"إن الله تعالى اطلع على أهل بدر فقال: اعملوا ما
شئتم فقد غفرت لكم"
شئتم فقد غفرت لكم"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر (غزوہ بدر میں شریک ہونے والوں) کے دلوں کے حال کو دیکھا اور فرمایا کہ تم جو چاہو عمل کرو، یقیناً میں نے تمہاری مغفرت فرما دی ہے۔“
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر (غزوہ بدر میں شریک ہونے والوں) کے دلوں کے حال کو دیکھا اور فرمایا کہ تم جو چاہو عمل کرو، یقیناً میں نے تمہاری مغفرت فرما دی ہے۔“
«إن الله أعطى كل ذي حق حقه فلا وصية لوارث والولد للفراش وللعاهر الحجر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ہر حق دار کو اس کا حق دے دیا ہے، لہٰذا کسی وارث کے لیے کوئی وصیت (جائز) نہیں، اور بچہ بستر والے (یعنی شوہر) کا ہے، اور زنا کار کے لیے پتھر (یعنی محرومی) ہے۔“
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ہر حق دار کو اس کا حق دے دیا ہے، لہٰذا کسی وارث کے لیے کوئی وصیت (جائز) نہیں، اور بچہ بستر والے (یعنی شوہر) کا ہے، اور زنا کار کے لیے پتھر (یعنی محرومی) ہے۔“
«إن الله أعطاكم ثلث أموالكم عند وفاتكم زيادة في أعمالكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہاری وفات کے وقت تمہارے اموال کا ایک تہائی حصہ تمہیں (وصیت کرنے کے لیے) عطا کیا ہے تاکہ تمہارے (نیک) اعمال میں اضافہ ہو سکے۔“
”بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہاری وفات کے وقت تمہارے اموال کا ایک تہائی حصہ تمہیں (وصیت کرنے کے لیے) عطا کیا ہے تاکہ تمہارے (نیک) اعمال میں اضافہ ہو سکے۔“
«إن الله افترض على العباد خمس صلوات في كل يوم وليلة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے بندوں پر ہر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔“
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے بندوں پر ہر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔“
«إن الله أمرني أن أسمي المدينة طيبة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں مدینہ کا نام «طَيْبَة» (پاکیزہ) رکھوں۔“
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں مدینہ کا نام «طَيْبَة» (پاکیزہ) رکھوں۔“
"إن الله أمر يحيى بن زكريا بخمس كلمات أن يعمل بهن وأن يأمر بني إسرائيل أن يعملوا بهن فكأنه أبطأ بهن فأوحى الله إلى عيسى: إما أن يبلغهن أو تبلغهن فأتاه عيسى فقال له: إنك أمرت بخمس كلمات أن تعمل بهن وتأمر بني إسرائيل أن يعملوا بهن فإما أن تبلغهن وإما أن أبلغهن فقال له: يا روح الله إني أخشى إن سبقتني أن أعذب أو يخسف بي فجمع يحيى بني إسرائيل في بيت المقدس حتى امتلأ المسجد فقعد على الشرفات فحمد الله وأثنى عليه ثم قال: إن الله أمرني بخمس كلمات أن أعمل بهن وآمركم أن تعملوا بهن; وأولهن: أن تعبدوا الله ولا تشركوا به شيئا فإن مثل من أشرك بالله
كمثل رجل اشترى عبدا من خالص ماله بذهب أو ورق ثم أسكنه دارا فقال: اعمل وارفع إلي فجعل العبد يعمل ويرفع إلى غير سيده فأيكم يرضى أن يكون عبده كذلك؟ وإن الله خلقكم ورزقكم فاعبدوه ولا تشركوا به شيئا.
وأمركم بالصلاة وإذا قمتم إلى الصلاة فلا تلتفتوا فإن الله عز وجل يقبل بوجهه على عبده ما لم يلتفت.
وأمركم بالصيام ومثل ذلك كمثل رجل معه صرة مسك في عصابة كلهم يجد ريح المسك وإن خلوف فم الصائم أطيب عند الله من ريح المسك.
وأمركم بالصدقة ومثل ذلك كمثل رجل أسره العدو فشدوا يديه
إلى عنقه وقدموه ليضربوا عنقه فقال لهم: هل لكم أن أفتدي نفسي منكم؟ فجعل يفتدي نفسه منهم بالقليل والكثير حتى فك نفسه، وأمركم بذكر الله كثيرا ومثل ذلك كمثل رجل طلبه العدو سراعا في أثره فأتى حصنا حصينا فأحرز نفسه فيه وإن العبد أحصن ما يكون من الشيطان إذا كان في ذكر الله تعالى. وأنا آمركم بخمس أمرني الله بهن: الجماعة والسمع والطاعة والهجرة والجهاد في سبيل الله فإنه من فارق الجماعة قيد شبر فقد خلع ربقة الإسلام من عنقه إلا أن يراجع ومن دعا بدعوة الجاهلية فهو من جثاء جهنم وإن صام وصلى وزعم أنه مسلم فادعوا بدعوة الله التي سماكم بها المسلمين المؤمنين عباد الله"
كمثل رجل اشترى عبدا من خالص ماله بذهب أو ورق ثم أسكنه دارا فقال: اعمل وارفع إلي فجعل العبد يعمل ويرفع إلى غير سيده فأيكم يرضى أن يكون عبده كذلك؟ وإن الله خلقكم ورزقكم فاعبدوه ولا تشركوا به شيئا.
