڑھتا ہے اور یہ اس پر دشوار گزرتا ہے تو اس کے لیے دگنا اجر ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5497
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت] عن عائشة. صحيح أبي داود ١٣٠٧: ق، د - الطيالسي، الدارمي.
«اللهو في ثلاث: تأديب فرسك ورميك بقوسك وملاعبتك أهلك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کھیل تین چیزوں میں جائز ہے: اپنے گھوڑے کو تربیت دینا، اپنی کمان سے تیر اندازی کرنا اور اپنی بیوی سے دل لگی کرنا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5498
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [القراب في فضل الرمي] عن أبي الدرداء. الصحيحة ٣١٥.