کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: آیت «اے ایمان والو! جب تم اللہ کی راہ میں سفر کرو تو تحقیق کر لیا کرو» کے نزول کا سبب
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مِهْران (1)، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن سِمَاك، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: مَرَّ رجلٌ من بني سُلَيم على نفرٍ من أصحاب النبي ﷺ ومعه غنمٌ له، فسَلَّمَ عليهم، فقالوا: ما سَلَّمَ عليكم إلّا ليتعوَّذَ منكم، فعَمَدُوا إليه فقتلوه وأَخذوا غنمَه، فأَتَوْا بها النبيَّ ﷺ، فأنزل الله ﵎: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا﴾ إلى قوله: ﴿كَذَلِكَ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فَتَبَيَّنُوا﴾ [النساء: 94] (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2920 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2920 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ بنو سلیم کا ایک شخص نبی کریم ﷺ کے چند صحابہ کے پاس سے گزرا، اس کے ساتھ اس کی بکریاں تھیں، اس نے انہیں سلام کیا، صحابہ نے (آپس میں) کہا: اس نے تمہیں صرف اس لیے سلام کیا ہے تاکہ تم سے جان بچا سکے، چنانچہ وہ اس کی طرف بڑھے، اسے قتل کر دیا اور اس کی بکریاں لے لیں، پھر وہ انہیں لے کر نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا﴾ [سورة النساء: 94] ”اے ایمان والو! جب تم اللہ کی راہ میں (جہاد کے لیے) نکلو تو تحقیق کر لیا کرو اور جو تمہیں سلام کرے اسے یہ نہ کہو کہ تو مومن نہیں ہے“، اللہ کے اس فرمان تک: ﴿كَذَلِكَ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فَتَبَيَّنُوا﴾ [سورة النساء: 94] ”اسی طرح تم بھی اس سے پہلے تھے، پھر اللہ نے تم پر احسان کیا، لہٰذا تم تحقیق کر لیا کرو“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني محمد بن مُؤمَّل بن الحسن بن عيسى، حدثنا الفضل بن محمد بن المسيَّب، حدثنا عيسى بن مِيناءَ قالُونُ، حدثني أبو غَزِيَّة محمد بن موسى القاضي، حدثنا إبراهيم بن إسماعيل الأشهَلي، عن داود بن الحُصَين، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس: أنَّ رسول الله ﷺ قرأَ: ﴿وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ﴾ [آل عمران: 161] بفتح الياء (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2921 - بل واه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2921 - بل واه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ﴿وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ﴾ [سورة آل عمران: 161] ”اور کسی نبی کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ خیانت کرے“ کو «ی» کے فتحہ (زبر) کے ساتھ پڑھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا إبراهيم بن يوسف الهِسِنْجاني، حدثنا هشام بن خالد، حدثنا إسماعيل بن قيس، عن نافع بن أبي نُعَيم: (فرُهُنٌ مَقْبُوضةٌ) [البقرة: 283]. ثم قال نافع: أقرأَني خارجةُ بن زيد بن ثابت، وقال: أقرأَني زيدُ بن ثابت، وقال: أقرأَني رسولُ الله ﷺ: (فرُهُنٌ مَقبُوضةٌ) بغير ألفٍ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2922 - إسماعيل ضعفوه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2922 - إسماعيل ضعفوه
حافظ طلحہ بابر
نافع بن ابی نعیم «فَرُهُنٌ مَقْبُوضَةٌ» [سورة البقرة: 283] کے بارے میں روایت کرتے ہیں، پھر نافع نے کہا: مجھے خارجہ بن زید بن ثابت نے پڑھایا اور انہوں نے کہا: مجھے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے پڑھایا اور انہوں نے کہا: مجھے رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح «فَرُهُنٌ مَقْبُوضَةٌ» بغیر الف کے پڑھایا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني محمد بن يزيد العَدْل، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن يحيى القُطَعي (3)، حدثنا يحيى بن راشد، حدثنا خالد الحذَّاء، عن عبد الله بن عُبَيد ابن عُمَير، عن أبيه قال: قلت لعائشة: يا أمَّ المؤمنين، كيف كان رسول الله ﷺ يقرأُ هذا الحرفَ: ﴿وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا﴾ [المؤمنون: 60]؟ قالت: أيُّهما أحبُّ إليك؟ قلت: أحدُهما أحبُّ إليَّ من حُمْر النَّعَم، قالت: أيُّهما؟ قلت: (الذينَ يَأْتُونَ ما أَتَوْا)، قالت: هكذا سمعتُ رسول الله ﷺ يقرؤُها (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2923 - يحيى بن راشد ضعيف