وأمركم بالصلاة وإذا قمتم إلى الصلاة فلا تلتفتوا فإن الله عز وجل يقبل بوجهه على عبده ما لم يلتفت.
وأمركم بالصيام ومثل ذلك كمثل رجل معه صرة مسك في عصابة كلهم يجد ريح المسك وإن خلوف فم الصائم أطيب عند الله من ريح المسك.
وأمركم بالصدقة ومثل ذلك كمثل رجل أسره العدو فشدوا يديه
إلى عنقه وقدموه ليضربوا عنقه فقال لهم: هل لكم أن أفتدي نفسي منكم؟ فجعل يفتدي نفسه منهم بالقليل والكثير حتى فك نفسه، وأمركم بذكر الله كثيرا ومثل ذلك كمثل رجل طلبه العدو سراعا في أثره فأتى حصنا حصينا فأحرز نفسه فيه وإن العبد أحصن ما يكون من الشيطان إذا كان في ذكر الله تعالى. وأنا آمركم بخمس أمرني الله بهن: الجماعة والسمع والطاعة والهجرة والجهاد في سبيل الله فإنه من فارق الجماعة قيد شبر فقد خلع ربقة الإسلام من عنقه إلا أن يراجع ومن دعا بدعوة الجاهلية فهو من جثاء جهنم وإن صام وصلى وزعم أنه مسلم فادعوا بدعوة الله التي سماكم بها المسلمين المؤمنين عباد الله"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کو پانچ باتوں کا حکم دیا کہ وہ خود بھی ان پر عمل کریں اور بنی اسرائیل کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دیں۔ ایسا لگا کہ انہوں نے اس میں کچھ تاخیر کر دی تو اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی کہ یا تو آپ انہیں پہنچا دیں یا پھر وہ (یحییٰ علیہ السلام) پہنچائیں۔ چنانچہ عیسیٰ علیہ السلام ان کے پاس آئے اور فرمایا: آپ کو پانچ باتوں کا حکم دیا گیا تھا کہ آپ ان پر عمل کریں اور بنی اسرائیل کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دیں، تو یا تو آپ انہیں پہنچا دیں یا پھر میں پہنچا دوں۔ یحییٰ علیہ السلام نے ان سے کہا: اے روح اللہ! مجھے ڈر ہے کہ اگر آپ نے مجھ سے پہل کر لی تو مجھے عذاب دیا جائے گا یا مجھے زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ پھر یحییٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو بیت المقدس میں جمع کیا یہاں تک کہ مسجد بھر گئی، وہ ایک اونچی جگہ پر بیٹھ گئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا: بے شک اللہ نے مجھے پانچ باتوں کا حکم دیا ہے کہ میں ان پر عمل کروں اور تمہیں بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دوں۔ ان میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ، کیونکہ اس شخص کی مثال جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا اس آدمی جیسی ہے جس نے اپنے خالص مال یعنی سونے یا چاندی سے ایک غلام خریدا، پھر اسے ایک گھر میں بسایا اور کہا: کام کرو اور میری طرف لاؤ، تو وہ غلام کام کرنے لگا اور اپنے مالک کے علاوہ کسی اور کی طرف مال لے جانے لگا، تو تم میں سے کون پسند کرے گا کہ اس کا غلام ایسا ہو؟ اور بے شک اللہ نے تمہیں پیدا کیا اور تمہیں رزق دیا، پس تم اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ۔ اور اس نے تمہیں نماز کا حکم دیا ہے، پس جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو ادھر ادھر نہ دیکھو، کیونکہ اللہ عزوجل اپنے بندے کی طرف متوجہ رہتا ہے جب تک کہ وہ ادھر ادھر نہ دیکھے۔ اور اس نے تمہیں روزے کا حکم دیا ہے، اس کی مثال اس آدمی جیسی ہے جس کے پاس ایک گروہ کے درمیان کستوری کی تھیلی ہو اور ہر کوئی کستوری کی خوشبو محسوس کر رہا ہو، اور بے شک روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے۔ اور اس نے تمہیں صدقہ کرنے کا حکم دیا ہے، اس کی مثال اس شخص جیسی ہے جسے دشمن نے قید کر لیا ہو اور اس کے ہاتھ اس کی گردن کے ساتھ باندھ دیے ہوں اور اسے قتل کرنے کے لیے آگے بڑھایا ہو، تو وہ ان سے کہے: کیا تم چاہو گے کہ میں تم سے اپنی جان کا فدیہ دے کر خود کو چھڑا لوں؟ پھر وہ تھوڑا تھوڑا اور زیادہ فدیہ دے کر خود کو ان سے چھڑا لے۔ اور اس نے تمہیں کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے کا حکم دیا ہے، اس کی مثال اس شخص جیسی ہے جس کے پیچھے دشمن تیزی سے لگا ہو اور وہ ایک مضبوط قلعے میں آ کر خود کو اس میں محفوظ کر لے، اور بے شک بندہ شیطان سے سب سے زیادہ محفوظ اسی وقت ہوتا ہے جب وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول ہو۔ اور میں تمہیں پانچ باتوں کا حکم دیتا ہوں جن کا اللہ نے مجھے حکم دیا ہے: الجماعت (مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ جڑے رہنا)، (امیر کی بات) سننا اور اطاعت کرنا، ہجرت کرنا اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ پس بے شک جس شخص نے بالشت بھر بھی جماعت کو چھوڑا تو اس نے اسلام کا پٹہ اپنی گردن سے اتار دیا، سوائے اس کے کہ وہ (جماعت کی طرف) دوبارہ لوٹ آئے۔ اور جس نے زمانہ جاہلیت کی پکار (عصبیت وغیرہ) کے ساتھ پکارا، تو وہ جہنم کے گھٹنوں کے بل گرنے والوں میں سے ہے، خواہ وہ روزہ رکھے، نماز پڑھے اور یہ گمان کرے کہ وہ مسلمان ہے۔ پس تم اللہ کی دی ہوئی پکار کے ساتھ پکارو، جس نے تمہارا نام مسلم، مومن اور اللہ کے بندے رکھا ہے۔“
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کو پانچ باتوں کا حکم دیا کہ وہ خود بھی ان پر عمل کریں اور بنی اسرائیل کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دیں۔ ایسا لگا کہ انہوں نے اس میں کچھ تاخیر کر دی تو اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی کہ یا تو آپ انہیں پہنچا دیں یا پھر وہ (یحییٰ علیہ السلام) پہنچائیں۔ چنانچہ عیسیٰ علیہ السلام ان کے پاس آئے اور فرمایا: آپ کو پانچ باتوں کا حکم دیا گیا تھا کہ آپ ان پر عمل کریں اور بنی اسرائیل کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دیں، تو یا تو آپ انہیں پہنچا دیں یا پھر میں پہنچا دوں۔ یحییٰ علیہ السلام نے ان سے کہا: اے روح اللہ! مجھے ڈر ہے کہ اگر آپ نے مجھ سے پہل کر لی تو مجھے عذاب دیا جائے گا یا مجھے زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ پھر یحییٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو بیت المقدس میں جمع کیا یہاں تک کہ مسجد بھر گئی، وہ ایک اونچی جگہ پر بیٹھ گئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا: بے شک اللہ نے مجھے پانچ باتوں کا حکم دیا ہے کہ میں ان پر عمل کروں اور تمہیں بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دوں۔ ان میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ، کیونکہ اس شخص کی مثال جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا اس آدمی جیسی ہے جس نے اپنے خالص مال یعنی سونے یا چاندی سے ایک غلام خریدا، پھر اسے ایک گھر میں بسایا اور کہا: کام کرو اور میری طرف لاؤ، تو وہ غلام کام کرنے لگا اور اپنے مالک کے علاوہ کسی اور کی طرف مال لے جانے لگا، تو تم میں سے کون پسند کرے گا کہ اس کا غلام ایسا ہو؟ اور بے شک اللہ نے تمہیں پیدا کیا اور تمہیں رزق دیا، پس تم اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ۔ اور اس نے تمہیں نماز کا حکم دیا ہے، پس جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو ادھر ادھر نہ دیکھو، کیونکہ اللہ عزوجل اپنے بندے کی طرف متوجہ رہتا ہے جب تک کہ وہ ادھر ادھر نہ دیکھے۔ اور اس نے تمہیں روزے کا حکم دیا ہے، اس کی مثال اس آدمی جیسی ہے جس کے پاس ایک گروہ کے درمیان کستوری کی تھیلی ہو اور ہر کوئی کستوری کی خوشبو محسوس کر رہا ہو، اور بے شک روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے۔ اور اس نے تمہیں صدقہ کرنے کا حکم دیا ہے، اس کی مثال اس شخص جیسی ہے جسے دشمن نے قید کر لیا ہو اور اس کے ہاتھ اس کی گردن کے ساتھ باندھ دیے ہوں اور اسے قتل کرنے کے لیے آگے بڑھایا ہو، تو وہ ان سے کہے: کیا تم چاہو گے کہ میں تم سے اپنی جان کا فدیہ دے کر خود کو چھڑا لوں؟ پھر وہ تھوڑا تھوڑا اور زیادہ فدیہ دے کر خود کو ان سے چھڑا لے۔ اور اس نے تمہیں کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے کا حکم دیا ہے، اس کی مثال اس شخص جیسی ہے جس کے پیچھے دشمن تیزی سے لگا ہو اور وہ ایک مضبوط قلعے میں آ کر خود کو اس میں محفوظ کر لے، اور بے شک بندہ شیطان سے سب سے زیادہ محفوظ اسی وقت ہوتا ہے جب وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول ہو۔ اور میں تمہیں پانچ باتوں کا حکم دیتا ہوں جن کا اللہ نے مجھے حکم دیا ہے: الجماعت (مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ جڑے رہنا)، (امیر کی بات) سننا اور اطاعت کرنا، ہجرت کرنا اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ پس بے شک جس شخص نے بالشت بھر بھی جماعت کو چھوڑا تو اس نے اسلام کا پٹہ اپنی گردن سے اتار دیا، سوائے اس کے کہ وہ (جماعت کی طرف) دوبارہ لوٹ آئے۔ اور جس نے زمانہ جاہلیت کی پکار (عصبیت وغیرہ) کے ساتھ پکارا، تو وہ جہنم کے گھٹنوں کے بل گرنے والوں میں سے ہے، خواہ وہ روزہ رکھے، نماز پڑھے اور یہ گمان کرے کہ وہ مسلمان ہے۔ پس تم اللہ کی دی ہوئی پکار کے ساتھ پکارو، جس نے تمہارا نام مسلم، مومن اور اللہ کے بندے رکھا ہے۔“
