المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
شَأْنُ نُزُولِ آيَةِ ( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا ) الْآيَةَ باب: آیت «اے ایمان والو! جب تم اللہ کی راہ میں سفر کرو تو تحقیق کر لیا کرو» کے نزول کا سبب
حدیث نمبر: 2965
حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى الشهيد، حدثنا أبو علي محمد بن معاوية النَّيسابوري بمكة، حدثنا ابن المبارَك، عن يونس بن يزيد، عن أبي علي بن يزيد أخي يونس بن يزيد، عن الزُّهْري، عن أنس: أنَّ النبي ﷺ قرأَ: (أنَّ النفسَ بالنفسِ والعينُ بالعينِ والأَنفُ بالأنفِ والأُذُنُ بالأُذنِ والسِّنُّ بالسِّنِّ والجُروحُ قِصَاصٌ). محمد بن معاوية ليس من شرط هذا الكتاب (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس طرح تلاوت فرمائی: «أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنُ بِالْعَيْنِ وَالْأَنْفُ بِالْأَنْفِ وَالْأُذُنُ بِالْأُذُنِ والسِّنُّ بالسِّنِّ والجُرُوحُ قِصَاصٌ» ”بیشک جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت اور زخموں میں بدلہ ہے“۔
محمد بن معاویہ اس کتاب کی شرط پر نہیں ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) وهو متروك، وأطلق عليه يحيى بن مَعِين الكذب.
جرح: وہ (راوی) "متروک" ہے، اور یحییٰ بن معین نے اس پر جھوٹ کا اطلاق کیا ہے۔
جرح: وہ (راوی) "متروک" ہے، اور یحییٰ بن معین نے اس پر جھوٹ کا اطلاق کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2965 سے ماخوذ ہے۔