أخبرني أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة: أنَّ النبي ﷺ اقرأ ﴿فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ﴾ [يوسف: 50]، قال: "لو بُعِثَ إلىَّ لأسرعتُ الإجابةَ وما ابتَغيتُ العُذْرَ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2948 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2948 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ﴾ ”آپ (بادشاہ سے) پوچھیں کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے؟“ [سورة يوسف: 50] اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر (بادشاہ کا) بلانے والا میری طرف بھیجا جاتا تو میں (سیدنا یوسف علیہ السلام کی طرح بریت کا مطالبہ کرنے کے بجائے) جلد ہی اسے قبول کر لیتا اور عذر تلاش نہ کرتا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني الحسين بن علي التَّميمي، حدثنا أبو العبَّاس أحمد بن محمد، حدثنا هارون بن حاتم، أخبرنا عبد الرحمن بن أبي حمّاد، حدثني إسحاق بن يوسف، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن جابر بن عبد الله قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول لعليٍّ: "يا عليُّ، الناسُ من شجرٍ شَتَّى، وأنا وأنت من شجرةٍ واحدةٍ"، ثم قرأ رسول الله: ﷺ ﴿وَجَنَّاتٌ مِنْ أَعْنَابٍ وَزَرْعٌ (1) وَنَخِيلٌ صِنْوَانٌ وَغَيْرُ صِنْوَانٍ يُسْقَى بِمَاءٍ وَاحِدٍ﴾ [الرعد: 4] (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يًخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2949 - لا والله هارون هالك
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يًخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2949 - لا والله هارون هالك
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اے علی! لوگ مختلف درختوں (یعنی الگ الگ جڑوں) سے ہیں، جبکہ میں اور آپ ایک ہی درخت سے ہیں۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَجَنَّاتٌ مِنْ أَعْنَابٍ وَزَرْعٌ وَنَخِيلٌ صِنْوَانٌ وَغَيْرُ صِنْوَانٍ يُسْقَى بِمَاءٍ وَاحِدٍ﴾ ”اور انگوروں کے باغات ہیں اور کھیتی ہے اور کھجور کے درخت ہیں، کچھ ایک ہی جڑ سے نکلے ہوئے اور کچھ الگ الگ جڑوں والے، وہ سب ایک ہی پانی سے سیراب کیے جاتے ہیں۔“ [سورة الرعد: 4]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حدثنا هلال بن العلاء الرِّقِّي، حدثنا أَبي، حدثنا عُبيد الله بن عمرو الرِّقِّي، عن زيد بن أبي أُنيسة، عن الأعمش، عن أبي صالح عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ: ﴿وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ فِي الْأُكُلِ﴾ [الرعد: 4]؛ بالنون (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2950 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2950 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے (لفظ «نفضل» کو) «نون» کے ساتھ یوں تلاوت فرمایا: ﴿وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ فِي الْأُكُلِ﴾ ”اور ہم بعض کو بعض پر کھانے (ذائقے) میں فضیلت دیتے ہیں۔“ [سورة الرعد: 4]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الأصبهاني، حدثنا محمد بن إسماعيل السُّلَمي، حدثنا أبو صالح عبد الله بن صالح، حدثنا الليث بن سعد، عن زِيادةَ بن محمد، عن محمد بن كعب الأنصاري، عن فَضَالة بن عُبيد الأنصاري، عن أبي الدرداء: أنَّ رسول الله ﷺ قال: ﴿يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ﴾ [الرعد: 39]؛ مخفّفة (1).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2951 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2951 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا فضالہ بن عبید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (لفظ «يثبت» کو) تخفیف کے ساتھ یوں تلاوت فرمایا: ﴿يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ﴾ ”اللہ جو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور (جسے چاہتا ہے) برقرار رکھتا ہے۔