«إن الله أوحى إلي: أن تواضعوا حتى لا يفخر أحد على أحد ولا يبغي أحد على أحد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے میری طرف یہ وحی فرمائی ہے کہ تم ایک دوسرے کے ساتھ تواضع (عاجزی) سے پیش آؤ، تاکہ کوئی کسی پر فخر نہ کرے اور کوئی کسی پر زیادتی نہ کرے۔“
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے میری طرف یہ وحی فرمائی ہے کہ تم ایک دوسرے کے ساتھ تواضع (عاجزی) سے پیش آؤ، تاکہ کوئی کسی پر فخر نہ کرے اور کوئی کسی پر زیادتی نہ کرے۔“
«إن الله تعالى أوحى إلي: أن تواضعوا ولا يبغي بعضكم على بعض»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی فرمائی ہے کہ تم عاجزی اختیار کرو اور تم میں سے کوئی کسی دوسرے پر زیادتی نہ کرے۔“
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی فرمائی ہے کہ تم عاجزی اختیار کرو اور تم میں سے کوئی کسی دوسرے پر زیادتی نہ کرے۔“
«إن الله أوحى إلي: أنه من سلك مسلكا في طلب العلم سهلت له طريق الجنة ومن سلبت كريمتيه أثبته عليهما الجنة وفضل في علم خير من فضل في عبادة وملاك الدين الورع»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی فرمائی ہے کہ جو شخص علم کی تلاش میں کسی راستے پر چلتا ہے، تو میں اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہوں، اور جس کی میں دو پیاری چیزیں (یعنی آنکھیں) چھین لوں تو میں ان کے بدلے اس کے لیے جنت واجب کر دیتا ہوں، اور علم کی فضیلت عبادت کی فضیلت سے بہتر ہے، اور دین کی بنیاد پرہیزگاری ہے۔“
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی فرمائی ہے کہ جو شخص علم کی تلاش میں کسی راستے پر چلتا ہے، تو میں اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہوں، اور جس کی میں دو پیاری چیزیں (یعنی آنکھیں) چھین لوں تو میں ان کے بدلے اس کے لیے جنت واجب کر دیتا ہوں، اور علم کی فضیلت عبادت کی فضیلت سے بہتر ہے، اور دین کی بنیاد پرہیزگاری ہے۔“
«إن الله بعثني إلى كل أحمر وأسود ونصرت بالرعب وأحل لي المغنم وجعلت لي الأرض مسجدا وطهورا وأعطيت الشفاعة للمذنبين من أمتي يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر سرخ و سیاہ (یعنی تمام انسانوں اور جنوں) کی طرف مبعوث فرمایا ہے، اور رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے، اور میرے لیے مالِ غنیمت حلال کر دیا گیا ہے، اور میرے لیے پوری زمین کو سجدہ گاہ اور پاک کرنے والی (طہور) بنا دیا گیا ہے، اور مجھے قیامت کے دن اپنی امت کے گناہ گاروں کے لیے شفاعت (کا حق) عطا کیا گیا ہے۔“
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر سرخ و سیاہ (یعنی تمام انسانوں اور جنوں) کی طرف مبعوث فرمایا ہے، اور رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے، اور میرے لیے مالِ غنیمت حلال کر دیا گیا ہے، اور میرے لیے پوری زمین کو سجدہ گاہ اور پاک کرنے والی (طہور) بنا دیا گیا ہے، اور مجھے قیامت کے دن اپنی امت کے گناہ گاروں کے لیے شفاعت (کا حق) عطا کیا گیا ہے۔“
«إن الله تجاوز لأمتي عما توسوس به صدورهم ما لم تعمل أو تتكلم به وما استكرهوا عليه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے ان وسوسوں کو معاف کر دیا ہے جو ان کے دلوں میں پیدا ہوتے ہیں، جب تک کہ وہ ان پر عمل نہ کریں یا زبان سے ان کا اظہار نہ کریں، اور اس چیز کو بھی (معاف کر دیا ہے) جس پر انہیں مجبور کیا جائے۔“
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے ان وسوسوں کو معاف کر دیا ہے جو ان کے دلوں میں پیدا ہوتے ہیں، جب تک کہ وہ ان پر عمل نہ کریں یا زبان سے ان کا اظہار نہ کریں، اور اس چیز کو بھی (معاف کر دیا ہے) جس پر انہیں مجبور کیا جائے۔“