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2923 - يحيى بن راشد ضعيف
حافظ طلحہ بابر
عبداللہ بن عبید بن عمیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کی: اے ام المومنین! رسول اللہ ﷺ اس حرف ﴿وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا﴾ [سورة المؤمنون: 60] کی تلاوت کیسے فرماتے تھے؟ انہوں نے پوچھا: تمہیں ان میں سے کون سی قراءت زیادہ پسند ہے؟ میں نے عرض کی: ان میں سے ایک مجھے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ محبوب ہے، انہوں نے پوچھا: وہ کون سی ہے؟ میں نے عرض کی: «الَّذِينَ يَأْتُونَ مَا أَتَوْا» (وہ لوگ جو اس حال میں آتے ہیں جو وہ آئے)، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح تلاوت فرماتے ہوئے سنا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا أبو النُّعمان محمد بن الفضل، حدثنا هارون بن موسى النَّحْوي، حدثنا بُدَيْل بن مَيسَرة العُقَيلي، عن عبد الله بن شَقِيق، عن عائشة: أنها سمعت النبيَّ ﷺ يقرأ: (فرُوحٌ ورَيْحانٌ) [الواقعة: 89] (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2924 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2924 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو ﴿فَرَوْحٌ وَرَيْحَانٌ﴾ [سورة الواقعة: 89] ”پس (اس کے لیے) راحت اور خوشبو ہے“ کی تلاوت کرتے ہوئے سنا (یعنی انہوں نے لفظ رَوْح کو را کے ضمہ کے ساتھ رُوح سنا)۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو محمد عبد الله بن محمد بن إسحاق الخُزَاعي بمكة، حدثنا أبو يحيى بن أبي مَسَرَّة، حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدثنا حَرمَلة بن عِمران، حدثني أبو يونس، سمعت أبا هريرة يقرأ هذه الآية: ﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ إِنَّ اللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا﴾ [النساء: 58] (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2925 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2925 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
ابو یونس سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا: ﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ إِنَّ اللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا﴾ [سورة النساء: 58] ”بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حقداروں کو ادا کرو، اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو، اللہ تمہیں جس بات کی نصیحت کرتا ہے وہ بہت ہی خوب ہے، بیشک اللہ سب کچھ سننے والا اور دیکھنے والا ہے“۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا محمد بن صالح وإبراهيم بن عِصْمةَ قالا: حدثنا أبو الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا أبو صالح عبد الله بن صالح، حدثني موسى بن عُلَيّ بن رَبَاح، عن أبيه، عن عمرو بن العاص قال: بَعَثَ إليَّ رسولُ الله ﷺ: "أنْ خُذْ عليك ثيابَك وسلاحَك ثم ائْتني"، فأخذتُ عليَّ ثيابي وسلاحي ثم أتيتُه، فوجدتُه قاعدًا يتوضَّأ، فصَعَّد فيَّ النظَرَ ثم طأطأَ، ثم قال: "يا عمرُو، إنِّي أريدُ أن أبعثَك على جيشٍ يُغنِمُك اللهُ ويُسلِّمُك، وأَزعَبُ لك من المال زَعْبةً (2) صالحةً" فقلت: يا رسول الله، لم أُسلِمْ للمال، إنما أسلمتُ رغبةً في الإسلام، وأن أكونَ معك، قال: "يا عمرُو نَعِمَّا بالمالِ الصالح للرجلِ الصالح"؛ يعني بفتح النون وكسر العين (3). حديث صحيح على شرط مسلم لرواية موسى بن عُليّ بن رَبَاح، وعلى شرط البخاري لأبي صالح.