المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
شَأْنُ نُزُولِ آيَةِ ( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا ) الْآيَةَ باب: آیت «اے ایمان والو! جب تم اللہ کی راہ میں سفر کرو تو تحقیق کر لیا کرو» کے نزول کا سبب
حدیث نمبر: 2982
أخبرني أبو الحسين بن يعقوب الحافظ، حدثنا العبَّاس بن الفضل المقرئ، حدثنا إبراهيم بن مِهْران الأَيْلي، حدثنا علي بن الحسن (2) بن عبد الرحمن الدمشقي، حدثنا مُسلم بن خالد الزَّنْجي، عن عبد الله بن طاووس، عن أبيه، عن ابن عبَّاس يرفعُه: أنَّ النبي ﷺ قرأ: (لقد جاءَكم رسولٌ مِن أَنفَسِكُمْ) [التوبة: 128]؛ يعني: من أعظمِكم قدْرًا (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2945 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے (لفظ «انفسكم» کو «فاء» کے زبر کے ساتھ) یوں تلاوت فرمایا: ﴿لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنْفَسِكُمْ﴾ [سورة التوبة: 128] جس کا مفہوم یہ ہے کہ: ”بیشک تمہارے پاس تم ہی میں سے وہ رسول آئے ہیں جو تم میں سب سے زیادہ قدر و منزلت اور عظمت والے ہیں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) هكذا في (ز) و (ص) و (ع)، وفي (ب) و "إتحاف المهرة" (7845): علي بن الحسين ولم نقف على ترجمته.
تحقیقِ راوی: نسخہ (ز، ص، ع) میں اسی طرح ہے، جبکہ (ب) اور "اتحاف المہرہ" (7845) میں "علی بن الحسین" ہے۔ ان کا ترجمہ ہمیں نہیں ملا۔
(1) إسناده ضعيف، إبراهيم بن مهران وشيخه لم نقف لهما على ترجمه، ومسلم بن خالد الزنجي هو إلى الضعف أقرب.
درجۂ اسناد: یہ سند "ضعیف" ہے۔ ابراہیم بن مہران اور ان کے شیخ کا ترجمہ نہیں ملا۔ اور مسلم بن خالد الزنجی ضعف کے زیادہ قریب ہیں۔
وقراءة (من أنفَسِكم) بفتح الفاء شاذَّة، ذكرها ابن جِنِّي وابن خالويه في القراءات الشاذَّة، وقراءة الجماعة (من أنفُسِكم) بضم الفاء.
قراءت (شاذ): (من أنفَسِكم) فاء کے فتحہ (زبر) کے ساتھ "شاذ" قراءت ہے (ابن جنی، ابن خالویہ)۔ جماعت کی قراءت (من أنفُسِكم) فاء کے ضمہ (پیش) کے ساتھ ہے۔
تحقیقِ راوی: نسخہ (ز، ص، ع) میں اسی طرح ہے، جبکہ (ب) اور "اتحاف المہرہ" (7845) میں "علی بن الحسین" ہے۔ ان کا ترجمہ ہمیں نہیں ملا۔
(1) إسناده ضعيف، إبراهيم بن مهران وشيخه لم نقف لهما على ترجمه، ومسلم بن خالد الزنجي هو إلى الضعف أقرب.
درجۂ اسناد: یہ سند "ضعیف" ہے۔ ابراہیم بن مہران اور ان کے شیخ کا ترجمہ نہیں ملا۔ اور مسلم بن خالد الزنجی ضعف کے زیادہ قریب ہیں۔
وقراءة (من أنفَسِكم) بفتح الفاء شاذَّة، ذكرها ابن جِنِّي وابن خالويه في القراءات الشاذَّة، وقراءة الجماعة (من أنفُسِكم) بضم الفاء.
قراءت (شاذ): (من أنفَسِكم) فاء کے فتحہ (زبر) کے ساتھ "شاذ" قراءت ہے (ابن جنی، ابن خالویہ)۔ جماعت کی قراءت (من أنفُسِكم) فاء کے ضمہ (پیش) کے ساتھ ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2982 سے ماخوذ ہے۔