«إن الله تعالى تجاوز لأمتي عما حدثت به أنفسها ما لم تتكلم به أو تعمل به»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے میری امت سے ان خیالات (وسوسوں) کو معاف فرما دیا ہے جو ان کے دلوں میں آتے ہیں، جب تک کہ وہ زبان سے ان کا اظہار نہ کریں یا ان پر عمل نہ کریں۔“
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے میری امت سے ان خیالات (وسوسوں) کو معاف فرما دیا ہے جو ان کے دلوں میں آتے ہیں، جب تک کہ وہ زبان سے ان کا اظہار نہ کریں یا ان پر عمل نہ کریں۔“
«إن الله تعالى تجاوز لي عن أمتي الخطأ والنسيان وما استكرهوا عليه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے میری خاطر میری امت سے خطا، بھول چوک اور اس کام کو معاف فرما دیا ہے جس پر انہیں مجبور کیا جائے۔“
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے میری خاطر میری امت سے خطا، بھول چوک اور اس کام کو معاف فرما دیا ہے جس پر انہیں مجبور کیا جائے۔“
«إن الله تجاوز لي عن أمتي ما وسوست به صدورها ما لم تعمل أو تتكلم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے میری خاطر میری امت کے دلوں میں پیدا ہونے والے وسوسوں کو معاف فرما دیا ہے، جب تک کہ وہ ان پر عمل نہ کریں یا زبان سے ان کا اظہار نہ کریں۔“
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے میری خاطر میری امت کے دلوں میں پیدا ہونے والے وسوسوں کو معاف فرما دیا ہے، جب تک کہ وہ ان پر عمل نہ کریں یا زبان سے ان کا اظہار نہ کریں۔“
«إن الله تعالى تصدق عليكم عند وفاتكم بثلث أموالكم وجعل ذلك زيادة لكم في أعمالكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہاری وفات کے وقت تمہارے اموال کا ایک تہائی حصہ تم پر صدقہ کیا ہے (یعنی وصیت کی اجازت دی ہے) اور اسے تمہارے (نیک) اعمال میں اضافے کا ذریعہ بنا دیا ہے۔“
”بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہاری وفات کے وقت تمہارے اموال کا ایک تہائی حصہ تم پر صدقہ کیا ہے (یعنی وصیت کی اجازت دی ہے) اور اسے تمہارے (نیک) اعمال میں اضافے کا ذریعہ بنا دیا ہے۔“
«إن الله تطاول عليكم في جمعكم هذا فوهب مسيئكم لمحسنكم وأعطى محسنكم ما سأل ادفعوا بسم الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے اس مجمع پر فضل و کرم فرمایا ہے، چنانچہ اس نے تمہارے نیک لوگوں کی طفیل تمہارے گناہ گاروں کو بخش دیا ہے، اور تمہارے نیک لوگوں کو وہ عطا کر دیا ہے جو انہوں نے مانگا۔ اب اللہ کا نام لے کر (یہاں سے) روانہ ہو جاؤ۔“
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے اس مجمع پر فضل و کرم فرمایا ہے، چنانچہ اس نے تمہارے نیک لوگوں کی طفیل تمہارے گناہ گاروں کو بخش دیا ہے، اور تمہارے نیک لوگوں کو وہ عطا کر دیا ہے جو انہوں نے مانگا۔ اب اللہ کا نام لے کر (یہاں سے) روانہ ہو جاؤ۔“
«إن الله تعالى جعل البركة في السحور والكيل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک اللہ تعالیٰ نے سحری کھانے اور ناپ تول میں برکت رکھی ہے۔“
”بے شک اللہ تعالیٰ نے سحری کھانے اور ناپ تول میں برکت رکھی ہے۔“
«إن الله جعل الحق على لسان عمر وقلبه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے عمر (رضی اللہ عنہ) کی زبان اور ان کے دل پر حق کو جاری کر دیا ہے۔“
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے عمر (رضی اللہ عنہ) کی زبان اور ان کے دل پر حق کو جاری کر دیا ہے۔“
«إن الله تعالى جعل الدنيا كلها قليلا وما بقي منها إلا القليل كالثغب شرب صفوه وبقي كدره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک اللہ تعالیٰ نے پوری دنیا ہی کو قلیل (تھوڑا) بنایا ہے، اور اب اس میں سے بھی بہت تھوڑا ہی باقی رہ گیا ہے، اس چھوٹے تالاب کی طرح جس کا صاف پانی پی لیا گیا ہو اور صرف گدلا پانی باقی رہ گیا ہو۔“
”بے شک اللہ تعالیٰ نے پوری دنیا ہی کو قلیل (تھوڑا) بنایا ہے، اور اب اس میں سے بھی بہت تھوڑا ہی باقی رہ گیا ہے، اس چھوٹے تالاب کی طرح جس کا صاف پانی پی لیا گیا ہو اور صرف گدلا پانی باقی رہ گیا ہو۔“
«إن الله تعالى جعل عذاب هذه الأمة في الدنيا القتل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک اللہ تعالیٰ نے اس امت کا عذاب دنیا ہی میں قتل و غارت گری (اور فتنوں) کی صورت میں رکھ دیا ہے۔“