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2926 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2926 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے میری طرف پیغام بھیجا کہ: ”تم اپنے کپڑے اور اسلحہ پہن لو اور پھر میرے پاس آؤ“، چنانچہ میں نے اپنے کپڑے اور اسلحہ پہنا اور پھر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے آپ ﷺ کو وضو کرتے ہوئے پایا، آپ ﷺ نے مجھے اوپر سے نیچے تک (غور سے) دیکھا، پھر فرمایا: ”اے عمرو! میں تمہیں ایک لشکر پر بھیجنا چاہتا ہوں تاکہ اللہ تمہیں غنیمت عطا فرمائے اور سلامتی دے، اور میں تمہارے لیے مال کا ایک اچھا حصہ جمع کرنا چاہتا ہوں“، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں مال کے لیے اسلام نہیں لایا، میں تو محض اسلام کی رغبت میں اور اس لیے مسلمان ہوا ہوں کہ آپ ﷺ کے ساتھ رہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عمرو! صالح آدمی کے لیے صالح مال کیا ہی خوب چیز ہے“، یہاں آپ ﷺ نے لفظ «نِعِمَّا» کو نون کے فتحہ (زبر) اور عین کے کسرہ (زیر) کے ساتھ پڑھا۔
یہ حدیث موسیٰ بن علی بن رباح کی روایت کی وجہ سے امام مسلم کی شرط پر، اور ابوصالح کی وجہ سے امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے۔
یہ حدیث موسیٰ بن علی بن رباح کی روایت کی وجہ سے امام مسلم کی شرط پر، اور ابوصالح کی وجہ سے امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے۔
حدثنا علي بن حَمْشاذَ، حدثنا الحسن بن عبد الصمد، حدثنا عَبْدان بن عثمان، حدثنا عبد الله بن المبارَك، عن يونس بن يزيد، أخبرني أبو علي بن يزيد، عن ابن شِهاب، عن أنس: أنَّ النبي ﷺ كان يقرأ: ﴿وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ﴾ بالنَّصب (والعَينُ بالعَين) [المائدة: 45] بالرفع (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. رواه محمد بن معاوية النَّيسابوري عن عبد الله بن المبارَك بزيادات ألفاظ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2927 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. رواه محمد بن معاوية النَّيسابوري عن عبد الله بن المبارَك بزيادات ألفاظ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2927 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ یہ آیت اس طرح پڑھتے تھے: ﴿وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ﴾ [سورة المائدة: 45] میں لفظ «النَّفْسَ» کو نصب (زبر) کے ساتھ جبکہ اس کے بعد والے الفاظ «وَالْعَيْنُ بِالْعَيْنِ» کو رفع (پیش) کے ساتھ پڑھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى الشهيد، حدثنا أبو علي محمد بن معاوية النَّيسابوري بمكة، حدثنا ابن المبارَك، عن يونس بن يزيد، عن أبي علي بن يزيد أخي يونس بن يزيد، عن الزُّهْري، عن أنس: أنَّ النبي ﷺ قرأَ: (أنَّ النفسَ بالنفسِ والعينُ بالعينِ والأَنفُ بالأنفِ والأُذُنُ بالأُذنِ والسِّنُّ بالسِّنِّ والجُروحُ قِصَاصٌ). محمد بن معاوية ليس من شرط هذا الكتاب (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس طرح تلاوت فرمائی: «أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنُ بِالْعَيْنِ وَالْأَنْفُ بِالْأَنْفِ وَالْأُذُنُ بِالْأُذُنِ والسِّنُّ بالسِّنِّ والجُرُوحُ قِصَاصٌ» ”بیشک جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت اور زخموں میں بدلہ ہے“۔
محمد بن معاویہ اس کتاب کی شرط پر نہیں ہیں۔
محمد بن معاویہ اس کتاب کی شرط پر نہیں ہیں۔
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي ببغداد، حدثنا محمد بن مَسلَمة الواسطي، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا أَصبَغُ بن زيد الجُهَني الورَّاق، حدثني القاسم بن أبي أيوب، حدثني سعيد بن جُبير قال: سألتُ عبدَ الله بنَ عبَّاس عن قول الله: ﴿وَفَتَنَّاكَ فُتُونًا﴾ [طه: 40]؛ في حديث يَبلُغُ به النبيَّ ﷺ: (قال رَجُلانِ من الَّذِينَ يُخَافُونَ) [المائدة: 23]، برفع الياء (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2929 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2929 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سعید بن جبیر سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَفتَنَّاكَ فُتُونًا﴾ [سورة طه: 40] ”اور ہم نے تجھے خوب آزمائشوں میں ڈالا“ کے بارے میں پوچھا، (اسی