المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
شَأْنُ نُزُولِ آيَةِ ( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا ) الْآيَةَ باب: آیت «اے ایمان والو! جب تم اللہ کی راہ میں سفر کرو تو تحقیق کر لیا کرو» کے نزول کا سبب
حدیث نمبر: 2969
حدثني أبو أحمد بكر بن محمد بن حَمْدان الصَّيرَفي بمَرْو، حدثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل السُّلَمي، حدثنا إسحاق بن محمد الفَرْوي، حدثنا سليمان بن بلال، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن عُبيد الله بن أبي رافع، عن علي بن أبي طالب: أنَّ النبي ﷺ قرأَ: ﴿مِنَ الَّذِينَ اسْتَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْأَوْلَيَانِ﴾ [المائدة: 107] (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2932 - على شرط مسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے آیت کو اس طرح پڑھا: ﴿مِنَ الَّذِينَ اسْتَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْأَوْلَيَانِ﴾ [سورة المائدة: 107] ”ان لوگوں میں سے جن کا حق مارا گیا تھا، دو زیادہ قریبی وارث“۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف لسوء حفظ إسحاق بن محمد الفروي. وقد روي بإسناد أحسن من هذا عن كريب بن أبي كريب عن علي موقوفًا عليه، أخرجه ابن الأعرابي في "معجمه" (1289).
وهذه القراءة (استَحقَّ) بفتح التاء على البناء للفاعل هي قراءة حفص عن عاصم من السبعة، قال الطبري 7/ 118: ورويت عن علي وأُبي بن كعب والحسن البصري، وقرأ قَرَأَهُ الحجاز والعراق والشام (استُحِقَّ) بضم التاء. ثم رجَّح هذه القراءة التي هي بضم التاء على فتحها.
درجۂ اسناد و قراءت: اسحاق بن محمد الفروی کے حافظے کی خرابی کی وجہ سے سند "ضعیف" ہے۔ اس سے بہتر سند کے ساتھ ابن الاعرابی (1289) نے کریب عن علی سے "موقوفاً" روایت کیا ہے۔ (استَحقَّ) تاء کے فتحہ (زبر) کے ساتھ معروف پڑھنا، یہ حفص عن عاصم کی قراءت ہے۔ طبری (7/ 118) کہتے ہیں: یہ علی، ابی اور حسن بصری سے مروی ہے۔ جبکہ حجاز، عراق اور شام والوں نے (استُحِقَّ) تاء کے پیش (مجہول) کے ساتھ پڑھا ہے، اور طبری نے اسی کو راجح قرار دیا۔
وهذه القراءة (استَحقَّ) بفتح التاء على البناء للفاعل هي قراءة حفص عن عاصم من السبعة، قال الطبري 7/ 118: ورويت عن علي وأُبي بن كعب والحسن البصري، وقرأ قَرَأَهُ الحجاز والعراق والشام (استُحِقَّ) بضم التاء. ثم رجَّح هذه القراءة التي هي بضم التاء على فتحها.
درجۂ اسناد و قراءت: اسحاق بن محمد الفروی کے حافظے کی خرابی کی وجہ سے سند "ضعیف" ہے۔ اس سے بہتر سند کے ساتھ ابن الاعرابی (1289) نے کریب عن علی سے "موقوفاً" روایت کیا ہے۔ (استَحقَّ) تاء کے فتحہ (زبر) کے ساتھ معروف پڑھنا، یہ حفص عن عاصم کی قراءت ہے۔ طبری (7/ 118) کہتے ہیں: یہ علی، ابی اور حسن بصری سے مروی ہے۔ جبکہ حجاز، عراق اور شام والوں نے (استُحِقَّ) تاء کے پیش (مجہول) کے ساتھ پڑھا ہے، اور طبری نے اسی کو راجح قرار دیا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2969 سے ماخوذ ہے۔