حدیث نمبر: 2962
أخبرنا أبو محمد عبد الله بن محمد بن إسحاق الخُزَاعي بمكة، حدثنا أبو يحيى بن أبي مَسَرَّة، حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدثنا حَرمَلة بن عِمران، حدثني أبو يونس، سمعت أبا هريرة يقرأ هذه الآية: ﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ إِنَّ اللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا﴾ [النساء: 58] (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2925 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

ابو یونس سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا: ﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ إِنَّ اللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا﴾ [سورة النساء: 58] ”بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حقداروں کو ادا کرو، اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو، اللہ تمہیں جس بات کی نصیحت کرتا ہے وہ بہت ہی خوب ہے، بیشک اللہ سب کچھ سننے والا اور دیکھنے والا ہے“۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 2962
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وانظر ما سلف برقم (63).» [ترقيم الرساله 2962] [ترقيم الشركة 2943] [ترقيم العلميه 2925]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. وانظر ما سلف برقم (63).
درجۂ اسناد: اس کی سند "صحیح" ہے۔ سابقہ نمبر (63) ملاحظہ کریں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2962 سے ماخوذ ہے۔