سلسلے میں) ایک ایسی حدیث بیان کی جو نبی کریم ﷺ تک پہنچتی ہے کہ آپ ﷺ نے پڑھا: «قَالَ رَجُلَانِ مِنَ الَّذِينَ يُخَافُونَ» [سورة المائدة: 23] ”ان لوگوں میں سے دو آدمیوں نے کہا جن سے ڈرا جاتا تھا“، یہاں آپ ﷺ نے لفظ «يُخَافُونَ» کو یا کے رفع (پیش) کے ساتھ پڑھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني علي بن عيسى الحِيرِي، حدثنا أبو بكر محمد بن النَّضْر الجارُودي، حدثنا عبد الأعلى بن حمَّاد النَّرْسي ونَصْر بن علي الجَهضَمي، قالا: حدثنا المعتمِر بن سليمان، عن أبيه، عن عطاء بن السائب، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: لما نزلت ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ قال رسول الله ﷺ: "كلُّها في صُحُف إبراهيم وموسى"، فلما نزلت: ﴿وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى﴾ فبلغ ﴿وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّى﴾ ثَقَّله وقال: "وَفَّى"، ﴿أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ إلى قوله: ﴿هَذَا نَذِيرٌ مِنَ النُّذُرِ الْأُولَى﴾ [النجم: 37 - 56] (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2930 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2930 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب آیت ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ سب باتیں ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں (بھی) ہیں“، پھر جب سورہ النجم کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں اور آپ ﷺ اس مقام پر پہنچے ﴿وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّى﴾ [سورة النجم: 37] تو آپ ﷺ نے اسے شد کے ساتھ «وَفَّى» (جس نے پورا کیا) پڑھا، اور پھر ﴿أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ سے لے کر ﴿هذَا نَذِيرٌ مِنَ النُّذُرِ الْأُولَى﴾ [سورة النجم: 37 - 56] تک تلاوت فرمائی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلّاب بهَمَذان، حدثنا إسحاق بن أحمد بن مِهرانَ الخرَّاز، حدثنا إسحاق بن سليمان الرازي، حدثنا أبو جعفر عيسى بن ماهانَ، عن الرَّبيع بن أنس، عن أبي العاليَةِ، عن أم سَلَمة قالت: سمعت رسولَ الله ﷺ يقرأ: (بَلَى قَدْ جاءَتْكِ آياتي فكذَّبتِ بها واستَكبَرتِ وكنتِ من الكافرينَ) [الزمر: 59] (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2931 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2931 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ آیت اس طرح پڑھتے ہوئے سنا: «بَلَى قَدْ جَاءَتْكِ آيَاتِي فَكَذَّبْتِ بِهَا وَاسْتَكْبَرْتِ وَكُنْتِ مِنَ الْكَافِرِينَ» [سورة الزمر: 59] ”کیوں نہیں! بیشک تیرے پاس میری آیات آئیں تو تو نے انہیں جھٹلایا اور تکبر کیا اور تو کافروں میں سے تھی“ (آپ ﷺ نے اسے مخاطبِ مونث کے صیغے کے ساتھ پڑھا)۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني أبو أحمد بكر بن محمد بن حَمْدان الصَّيرَفي بمَرْو، حدثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل السُّلَمي، حدثنا إسحاق بن محمد الفَرْوي، حدثنا سليمان بن بلال، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن عُبيد الله بن أبي رافع، عن علي بن أبي طالب: أنَّ النبي ﷺ قرأَ: ﴿مِنَ الَّذِينَ اسْتَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْأَوْلَيَانِ﴾ [المائدة: 107] (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2932 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2932 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے آیت کو اس طرح پڑھا: ﴿مِنَ الَّذِينَ اسْتَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْأَوْلَيَانِ﴾ [سورة المائدة: 107] ”ان لوگوں میں سے جن کا حق مارا گیا تھا، دو زیادہ قریبی وارث“۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ ومحمد بن القاسم العَتَكي قالا: حدثنا أبو سهل بِشْر بن سهل اللَّبّاد، حدثنا عبد الله بن صالح المِصري، حدثنا حمّاد بن عبد الله بن عثمان بن خُثَيم، عن أبيه، عن سعيد بن جُبير - قال حماد: وقد سمعتُه من سعيد