“ [سورة الرعد: 39]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا إسماعيل بن محمد بن إسماعيل الفقيه بالرَّيِّ، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شعبة، عن يعلى بن عطاء، قال: سمعتُه (2) يقول: سمعت القاسمَ بن رَبِيعة يقول: سمعتُ سعدًا يقرأ: (ما نَنسَخ من آيةٍ أو تَنسَها (3) ([البقرة: 106]، قال: فقلت: إنَّ سعيدًا يقرؤُها: ﴿أَوْ نُنْسِهَا﴾، قال: فقال: إنَّ القرآنَ لم يُنزَّلُ على المسيّب ولا على ابنه؛ قال: وحِفْظي أنه قرأ: ﴿سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسَى﴾ [الأعلى: 6]، ﴿وَاذْكُرْ رَبَّكَ إِذَا نَسِيتَ﴾ [الكهف: 24] (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2952 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2952 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
قاسم بن ربیعہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو (لفظ «تنسها» کو سین کے ساتھ) ﴿مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ تَنْسَهَا﴾ پڑھتے ہوئے سنا، میں نے عرض کیا کہ سعید (بن مسیب) تو اسے ﴿أَوْ نُنْسِهَا﴾ پڑھتے ہیں، اس پر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بیشک قرآن نہ تو مسیب پر نازل ہوا ہے اور نہ ہی ان کے بیٹے پر، اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے یاد ہے کہ آپ ﷺ نے یوں تلاوت فرمایا: ﴿سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسَى﴾ ”عنقریب ہم آپ کو پڑھائیں گے پھر آپ نہیں بھولیں گے۔“ [سورة الأعلى: 6] اور ﴿وَاذْكُرْ رَبَّكَ إِذَا نَسِيتَ﴾ ”اور اپنے رب کو یاد کیجیے جب آپ بھول جائیں۔“ [سورة الكهف: 24]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أبو أحمد بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرْو، حدثنا عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، حدثنا بكَّار بن محمد بن عبد الله، حدثنا محمد بن عبد العزيز، حدثنا أبو الزِّناد، عن خارجة بن زيد بن ثابت، عن زيد بن ثابت، أنَّ النبي ﷺ قال: "أُنزِلَ القرآنُ بالتفخيم" كهيئةِ: (عُذْرًا أَوْ نُذُرًا) [المرسلات: 6]، و (الصُّدُفَينِ) [الكهف: 96]، ﴿أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْر﴾ [الأعراف: 54] وأشباهِها (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، لم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، لم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”قرآن کریم تفخیم (یعنی پر اور بھاری آواز) کے ساتھ نازل کیا گیا ہے“ جیسا کہ (سورہ مرسلات کی آیت) ”عُذْرًا أَوْ نُذُرًا“ [سورة المرسلات: 6] اور (سورہ کہف کی آیت) ﴿الصَّدَفَيْنِ﴾ [سورة الكهف: 96] اور (سورہ اعراف کی آیت) ﴿أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ﴾ ”خبردار! اسی کے لیے پیدا کرنا اور حکم دینا ہے۔“ [سورة الأعراف: 54] اور اس جیسی دیگر آیات ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا الشيخ أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه، أخبرنا علي بن الحسين ابن الجُنَيد، حدثنا أبو الشَّعثاء، حدثنا خالد بن نافع الأشعَري، عن سعيد ابن أبي بُرْدة، عن أبيه، عن أبي موسى، عن النبي ﷺ قال: "إذا اجتَمعَ أهلُ النار في النار ومعهم من أهل القِبْلة مَن شاء الله، قالوا: ما أَغنَى عنكم إسلامُكم، وقد صِرتُم معنا في النار! قالوا: كانت لنا ذنوبٌ فأُخِذنا بها، فسمع الله ما قالوا، قال: فأَمَرَ بمن كان في النار من أهل القِبْلة فأُخرِجوا، قال: فقال: الكفار يا ليتَنا كنا مسلمين