”بے شک اللہ تعالیٰ نے اس امت کا عذاب دنیا ہی میں قتل و غارت گری (اور فتنوں) کی صورت میں رکھ دیا ہے۔“
«إن الله تعالى جعل ما يخرج من بني آدم مثلا للدنيا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو دنیا کے لیے ایک مثال بنا دیا ہے جو انسان کے پیٹ سے (فضلہ بن کر) خارج ہوتی ہے۔“
”بے شک اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو دنیا کے لیے ایک مثال بنا دیا ہے جو انسان کے پیٹ سے (فضلہ بن کر) خارج ہوتی ہے۔“
[إن الله جعل هذه الأهلة مواقيت فإذا رأيتموه فصوموا وإذا رأيتموه فأفطروا فإن غم عليكم فعدوا ثلاثين]
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک اللہ تعالیٰ نے ان چاندوں کو اوقات کا تعین کرنے کا ذریعہ بنایا ہے، پس جب تم اسے دیکھو تو روزہ رکھو، اور جب تم اسے دیکھو تو روزہ چھوڑ دو، اور اگر تم پر بادل چھا جائیں تو تیس دن پورے کر لو۔“
”بے شک اللہ تعالیٰ نے ان چاندوں کو اوقات کا تعین کرنے کا ذریعہ بنایا ہے، پس جب تم اسے دیکھو تو روزہ رکھو، اور جب تم اسے دیکھو تو روزہ چھوڑ دو، اور اگر تم پر بادل چھا جائیں تو تیس دن پورے کر لو۔“
[إن الله جعل هذه الأهلة مواقيت فإذا رأيتموه فصوموا وإذا رأيتموه فأفطروا فإن غم عليكم فعدوا ثلاثين]
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک اللہ تعالیٰ نے ان چاندوں کو وقت مقرر کرنے کا ذریعہ بنایا ہے۔ لہٰذا جب تم اسے (رمضان کے چاند کو) دیکھو تو روزہ رکھو، اور جب اسے (شوال کے چاند کو) دیکھو تو روزہ افطار کرو (یعنی عید مناؤ)۔ اور اگر مطلع ابر آلود ہو (یعنی چاند نظر نہ آئے) تو تیس دنوں کی گنتی پوری کرو۔“
”بے شک اللہ تعالیٰ نے ان چاندوں کو وقت مقرر کرنے کا ذریعہ بنایا ہے۔ لہٰذا جب تم اسے (رمضان کے چاند کو) دیکھو تو روزہ رکھو، اور جب اسے (شوال کے چاند کو) دیکھو تو روزہ افطار کرو (یعنی عید مناؤ)۔ اور اگر مطلع ابر آلود ہو (یعنی چاند نظر نہ آئے) تو تیس دنوں کی گنتی پوری کرو۔“
«إن الله تعالى جميل يحب الجمال»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ جمیل (خوبصورت) ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے۔“
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ جمیل (خوبصورت) ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے۔“
«إن الله تعالى جميل يحب الجمال ويحب أن يرى أثر نعمته على عبده ويبغض البؤس والتباؤس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے، اور وہ پسند کرتا ہے کہ اس کے بندے پر اس کی نعمت کا اثر نظر آئے، اور وہ خستہ حالی اور جان بوجھ کر خستہ حال بننے کو ناپسند فرماتا ہے۔“
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے، اور وہ پسند کرتا ہے کہ اس کے بندے پر اس کی نعمت کا اثر نظر آئے، اور وہ خستہ حالی اور جان بوجھ کر خستہ حال بننے کو ناپسند فرماتا ہے۔“
«إن الله تعالى جميل يحب الجمال ويحب معالي الأخلاق ويكره سفسافها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے، اور وہ اعلیٰ اخلاق کو پسند فرماتا ہے جبکہ گھٹیا اور رذیل اخلاق کو ناپسند کرتا ہے۔“
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے، اور وہ اعلیٰ اخلاق کو پسند فرماتا ہے جبکہ گھٹیا اور رذیل اخلاق کو ناپسند کرتا ہے۔“
«إن الله تعالى جواد يحب الجود ويحب معالي الأخلاق ويكره سفسافها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ سخی ہے اور سخاوت کو پسند فرماتا ہے، اور وہ اعلیٰ اخلاق کو پسند فرماتا ہے جبکہ گھٹیا اور رذیل اخلاق کو ناپسند کرتا ہے۔“
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ سخی ہے اور سخاوت کو پسند فرماتا ہے، اور وہ اعلیٰ اخلاق کو پسند فرماتا ہے جبکہ گھٹیا اور رذیل اخلاق کو ناپسند کرتا ہے۔“