بن جُبير - عن ابن عبَّاس: أنَّ رسول الله ﷺ كان يقرأ: ﴿فِي عَيْنٍ حَمِئَةٍ﴾ [الكهف: 86] (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2933 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2933 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ آیت ﴿فِي عَيْنٍ حَمِئَةٍ﴾ [سورة الكهف: 86] ”ایک کیچڑ والے گرم چشمے میں“ (لفظ حَمِئَة کو ہمزہ کے ساتھ) تلاوت فرماتے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أَبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شُعْبة، عن عمرو بن أبي حَكِيم، عن عبد الله بن بُرَيدة قال: كان عند ابن زيادٍ أبو الأسود الدِّيلِي وجُبَير بن حيَّة الثَّقفي، قال: فذَكَرُوا هذا الحرف ﴿لَقَدْ تَقَطَّعَ بَيْنَكُمْ﴾ [الأنعام: 94] حتى وَضَعَوا الأخطارَ، فقال أسلمُ بن زُرْعة: سمعت أبا موسى يقرأ: ﴿لَقَدْ تَقَطَّعَ بَيْنَكُمْ﴾، فقال أحدهما: بيني وبينك أولُ من يَدخُل علينا، فدخل علينا يحيى بن يَعمَر فسألوه، فقال يحيى: (لقد تَقطَّعَ بَيْنُكم) رفعًا، فقال يحيى: إنَّ أبا موسى ليس من أهل الغور (2) ولا أتَّهِمُه (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2934 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2934 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
عبداللہ بن بریدہ سے روایت ہے کہ عبید اللہ بن زیاد کے پاس ابو الاسود الدیلی اور جبیر بن حیّہ ثقفی موجود تھے، انہوں نے قرآن کے اس لفظ ﴿لَقَدْ تَقَطَّعَ بَيْنَكُمْ﴾ [سورة الأنعام: 94] کا ذکر کیا یہاں تک کہ انہوں نے (صحیح اعراب پر) شرطیں لگا لیں، اسلم بن زرعہ نے کہا: میں نے ابو موسیٰ اشعری کو ”«لَقَدْ تَقَطَّعَ بَيْنَكُمْ»“ (نصب کے ساتھ) پڑھتے سنا ہے، تب ان میں سے ایک نے کہا: میرے اور تمہارے درمیان وہ شخص فیصلہ کرے گا جو سب سے پہلے ہمارے پاس آئے گا، اتنے میں یحییٰ بن یعمر تشریف لائے تو ان سے اس بارے میں پوچھا گیا، یحییٰ نے کہا: یہ لفظ ”«لَقَدْ تَقَطَّعَ بَيْنُكُمْ»“ رفع (پیش) کے ساتھ ہے، پھر یحییٰ نے کہا: بیشک ابو موسیٰ نشیبی علاقے کے رہنے والے نہیں ہیں (اس لیے ان کے لہجے میں فرق ہو سکتا ہے) اور میں ان پر (غلط بیانی کا) الزام بھی نہیں لگاتا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني الإمام أبو الوليد الفقيه وإبراهيم بن إسماعيل القارئ قالا: حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا سُوَيد بن سعيد، حدثنا الوليد بن جُندُب، حدثنا بكر بن حُنَيس، عن محمد بن سعيد، عن عُبَادة بن نُسَيّ، عن عبد الرحمن بن غَنْم الأشعري قال: سألتُ معاذَ بن جبَل عن قول الحَوَاريِّين: ﴿هَلْ يَسْتَطِيعُ رَبُّكَ﴾ [المائدة: 112]، أو (هل تستطيعُ ربَّك)، فقال: أقرأَني رسولُ الله ﷺ (هل تستطيعُ)؛ يعني بالتاء (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2935 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2935 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
عبدالرحمان بن غنم اشعری سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے حواریوں کے اس قول ﴿هَلْ يَسْتَطِيعُ رَبُّكَ﴾ [سورة المائدة: 112] ”کیا آپ کا رب اس کی طاقت رکھتا ہے“ کے بارے میں پوچھا، یا (یہ پوچھا کہ کیا یہ) ”«هَلْ تَسْتَطِيعُ رَبَّكَ»“ ہے؟ تو انہوں نے کہا: مجھے رسول اللہ ﷺ نے ”«هَلْ تَسْتَطِيعُ»“ یعنی «ت» کے ساتھ پڑھایا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا إسماعيل بن أبي أُوَيس، حدثني أخي أبو بكر، عن ابن أبي ذِئْب، عن سعيد المَقْبُري، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال: "يَلقَى إبراهيمُ أباه آزَرَ يومَ القيامة، وعلى وجه آزرَ قَتَرةٌ وغَبَرةٌ، فيقول له إبراهيم: ألم أقل لك: لا تَعصِني؟ فيقول أبوه: فاليومَ لا أَعصِيكَ، فيقول إبراهيم: يا ربِّ، إنك وعدتَني أن لا تُخزِيَني يومَ يُبعَثون، فأيُّ خِزْيٍ أَخزى من أَبي الأبعدِ، فيقول الله: إنِّي حرَّمتُ الجنةَ على الكافرين، ثم يقال: يا إبراهيمُ، ما تحتَ رِجلَيكَ؟ فيَنظُرُ فإذا هو بذِيخٍ مُتلطِّخٍ، فيُؤخَذُ بقوائمِه فيُلقَى في النار" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2936 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2936 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن ابراہیم علیہ السلام اپنے والد آزر سے ملیں گے جبکہ آزر کے چہرے پر سیاہی اور غبار ہوگا، ابراہیم علیہ السلام اس سے فرمائیں گے: کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میری نافرمانی نہ کرنا؟ تب اس کا باپ کہے گا: آج میں تمہاری نافرمانی نہیں کروں گا، اس پر ابراہیم علیہ السلام عرض کریں گے: اے میرے رب! تو نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا کہ تو مجھے اس دن رسوا نہیں کرے گا جس دن لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے، تو میرے اس (رحمت سے) دور رہنے والے باپ کی رسوائی سے بڑھ کر اور کیا رسوائی ہوگی؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: بیشک میں نے جنت کافروں پر حرام کر دی ہے، پھر کہا جائے گا: اے ابراہیم! ذرا اپنے قدموں کے نیچے تو دیکھو، وہ دیکھیں گے تو وہاں ایک کیچڑ میں لتھڑا ہوا بجو (مردار خور جانور) ہوگا، جسے پاؤں سے پکڑ کر آگ میں ڈال دیا جائے گا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا!
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا!
أخبرني أبو سعيد عبد الرحمن بن أحمد المقرئ، حدثنا أحمد بن زيد بن هارون القَزّاز بمكة، حدثنا أحمد بن القاسم بن أبي بَزَّة، أخبرنا وهب بن زَمْعة، عن أبيه، عن حُميد بن قيس الأعرج، عن مجاهد، عن ابن عبَّاس، عن أُبيِّ بن كعب قال: أَقرأَني النبيُّ ﷺ: ﴿وَلِيَقُولُوا دَرَسْتَ﴾ [الأنعام: 105]؛ يعني بجَزْم السِّين ونَصْب التاء (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2937 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2937 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مجھے اس طرح پڑھایا ہے: ﴿وَلِيَقُولُوا دَرَسْتَ﴾ [سورة الأنعام: 105] یعنی لفظ «س» کے جزم اور «ت» کے فتحہ (زبر) کے ساتھ۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِي بن خُزَيمة، حدثنا أحمد بن عبد الله بن يونس، حدثنا أبو بكر بن عيَّاش، عن عاصم، عن زِرٍّ، عن عبد الله قال: خَطَّ رسولُ الله ﷺ خَطًّا، وخطَّ عن يمينِ ذلك الخطِّ وعن شمالِه خطًّا، ثم قال: "هذا صِراطُ الله مستقيمًا، وهذه السُّبُلُ على كلِّ سبيلٍ منها شيطانٌ يَدعُو إليه" ثم قرأ: ﴿وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ﴾ [الأنعام: 153] (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2938 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2938 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک (سیدھا) خط کھینچا، پھر اس خط کے دائیں اور بائیں جانب کچھ (ترچھے) خطوط کھینچے، پھر فرمایا: ”یہ اللہ کا سیدھا راستہ ہے اور یہ (متفرق) راستے ہیں جن میں سے ہر راستے پر ایک شیطان ہے جو اس کی طرف بلاتا ہے“، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ﴾ [سورة الأنعام: 153] ”اور یہ کہ بیشک یہی میرا سیدھا راستہ ہے تو اسی کی پیروی کرو، اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ تمہیں اللہ کی راہ سے جدا کر دیں گے“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني الحسين بن علي التَّميمي، حدثنا أبو العبَّاس أحمد بن محمد السِّجْزي، حدثنا هارون بن حاتم المقرئ، حدثنا أبو معاوية ومحمد بن فُضَيل وعبد الله بن نُمير، عن الأعمش، عن المِنهال بن عمرو، عن زاذانَ، عن البَرَاء قال: سمعت رسول الله ﷺ يقرأ: (لا تُفتَحُ لهم أبوابُ السماءِ) [الأعراف: 40]؛ مخفَّفٌ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2939 - هارون تركه أبو زرعة
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2939 - هارون تركه أبو زرعة
حافظ طلحہ بابر