فنُخرَجَ كما أُخرجوا"، قال: وقرأ رسول الله ﷺ: ﴿الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ وَقُرْآنٍ مُبِينٍ (1) رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ﴾ [الحجر: 1 - 2]؛ مثقلة (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2954 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2954 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب دوزخی جہنم میں جمع ہوں گے اور ان کے ساتھ اہل قبلہ (مسلمان) میں سے بھی وہ لوگ ہوں گے جنہیں اللہ چاہے گا، تو کفار (مسلمانوں سے) کہیں گے: تمہارے اسلام لانے کا تمہیں کیا فائدہ ہوا جبکہ اب تم بھی ہمارے ساتھ جہنم میں ہو! وہ جواب دیں گے: ہمارے کچھ گناہ تھے جن کی وجہ سے ہماری پکڑ ہوئی، اللہ تعالیٰ ان کی یہ گفتگو سن لے گا، چنانچہ وہ حکم فرمائے گا کہ جہنم میں موجود اہل قبلہ کو نکال لیا جائے، یہ دیکھ کر کفار کہیں گے: کاش! ہم بھی مسلمان ہوتے تو ہم بھی اسی طرح (جہنم سے) نکال لیے جاتے،“ اور رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ وَقُرْآنٍ مُبِينٍ رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ﴾ ”الر، یہ کتاب اور واضح قرآن کی آیات ہیں، کسی وقت کافر یہ آرزو کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے۔“ [سورة الحجر: 1 - 2] یہاں آپ ﷺ نے لفظ («ربما») کو «ميم» کی تشدید کے ساتھ پڑھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو العبَّاس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن السُّدِّي، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ في قوله: ﴿يَوْمَ نَدْعُو كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ﴾ [الإسراء: 71] قال: "يُدعَى أحدُهم فيُعطَى كتابَه بيمينه، ويُمَدُّ له في جسمه ستون ذراعًا، قال: ويُبيَّضُ وجهُه، ويُجعَلُ على رأسه تاجٌ من لؤلؤ يَتلَالأُ، قال: فيَنطلِقُ إلى أصحابه، فيَرَونَه من بعيد، فيقولون: اللهمَّ ائتِنا به وبارِكْ لنا في هذا، حتى يأتيَهم فيقول: أَبشِروا، إِنَّ لكلِّ رجلٍ منكم مثلَ هذا، وأمَّا الكافرُ فيُسوَّدُ وجهُه ويُمَدُّ له في جسمه ستون ذراعًا؛ على صورة آدم، فيراه أصحابُه فيقولون: نعوذُ بالله من شرِّ هذا، اللهمَّ لا تأتِنا به، قال: فيأتيهم فيقولون: اللهمَّ أخِّرُه، قال: فيقول: أَبعَدَكم اللهُ، فإنَّ لكلِّ رجلٍ منكم مثلَ هذا" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2955 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2955 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿يَوْمَ نَدْعُو كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ﴾ ”جس دن ہم ہر جماعت کو ان کے پیشوا کے ساتھ بلائیں گے“ [سورة الإسراء: 71] کے بارے میں فرمایا: ”ان میں سے کسی ایک کو بلایا جائے گا تو اس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، اس کا جسم ساٹھ ہاتھ لمبا کر دیا جائے گا، اس کا چہرہ روشن کر دیا جائے گا اور اس کے سر پر موتیوں کا چمکتا ہوا تاج رکھا جائے گا، وہ اپنے ساتھیوں کی طرف جائے گا تو وہ اسے دور سے دیکھ کر کہیں گے: اے اللہ! اسے ہمارے پاس لے آ اور ہمارے لیے اس میں برکت عطا فرما، یہاں تک کہ وہ ان کے پاس آ کر کہے گا: تمہیں خوشخبری ہو، تم میں سے ہر شخص کے لیے اسی طرح کا انعام ہے، رہا کافر تو اس کا چہرہ سیاہ کر دیا جائے گا، اس کا جسم سیدنا آدم علیہ السلام کی صورت پر ساٹھ ہاتھ لمبا کر دیا جائے گا، اس کے ساتھی اسے دیکھ کر کہیں گے: ہم اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، اے اللہ! اسے ہمارے پاس نہ لانا، جب وہ ان کے پاس آئے گا تو وہ کہیں گے: اے اللہ! اسے ہم سے دور رکھ، تو وہ کہے گا: اللہ تمہیں دور کرے، تم میں سے ہر ایک کے لیے ایسا ہی انجام ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