حدیث نمبر: 2971
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أَبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شُعْبة، عن عمرو بن أبي حَكِيم، عن عبد الله بن بُرَيدة قال: كان عند ابن زيادٍ أبو الأسود الدِّيلِي وجُبَير بن حيَّة الثَّقفي، قال: فذَكَرُوا هذا الحرف ﴿لَقَدْ تَقَطَّعَ بَيْنَكُمْ﴾ [الأنعام: 94] حتى وَضَعَوا الأخطارَ، فقال أسلمُ بن زُرْعة: سمعت أبا موسى يقرأ: ﴿لَقَدْ تَقَطَّعَ بَيْنَكُمْ﴾، فقال أحدهما: بيني وبينك أولُ من يَدخُل علينا، فدخل علينا يحيى بن يَعمَر فسألوه، فقال يحيى: (لقد تَقطَّعَ بَيْنُكم) رفعًا، فقال يحيى: إنَّ أبا موسى ليس من أهل الغور (2) ولا أتَّهِمُه (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2934 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

عبداللہ بن بریدہ سے روایت ہے کہ عبید اللہ بن زیاد کے پاس ابو الاسود الدیلی اور جبیر بن حیّہ ثقفی موجود تھے، انہوں نے قرآن کے اس لفظ ﴿لَقَدْ تَقَطَّعَ بَيْنَكُمْ﴾ [سورة الأنعام: 94] کا ذکر کیا یہاں تک کہ انہوں نے (صحیح اعراب پر) شرطیں لگا لیں، اسلم بن زرعہ نے کہا: میں نے ابو موسیٰ اشعری کو ”«لَقَدْ تَقَطَّعَ بَيْنَكُمْ»“ (نصب کے ساتھ) پڑھتے سنا ہے، تب ان میں سے ایک نے کہا: میرے اور تمہارے درمیان وہ شخص فیصلہ کرے گا جو سب سے پہلے ہمارے پاس آئے گا، اتنے میں یحییٰ بن یعمر تشریف لائے تو ان سے اس بارے میں پوچھا گیا، یحییٰ نے کہا: یہ لفظ ”«لَقَدْ تَقَطَّعَ بَيْنُكُمْ»“ رفع (پیش) کے ساتھ ہے، پھر یحییٰ نے کہا: بیشک ابو موسیٰ نشیبی علاقے کے رہنے والے نہیں ہیں (اس لیے ان کے لہجے میں فرق ہو سکتا ہے) اور میں ان پر (غلط بیانی کا) الزام بھی نہیں لگاتا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 2971
درجۂ حدیث محدثین: إسناده قوي.
تخریج حدیث «إسناده قوي.» [ترقيم الرساله 2971] [ترقيم الشركة 2952] [ترقيم العلميه 2934]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) في المطبوع: الغرر، براءين. والمثبت من النسخ الخطية، ولعله أراد أنه ليس من أهل التعمُّق في معرفة القراءات ومعانيها، والله تعالى أعلم.
تصحیحِ متن: مطبوعہ میں "الغرر" (دو راء کے ساتھ) ہے، قلمی نسخوں سے درست لفظ ثابت کیا گیا ہے۔ شاید مراد یہ ہے کہ وہ قراءات اور معانی کی معرفت میں گہرائی رکھنے والوں میں سے نہیں تھے۔ واللہ اعلم۔
(3) إسناده قوي.

والأخطار: جمع الخَطَر، وهو السَّبق يتراهن عليه.

درجۂ اسناد: اس کی سند "قوی" ہے۔
لغوی معنی: "الاخطار" یہ "خطر" کی جمع ہے، یہ وہ انعام/شرط ہے جس پر مقابلہ (رہن) کیا جاتا ہے۔
وقرأ (بينُكم) رفعًا على أنه فاعلٌ ابنُ كثير وأبو عمرو وابن عامر وحمزة وعاصم في رواية أبي بكر عنه، وقرأها (بينَكم) نصبًا على أنه ظرفٌ نافعٌ والكسائي وحفص عن عاصم. انظر "السبعة" لابن مجاهد ص 263.
قراءات: (بينُكم) کو رفع (پیش) کے ساتھ (فاعل ہونے کی بنا پر) ابن کثیر، ابوعمرو، ابن عامر، حمزہ اور عاصم (روایت ابی بکر) نے پڑھا ہے۔ اور (بينَكم) کو نصب (زبر) کے ساتھ (ظرف ہونے کی بنا پر) نافع، کسائی اور حفص عن عاصم نے پڑھا ہے۔ (السبعۃ ص 263)۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2971 سے ماخوذ ہے۔