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو آیت ﴿لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ﴾ [سورة الأعراف: 40] ”ان کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے“ کو تخفیف کے ساتھ (یعنی لفظ «تُفتَحُ» کو بغیر شد کے) پڑھتے سنا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أحمد عثمان بن بن يحيى المقرئ ببغداد، حدثنا سعيد بن عثمان الأهوازي، حدثنا رَوْح بن عبد المؤمن، حدثني عُبيد بن عَقِيل، حدثني حمّاد بن سَلَمة، عن ثابت، عن أنس: أنَّ النبي ﷺ قرأ: ﴿دَكًّا﴾ [الأعراف: 143]، منوَّنة، ولم يمدَّه (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2940 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2940 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے لفظ ﴿دَكًّا﴾ [سورة الأعراف: 143] کو تنوین کے ساتھ اور بغیر مد کے پڑھا ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس الرّازي، حدثنا سلَّام بن سليمان المَدائني، حدثنا أبو عمرو بن العلاء، عن نافع، عن ابن عمر: أنَّ النبي ﷺ قرأ: (الآن خَفَّفَ اللهُ عنكم وعَلِمَ أَنَّ فيكم ضُعْفًا) [الأنفال: 66]؛ رفع (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2941 - سلام بن سليمان نزل دمشق واه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2941 - سلام بن سليمان نزل دمشق واه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس طرح تلاوت فرمائی: ﴿الْآنَ خَفَّفَ اللَّهُ عَنْكُمْ وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضُعْفًا﴾ [سورة الأنفال: 66] ”اب اللہ نے تم سے بوجھ ہلکا کر دیا اور جان لیا کہ تم میں کمزوری ہے“، یہاں آپ ﷺ نے لفظ «ضُعْفًا» کو رفع (ضمہ/پیش) کے ساتھ پڑھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا أحمد بن بِشْر المَرثَدي، حدثنا عمرو بن علي، حدثني محبوب بن الحسن، عن خالد الحذَّاء، عن محمد بن سِيرِين، عن أنس: أنَّ النبي ﷺ قرأ: ﴿أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى﴾ [الأنفال: 67] (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2942 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2942 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ﴿أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى﴾ [سورة الأنفال: 67] ”کہ اس کے پاس قیدی ہوں“ (لفظ «أَسْرَى» کے ساتھ) تلاوت فرمایا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم المِصري، أخبرنا أبي وشعيبُ بن الليث قالا: أخبرنا الليث بن سعد، أخبرنا خالد بن يزيد، عن سعيد بن أبي هلال، عن أبي عبد الله نُعَيم بن عبد الله المُجمِر قال: أخبرني صهيب، أنه سمع أبا هريرة وأبا سعيد الخُدْري يقولان: خَطَبَنا رسولُ الله ﷺ وهو على المِنبر، فقال: "والَّذي نفسي بيده"، ثلاثَ مرات، ثم سكت، فأكَبَّ كلُّ رجل منا يبكي حزينًا ليمين رسول الله ﷺ، ثم قال: "ما من عبدٍ يأتي بالصلواتِ الخمس، ويصومُ رمضانَ، ويجتنبُ الكبائرَ السَّبْع، إلّا فُتِحَت له أبوابُ الجنة يومَ القيامة، حتى إنها لَتَصطَفِقُ" ثم تَلَا: ﴿إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ﴾ [النساء: 31] (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخُرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2943 - صحيح
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخُرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2943 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں منبر پر خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے“، آپ ﷺ نے تین بار یہ کلمات کہے، پھر کچھ دیر خاموش رہے، ہم میں سے ہر شخص رسول اللہ ﷺ کی اس (سخت) قسم کی وجہ سے غم زدہ ہو کر رونے لگا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو بھی بندہ پانچ وقت کی نمازیں پابندی سے ادا کرے، رمضان کے روزے رکھے اور سات بڑے گناہوں سے اجتناب کرے تو اس کے لیے قیامت کے دن جنت کے دروازے کھول دیے جائیں گے یہاں تک کہ وہ (خوشی و وسعت سے) ایک دوسرے سے ٹکرائیں گے“، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ﴾ [سورة النساء: 31] ”اگر تم ان بڑے گناہوں سے بچتے رہو جن سے تمہیں روکا گیا ہے تو ہم تمہاری برائیاں تم سے دور کر دیں گے“۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أبو سعد (3) يحيى بن منصور الهَرَوي، حدثنا محمد بن أَبان، حدثنا محمد بن يزيد، عن سفيان بن حسين، عن الزُّهري، عن علي بن حسين، عن عمرو بن عثمان، عن أسامة بن زيد، عن النبي ﷺ قال: "لا يتوارثُ أهلُ مِلَّتينِ، ولا يَرِثُ مسلمٌ كافرًا، ولا كافرٌ مسلمًا" ثم قرأ: ﴿وَالَّذِينَ كَفَرُوا بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ إِلَّا تَفْعَلُوهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ كَبِيرٌ﴾ [الأنفال: 73]؛ بالباء (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه هكذا.