المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
شَأْنُ نُزُولِ آيَةِ ( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا ) الْآيَةَ باب: آیت «اے ایمان والو! جب تم اللہ کی راہ میں سفر کرو تو تحقیق کر لیا کرو» کے نزول کا سبب
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِي بن خُزَيمة، حدثنا أحمد بن عبد الله بن يونس، حدثنا أبو بكر بن عيَّاش، عن عاصم، عن زِرٍّ، عن عبد الله قال: خَطَّ رسولُ الله ﷺ خَطًّا، وخطَّ عن يمينِ ذلك الخطِّ وعن شمالِه خطًّا، ثم قال: "هذا صِراطُ الله مستقيمًا، وهذه السُّبُلُ على كلِّ سبيلٍ منها شيطانٌ يَدعُو إليه" ثم قرأ: ﴿وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ﴾ [الأنعام: 153] (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2938 - صحيحسیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک (سیدھا) خط کھینچا، پھر اس خط کے دائیں اور بائیں جانب کچھ (ترچھے) خطوط کھینچے، پھر فرمایا: ”یہ اللہ کا سیدھا راستہ ہے اور یہ (متفرق) راستے ہیں جن میں سے ہر راستے پر ایک شیطان ہے جو اس کی طرف بلاتا ہے“، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ﴾ [سورة الأنعام: 153] ”اور یہ کہ بیشک یہی میرا سیدھا راستہ ہے تو اسی کی پیروی کرو، اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ تمہیں اللہ کی راہ سے جدا کر دیں گے“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ اسناد: عاصم (ابن ابی النجود) کی وجہ سے اس کی سند "حسن" ہے۔ زر سے مراد "ابن حبیش" ہیں۔
وأخرجه النسائي (11110) عن الفضل بن العبَّاس بن إبراهيم، عن أحمد بن يونس، بهذا الإسناد.
حوالہ / تخریج: اسے نسائی (11110) نے فضل بن عباس بن ابراہیم عن احمد بن یونس کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
ولعاصم فيه شيخ آخر، وهو أبو وائل شقيق بن سلمة، سيأتي عند المصنف برقم (3280).
حوالہ: اس میں عاصم کے ایک اور شیخ "ابووائل شقیق بن سلمہ" بھی ہیں، جو مصنف کے ہاں آگے نمبر (3280) پر آئیں گے۔