«إن الله حبس عن مكة الفيل وسلط عليها رسول الله والمؤمنين ألا فإنها لم تحل لأحد قبلي ولا تحل لأحد بعدي ألا وإنها حلت لي ساعة من نهار ألا وإنها ساعتي هذه حرام لا يختلى شوكها ولا يعضد شجرها ولا يلتقط ساقطتها إلا لمنشد ومن قتل له قتيل فهو بخير النظرين إما أن يعقل وإما أن يقاد أهل القتيل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک اللہ تعالیٰ نے مکہ سے ہاتھیوں کو روک دیا تھا اور اس پر اپنے رسول اور مومنوں کو غلبہ عطا فرمایا۔ خبردار! یہ (مکہ) مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال (جنگ کے لیے) نہیں ہوا اور نہ ہی میرے بعد کسی کے لیے حلال ہوگا۔ سن لو! یہ میرے لیے بھی دن کی صرف ایک گھڑی کے لیے حلال کیا گیا تھا۔ سن لو! یہ میری اس گھڑی میں بھی حرام ہے، اس کا کانٹا نہ توڑا جائے، اس کے درخت نہ کاٹے جائیں اور اس کی گری پڑی چیز صرف وہی شخص اٹھائے جسے اعلان کرنا ہو۔ اور جس کا کوئی آدمی قتل کر دیا جائے تو اسے دو باتوں کا اختیار ہے: یا تو وہ دیت لے لے یا مقتول کے ورثاء بدلہ (قصاص) لیں۔“
”بے شک اللہ تعالیٰ نے مکہ سے ہاتھیوں کو روک دیا تھا اور اس پر اپنے رسول اور مومنوں کو غلبہ عطا فرمایا۔ خبردار! یہ (مکہ) مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال (جنگ کے لیے) نہیں ہوا اور نہ ہی میرے بعد کسی کے لیے حلال ہوگا۔ سن لو! یہ میرے لیے بھی دن کی صرف ایک گھڑی کے لیے حلال کیا گیا تھا۔ سن لو! یہ میری اس گھڑی میں بھی حرام ہے، اس کا کانٹا نہ توڑا جائے، اس کے درخت نہ کاٹے جائیں اور اس کی گری پڑی چیز صرف وہی شخص اٹھائے جسے اعلان کرنا ہو۔ اور جس کا کوئی آدمی قتل کر دیا جائے تو اسے دو باتوں کا اختیار ہے: یا تو وہ دیت لے لے یا مقتول کے ورثاء بدلہ (قصاص) لیں۔“
«إن الله حرم الخمر وحرم الميتة وثمنها وحرم الخنزير وثمنه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک اللہ تعالیٰ نے شراب کو حرام قرار دیا ہے، اور مردار اور اس کی قیمت کو حرام کیا ہے، اور خنزیر اور اس کی قیمت کو بھی حرام کر دیا ہے۔“
”بے شک اللہ تعالیٰ نے شراب کو حرام قرار دیا ہے، اور مردار اور اس کی قیمت کو حرام کیا ہے، اور خنزیر اور اس کی قیمت کو بھی حرام کر دیا ہے۔“
«إن الله حرم على أمتي الخمر والميسر والمزر والكوبة والغبيراء وزادني صلاة الوتر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک اللہ تعالیٰ نے میری امت پر شراب، جوا، جو کی شراب (المزر)، طبلہ (الكوبة) اور باجرے کی شراب (الغبيراء) کو حرام قرار دیا ہے، اور میرے لیے وتر کی نماز کا اضافہ فرمایا ہے۔“
”بے شک اللہ تعالیٰ نے میری امت پر شراب، جوا، جو کی شراب (المزر)، طبلہ (الكوبة) اور باجرے کی شراب (الغبيراء) کو حرام قرار دیا ہے، اور میرے لیے وتر کی نماز کا اضافہ فرمایا ہے۔“
«إن الله حرم عليكم الخمر والميسر والمزر والكوبة وكل مسكر حرام»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پر شراب، جوا، جو کی شراب (المزر) اور طبلہ (الكوبة) کو حرام قرار دیا ہے، اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“
”بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پر شراب، جوا، جو کی شراب (المزر) اور طبلہ (الكوبة) کو حرام قرار دیا ہے، اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“
«إن الله تعالى حرم عليكم: عقوق الأمهات ووأد البنات ومنعا وهات وكره لكم: قيل وقال وكثرة السؤال وإضاعة المال»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پر ماؤں کی نافرمانی کرنا، بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا، (حقوق کی ادائیگی سے) روکنا اور (ناحق) مانگنے کو حرام قرار دیا ہے۔ اور تمہارے لیے قیل و قال (یعنی فضول باتوں)، کثرتِ سوال اور مال ضائع کرنے کو ناپسند فرمایا ہے۔“
”بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پر ماؤں کی نافرمانی کرنا، بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا، (حقوق کی ادائیگی سے) روکنا اور (ناحق) مانگنے کو حرام قرار دیا ہے۔ اور تمہارے لیے قیل و قال (یعنی فضول باتوں)، کثرتِ سوال اور مال ضائع کرنے کو ناپسند فرمایا ہے۔“
«إن الله حرم علي الصدقة وعلى أهل بيتي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اور میرے اہل بیت پر صدقہ کو حرام کر دیا ہے۔“
”بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اور میرے اہل بیت پر صدقہ کو حرام کر دیا ہے۔“
