حدیث نمبر: 2973
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا إسماعيل بن أبي أُوَيس، حدثني أخي أبو بكر، عن ابن أبي ذِئْب، عن سعيد المَقْبُري، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال: "يَلقَى إبراهيمُ أباه آزَرَ يومَ القيامة، وعلى وجه آزرَ قَتَرةٌ وغَبَرةٌ، فيقول له إبراهيم: ألم أقل لك: لا تَعصِني؟ فيقول أبوه: فاليومَ لا أَعصِيكَ، فيقول إبراهيم: يا ربِّ، إنك وعدتَني أن لا تُخزِيَني يومَ يُبعَثون، فأيُّ خِزْيٍ أَخزى من أَبي الأبعدِ، فيقول الله: إنِّي حرَّمتُ الجنةَ على الكافرين، ثم يقال: يا إبراهيمُ، ما تحتَ رِجلَيكَ؟ فيَنظُرُ فإذا هو بذِيخٍ مُتلطِّخٍ، فيُؤخَذُ بقوائمِه فيُلقَى في النار" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2936 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن ابراہیم علیہ السلام اپنے والد آزر سے ملیں گے جبکہ آزر کے چہرے پر سیاہی اور غبار ہوگا، ابراہیم علیہ السلام اس سے فرمائیں گے: کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میری نافرمانی نہ کرنا؟ تب اس کا باپ کہے گا: آج میں تمہاری نافرمانی نہیں کروں گا، اس پر ابراہیم علیہ السلام عرض کریں گے: اے میرے رب! تو نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا کہ تو مجھے اس دن رسوا نہیں کرے گا جس دن لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے، تو میرے اس (رحمت سے) دور رہنے والے باپ کی رسوائی سے بڑھ کر اور کیا رسوائی ہوگی؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: بیشک میں نے جنت کافروں پر حرام کر دی ہے، پھر کہا جائے گا: اے ابراہیم! ذرا اپنے قدموں کے نیچے تو دیکھو، وہ دیکھیں گے تو وہاں ایک کیچڑ میں لتھڑا ہوا بجو (مردار خور جانور) ہوگا، جسے پاؤں سے پکڑ کر آگ میں ڈال دیا جائے گا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا!

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 2973
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل إسماعيل بن أبي أُويس، وقد توبع، وباقي رجاله ثقات.» [ترقيم الرساله 2973] [ترقيم الشركة 2954] [ترقيم العلميه 2936]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل إسماعيل بن أبي أُويس، وقد توبع، وباقي رجاله ثقات.
درجۂ حدیث و اسناد: حدیث "صحیح" ہے، اور یہ سند اسماعیل بن ابی اویس کی وجہ سے "حسن" ہے (ان کی متابعت کی گئی ہے)، باقی رجال ثقہ ہیں۔
وأخرجه البخاري (3350) و (4769) عن إسماعيل بن أبي أُويس، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
حوالہ / تخریج: اسے بخاری (3350، 4769) نے اسماعیل بن ابی اویس سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
تنبیہ: لہٰذا حاکم کا اسے "استدراک" کرنا ان کا "ذہول" (بھول) ہے۔
وأخرجه بنحوه النسائي (11311) من طريق إبراهيم بن طهمان، عن محمد بن عبد الرحمن - وهو ابن أبي ذئب - عن سعيد بن أبي سعيد المقبري، عن أبيه أبي سعيد، عن أبي هريرة. وعلَّقه البخاري من طريق إبراهيم بن طهمان برقم (4768). وذكرُ أبي سعيد المقبري فيه من المَزِيد في متصل الأسانيد.
حوالہ / تخریج: اسے نسائی (11311) نے ابراہیم بن طہمان عن محمد بن عبدالرحمن (ابن ابی ذئب) عن سعید بن ابی سعید المقبری عن ابیہ عن ابی ہریرہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔ بخاری نے اسے (4768) میں ابراہیم بن طہمان کے طریق سے معلقاً ذکر کیا ہے۔
فنی نکتہ: اس میں "ابوسعید المقبری" کا ذکر "المزید فی متصل الاسانید" کے قبیل سے ہے۔
والذِّيخ: ذَكَرُ الضِّباع، وقيل: لا يقال له: ذيخ، إلّا إذا كان كثير الشَّعر.
لغوی معنی: "الذیخ": نر بچھو (بجو) کو کہتے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ اسے ذیخ تب کہا جاتا ہے جب وہ بہت زیادہ بالوں والا ہو۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2973 سے ماخوذ ہے۔