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه هكذا.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”دو مختلف مذاہب کے ماننے والے ایک دوسرے کے وارث نہیں بن سکتے، اور نہ کوئی مسلمان کسی کافر کا وارث ہوگا اور نہ ہی کوئی کافر کسی مسلمان کا وارث بنے گا۔“ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَالَّذِينَ كَفَرُوا بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ إِلَّا تَفْعَلُوهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ كَبِيرٌ﴾ ”اور جو لوگ کافر ہیں وہ ایک دوسرے کے رفیق ہیں، اگر تم یہ (حکم) نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد برپا ہو جائے گا۔“ [سورة الأنفال: 73]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس طرح روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس طرح روایت نہیں کیا۔
أخبرني أبو الحسين بن يعقوب الحافظ، حدثنا العبَّاس بن الفضل المقرئ، حدثنا إبراهيم بن مِهْران الأَيْلي، حدثنا علي بن الحسن (2) بن عبد الرحمن الدمشقي، حدثنا مُسلم بن خالد الزَّنْجي، عن عبد الله بن طاووس، عن أبيه، عن ابن عبَّاس يرفعُه: أنَّ النبي ﷺ قرأ: (لقد جاءَكم رسولٌ مِن أَنفَسِكُمْ) [التوبة: 128]؛ يعني: من أعظمِكم قدْرًا (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2945 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2945 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے (لفظ «انفسكم» کو «فاء» کے زبر کے ساتھ) یوں تلاوت فرمایا: ﴿لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنْفَسِكُمْ﴾ [سورة التوبة: 128] جس کا مفہوم یہ ہے کہ: ”بیشک تمہارے پاس تم ہی میں سے وہ رسول آئے ہیں جو تم میں سب سے زیادہ قدر و منزلت اور عظمت والے ہیں۔“
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا موسى بن هارون بن عبد الله، حدثنا نَصْر بن علي الجَهضمي، حدثنا عبد الله بن المبارَك، عن الأجلَح، عن عبد الله بن عبد الرحمن بن أَبْزَى، عن أبيه، قال: سمعت أُبيَّ بن كعب يقول: سمعت رسول الله ﷺ يقرأ: (قُلْ بِفَضْلِ اللهِ وَبَرَحمَتِهِ فبِذلكَ فَلْتَفرَحُوا هو خَيرٌ ممَّا تَجمَعُونَ) [يونس:58] (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2946 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2946 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن رحمان بن ابزی اپنے والد سے اور وہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس طرح تلاوت کرتے ہوئے سنا: ﴿قُلْ بِفَضْلِ اللهِ وَبَرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْتَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا تَجْمَعُونَ﴾ ”آپ فرما دیجئے کہ (یہ سب) اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کے باعث ہے، پس اس پر انہیں خوش ہونا چاہیے، یہ اس (دنیاوی مال و متاع) سے کہیں بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔“ [سورة يونس: 58]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أبو بكر بن أبي دارم الحافظ بالكوفة، حدثنا محمد بن عثمان ابن أبي شَيْبة، حدثنا إبراهيم بن الزِّبرِقان التَّيْمي، حدثنا أبو رَوْق، عن محمد بن جُحَادة، عن أبيه، عن عائشة قالت: كان رسولُ الله ﷺ يقرأ: (إنه عَمِلَ غيرَ صالحٍ) [هود: 46] (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2947 - إسناده مظلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2947 - إسناده مظلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (سورہ ہود کی آیت 46 میں لفظ عمل کو فعل ماضی کے طور پر) یوں تلاوت فرماتے تھے: ”بیشک اس نے ناپسندیدہ عمل کیے۔“ [سورة هود: 46]