حدیث نمبر: 1724
"إن الله أمر يحيى بن زكريا بخمس كلمات أن يعمل بهن وأن يأمر بني إسرائيل أن يعملوا بهن فكأنه أبطأ بهن فأوحى الله إلى عيسى: إما أن يبلغهن أو تبلغهن فأتاه عيسى فقال له: إنك أمرت بخمس كلمات أن تعمل بهن وتأمر بني إسرائيل أن يعملوا بهن فإما أن تبلغهن وإما أن أبلغهن فقال له: يا روح الله إني أخشى إن سبقتني أن أعذب أو يخسف بي فجمع يحيى بني إسرائيل في بيت المقدس حتى امتلأ المسجد فقعد على الشرفات فحمد الله وأثنى عليه ثم قال: إن الله أمرني بخمس كلمات أن أعمل بهن وآمركم أن تعملوا بهن; وأولهن: أن تعبدوا الله ولا تشركوا به شيئا فإن مثل من أشرك بالله
كمثل رجل اشترى عبدا من خالص ماله بذهب أو ورق ثم أسكنه دارا فقال: اعمل وارفع إلي فجعل العبد يعمل ويرفع إلى غير سيده فأيكم يرضى أن يكون عبده كذلك؟ وإن الله خلقكم ورزقكم فاعبدوه ولا تشركوا به شيئا.
وأمركم بالصلاة وإذا قمتم إلى الصلاة فلا تلتفتوا فإن الله عز وجل يقبل بوجهه على عبده ما لم يلتفت.
وأمركم بالصيام ومثل ذلك كمثل رجل معه صرة مسك في عصابة كلهم يجد ريح المسك وإن خلوف فم الصائم أطيب عند الله من ريح المسك.
وأمركم بالصدقة ومثل ذلك كمثل رجل أسره العدو فشدوا يديه
إلى عنقه وقدموه ليضربوا عنقه فقال لهم: هل لكم أن أفتدي نفسي منكم؟ فجعل يفتدي نفسه منهم بالقليل والكثير حتى فك نفسه، وأمركم بذكر الله كثيرا ومثل ذلك كمثل رجل طلبه العدو سراعا في أثره فأتى حصنا حصينا فأحرز نفسه فيه وإن العبد أحصن ما يكون من الشيطان إذا كان في ذكر الله تعالى. وأنا آمركم بخمس أمرني الله بهن: الجماعة والسمع والطاعة والهجرة والجهاد في سبيل الله فإنه من فارق الجماعة قيد شبر فقد خلع ربقة الإسلام من عنقه إلا أن يراجع ومن دعا بدعوة الجاهلية فهو من جثاء جهنم وإن صام وصلى وزعم أنه مسلم فادعوا بدعوة الله التي سماكم بها المسلمين المؤمنين عباد الله"
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کو پانچ باتوں کا حکم دیا کہ وہ خود بھی ان پر عمل کریں اور بنی اسرائیل کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دیں۔ ایسا لگا کہ انہوں نے اس میں کچھ تاخیر کر دی تو اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی کہ یا تو آپ انہیں پہنچا دیں یا پھر وہ (یحییٰ علیہ السلام) پہنچائیں۔ چنانچہ عیسیٰ علیہ السلام ان کے پاس آئے اور فرمایا: آپ کو پانچ باتوں کا حکم دیا گیا تھا کہ آپ ان پر عمل کریں اور بنی اسرائیل کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دیں، تو یا تو آپ انہیں پہنچا دیں یا پھر میں پہنچا دوں۔ یحییٰ علیہ السلام نے ان سے کہا: اے روح اللہ! مجھے ڈر ہے کہ اگر آپ نے مجھ سے پہل کر لی تو مجھے عذاب دیا جائے گا یا مجھے زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ پھر یحییٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو بیت المقدس میں جمع کیا یہاں تک کہ مسجد بھر گئی، وہ ایک اونچی جگہ پر بیٹھ گئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا: بے شک اللہ نے مجھے پانچ باتوں کا حکم دیا ہے کہ میں ان پر عمل کروں اور تمہیں بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دوں۔ ان میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ، کیونکہ اس شخص کی مثال جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا اس آدمی جیسی ہے جس نے اپنے خالص مال یعنی سونے یا چاندی سے ایک غلام خریدا، پھر اسے ایک گھر میں بسایا اور کہا: کام کرو اور میری طرف لاؤ، تو وہ غلام کام کرنے لگا اور اپنے مالک کے علاوہ کسی اور کی طرف مال لے جانے لگا، تو تم میں سے کون پسند کرے گا کہ اس کا غلام ایسا ہو؟ اور بے شک اللہ نے تمہیں پیدا کیا اور تمہیں رزق دیا، پس تم اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ۔ اور اس نے تمہیں نماز کا حکم دیا ہے، پس جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو ادھر ادھر نہ دیکھو، کیونکہ اللہ عزوجل اپنے بندے کی طرف متوجہ رہتا ہے جب تک کہ وہ ادھر ادھر نہ دیکھے۔ اور اس نے تمہیں روزے کا حکم دیا ہے، اس کی مثال اس آدمی جیسی ہے جس کے پاس ایک گروہ کے درمیان کستوری کی تھیلی ہو اور ہر کوئی کستوری کی خوشبو محسوس کر رہا ہو، اور بے شک روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے۔ اور اس نے تمہیں صدقہ کرنے کا حکم دیا ہے، اس کی مثال اس شخص جیسی ہے جسے دشمن نے قید کر لیا ہو اور اس کے ہاتھ اس کی گردن کے ساتھ باندھ دیے ہوں اور اسے قتل کرنے کے لیے آگے بڑھایا ہو، تو وہ ان سے کہے: کیا تم چاہو گے کہ میں تم سے اپنی جان کا فدیہ دے کر خود کو چھڑا لوں؟ پھر وہ تھوڑا تھوڑا اور زیادہ فدیہ دے کر خود کو ان سے چھڑا لے۔ اور اس نے تمہیں کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے کا حکم دیا ہے، اس کی مثال اس شخص جیسی ہے جس کے پیچھے دشمن تیزی سے لگا ہو اور وہ ایک مضبوط قلعے میں آ کر خود کو اس میں محفوظ کر لے، اور بے شک بندہ شیطان سے سب سے زیادہ محفوظ اسی وقت ہوتا ہے جب وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول ہو۔ اور میں تمہیں پانچ باتوں کا حکم دیتا ہوں جن کا اللہ نے مجھے حکم دیا ہے: الجماعت (مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ جڑے رہنا)، (امیر کی بات) سننا اور اطاعت کرنا، ہجرت کرنا اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ پس بے شک جس شخص نے بالشت بھر بھی جماعت کو چھوڑا تو اس نے اسلام کا پٹہ اپنی گردن سے اتار دیا، سوائے اس کے کہ وہ (جماعت کی طرف) دوبارہ لوٹ آئے۔ اور جس نے زمانہ جاہلیت کی پکار (عصبیت وغیرہ) کے ساتھ پکارا، تو وہ جہنم کے گھٹنوں کے بل گرنے والوں میں سے ہے، خواہ وہ روزہ رکھے، نماز پڑھے اور یہ گمان کرے کہ وہ مسلمان ہے۔ پس تم اللہ کی دی ہوئی پکار کے ساتھ پکارو، جس نے تمہارا نام مسلم، مومن اور اللہ کے بندے رکھا ہے۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1724
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم تخ ت ن حب ك] عن الحارث ابن الحارث الأشعري١. صحيح الترغيب ٥٥٣، المشكاة ٣٦٩٤: الطيالسي، ابن خزيمة.