المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
شَأْنُ نُزُولِ آيَةِ ( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا ) الْآيَةَ باب: آیت «اے ایمان والو! جب تم اللہ کی راہ میں سفر کرو تو تحقیق کر لیا کرو» کے نزول کا سبب
حدیث نمبر: 2977
أخبرنا أحمد عثمان بن بن يحيى المقرئ ببغداد، حدثنا سعيد بن عثمان الأهوازي، حدثنا رَوْح بن عبد المؤمن، حدثني عُبيد بن عَقِيل، حدثني حمّاد بن سَلَمة، عن ثابت، عن أنس: أنَّ النبي ﷺ قرأ: ﴿دَكًّا﴾ [الأعراف: 143]، منوَّنة، ولم يمدَّه (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2940 - على شرط مسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے لفظ ﴿دَكًّا﴾ [سورة الأعراف: 143] کو تنوین کے ساتھ اور بغیر مد کے پڑھا ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن.
درجۂ اسناد: اس کی سند "حسن" ہے۔
وهذا الخبر قطعة من حديث سيأتي عند المصنف برقم (3288) و (4147 - 4149) من طرق عن حماد بن سلمة عن ثابت عن أنس، إلّا أنه ليس فيه الإشارة إلى القراءة.
حوالہ: یہ خبر اس حدیث کا حصہ ہے جو مصنف کے ہاں آگے نمبر (3288) اور (4147-4149) پر حماد بن سلمہ عن ثابت عن انس کے طریق سے آئے گی، لیکن اس میں قراءت کا اشارہ نہیں ہے۔
وقرأ (دَكَّاءَ) ممدودة - غير منوَّنة حمزةُ والكسائي من السبعة، وقرأ الباقون (دَكًّا) مقصورة منوَّنة. انظر "السبعة" ص 293.
قراءات: (دَكَّاءَ) مد کے ساتھ اور بغیر تنوین کے حمزہ اور کسائی (قراء سبعہ) نے پڑھا ہے۔ باقیوں نے (دَكًّا) مقصورہ اور تنوین کے ساتھ پڑھا ہے۔ (السبعۃ ص 293)۔
درجۂ اسناد: اس کی سند "حسن" ہے۔
وهذا الخبر قطعة من حديث سيأتي عند المصنف برقم (3288) و (4147 - 4149) من طرق عن حماد بن سلمة عن ثابت عن أنس، إلّا أنه ليس فيه الإشارة إلى القراءة.
حوالہ: یہ خبر اس حدیث کا حصہ ہے جو مصنف کے ہاں آگے نمبر (3288) اور (4147-4149) پر حماد بن سلمہ عن ثابت عن انس کے طریق سے آئے گی، لیکن اس میں قراءت کا اشارہ نہیں ہے۔
وقرأ (دَكَّاءَ) ممدودة - غير منوَّنة حمزةُ والكسائي من السبعة، وقرأ الباقون (دَكًّا) مقصورة منوَّنة. انظر "السبعة" ص 293.
قراءات: (دَكَّاءَ) مد کے ساتھ اور بغیر تنوین کے حمزہ اور کسائی (قراء سبعہ) نے پڑھا ہے۔ باقیوں نے (دَكًّا) مقصورہ اور تنوین کے ساتھ پڑھا ہے۔ (السبعۃ ص 293)۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2977 سے ماخوذ ہے۔