«إن الله حرم مكة يوم خلق السموات والأرض فهي حرام بحرمة الله إلى يوم القيامة لم تحل لأحد قبلي ولا تحل لأحد بعدي ولم تحل لي قط إلا ساعة من الدهر لا ينفر صيدها ولا يعضد شوكها ولا يختلى خلاها ولا تحل لقطتها إلا لمنشد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک اللہ تعالیٰ نے مکہ کو اسی دن محترم (حرمت والا) بنا دیا تھا جس دن اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا، پس وہ قیامت تک اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ حرمت کی وجہ سے محترم ہے۔ یہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں ہوا اور نہ ہی میرے بعد کسی کے لیے حلال ہوگا، اور میرے لیے بھی پوری زندگی میں صرف ایک گھڑی کے لیے حلال کیا گیا تھا۔ اس کا شکار نہ بھگایا جائے، اس کا کانٹا نہ کاٹا جائے، اس کی گھاس نہ اکھاڑی جائے اور اس کی گری پڑی چیز صرف وہی شخص اٹھائے جسے اعلان کرنا ہو۔“
”بے شک اللہ تعالیٰ نے مکہ کو اسی دن محترم (حرمت والا) بنا دیا تھا جس دن اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا، پس وہ قیامت تک اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ حرمت کی وجہ سے محترم ہے۔ یہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں ہوا اور نہ ہی میرے بعد کسی کے لیے حلال ہوگا، اور میرے لیے بھی پوری زندگی میں صرف ایک گھڑی کے لیے حلال کیا گیا تھا۔ اس کا شکار نہ بھگایا جائے، اس کا کانٹا نہ کاٹا جائے، اس کی گھاس نہ اکھاڑی جائے اور اس کی گری پڑی چیز صرف وہی شخص اٹھائے جسے اعلان کرنا ہو۔“
«إن الله حرم من الرضاعة ما حرم من الولادة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک اللہ تعالیٰ نے رضاعت (یعنی دودھ پینے کے رشتے) سے بھی ان تمام رشتوں کو حرام قرار دیا ہے جنہیں اس نے پیدائش (یعنی نسب) کی وجہ سے حرام کیا ہے۔“
”بے شک اللہ تعالیٰ نے رضاعت (یعنی دودھ پینے کے رشتے) سے بھی ان تمام رشتوں کو حرام قرار دیا ہے جنہیں اس نے پیدائش (یعنی نسب) کی وجہ سے حرام کیا ہے۔“
«إن الله تعالى حرم من الرضاع ما حرم من النسب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک اللہ تعالیٰ نے رضاعت کی وجہ سے بھی ان تمام رشتوں کو حرام قرار دیا ہے جنہیں اس نے نسب کی وجہ سے حرام کیا ہے۔“
”بے شک اللہ تعالیٰ نے رضاعت کی وجہ سے بھی ان تمام رشتوں کو حرام قرار دیا ہے جنہیں اس نے نسب کی وجہ سے حرام کیا ہے۔“
«إن الله تعالى حيث خلق الداء خلق الدواء فتداووا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک اللہ تعالیٰ نے جہاں بیماری پیدا کی ہے وہیں اس کی دوا بھی پیدا فرمائی ہے، لہٰذا تم اپنا علاج کیا کرو۔“
”بے شک اللہ تعالیٰ نے جہاں بیماری پیدا کی ہے وہیں اس کی دوا بھی پیدا فرمائی ہے، لہٰذا تم اپنا علاج کیا کرو۔“
«إن الله حين خلق الخلق كتب بيده على نفسه: إن رحمتي تغلب غضبي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق کو پیدا فرمایا تو اس نے اپنے ہاتھ سے اپنے اوپر (اپنے پاس ایک کتاب میں) لکھ لیا کہ یقیناً میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔“
”بے شک اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق کو پیدا فرمایا تو اس نے اپنے ہاتھ سے اپنے اوپر (اپنے پاس ایک کتاب میں) لکھ لیا کہ یقیناً میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔“
«إن الله تعالى حيي ستير يحب الحياء والستر فإذا اغتسل أحدكم فليستتر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک اللہ تعالیٰ بہت حیا فرمانے والا اور پردہ پوشی کرنے والا ہے، وہ حیا اور پردہ پوشی کو پسند فرماتا ہے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی غسل کرے تو اسے چاہیے کہ وہ پردہ کرے۔“
”بے شک اللہ تعالیٰ بہت حیا فرمانے والا اور پردہ پوشی کرنے والا ہے، وہ حیا اور پردہ پوشی کو پسند فرماتا ہے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی غسل کرے تو اسے چاہیے کہ وہ پردہ کرے۔“
«إن الله تعالى حيي كريم يستحي إذا رفع الرجل إليه يديه أن يردهما صفرا خائبتين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک اللہ تعالیٰ بہت حیا فرمانے والا اور انتہائی سخی و کریم ہے۔ جب کوئی آدمی (دعا کے لیے) اس کے سامنے اپنے ہاتھ اٹھاتا ہے تو اسے اس بات سے حیا آتی ہے کہ وہ ان ہاتھوں کو خالی اور ناکام واپس لوٹا دے۔“
”بے شک اللہ تعالیٰ بہت حیا فرمانے والا اور انتہائی سخی و کریم ہے۔ جب کوئی آدمی (دعا کے لیے) اس کے سامنے اپنے ہاتھ اٹھاتا ہے تو اسے اس بات سے حیا آتی ہے کہ وہ ان ہاتھوں کو خالی اور ناکام واپس لوٹا دے۔“
…