❮
❯
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَجْلِسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ لَيْلَةَ الْخَمِيسِ فِي رَمَضَانَ ، وَلَمْ يَصُمْ رَمَضَانَ بَعْدَهُ ، يَقُولُ : الشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ ، قَفِيزًا بِقَفِيزٍ ، يَدًا بِيَدٍ ، وَمَا زَادَ فَهُوَ رِبًا . الْحَدِيثَ .
أَصْلُهُ فِي صَحِيحِ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ ، وَبِدُونِ هَذِهِ الزِّيَادَةِ .
ترجمہ
احمد بن منیع رحمہ اللہ نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا کہ ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو رمضان المبارک میں جمعرات کی ایک رات انصار کی ایک مجلس میں یہ فرماتے ہوئے سنا، اور اس رمضان کے بعد آپ ﷺ نے زندگی میں پھر کوئی رمضان نہیں پایا (یعنی وہ آپ ﷺ کا آخری رمضان تھا)، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”جو کا تبادلہ جو کے ساتھ، برابر پیمانے (قفیز) کے عوض اور دست بدست ہونا چاہیے، اور جو اس پر اضافہ ہو وہ سود ہے““، مکمل حدیث؛ اس روایت کی اصل صحیح مسلم میں اس سیاق کے علاوہ اور ان زائد الفاظ کے بغیر موجود ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البيوع / حدیث: 1364
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: أَصْلُهُ فِي صَحِيحِ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ ، وَبِدُونِ هَذِهِ الزِّيَادَةِ . »
«أخرجه صحيح مسلم برقم: 1587، وأخرجه المنتقى لابن الجارود برقم: 707، وأخرجه صحيح ابن حبان برقم: 5015، وأخرجه سنن النسائي برقم: 4574 / 1، وأخرجه السنن الكبرى للنسائي برقم: 6107، وأخرجه سنن أبي داود برقم: 3349، وأخرجه جامع الترمذي برقم: 1240، وأخرجه مسند الدارمي برقم: 2621، وأخرجه سنن ابن ماجه برقم: 18، وأخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 10587، وأخرجه سنن الدارقطني برقم: 2854، وأخرجه مسند أحمد برقم: 23123، وأخرجه مسند الطيالسي برقم: 582، وأخرجه مسند الحميدي برقم: 394، وأخرجه مسند البزار برقم: 2733، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 14194، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 20987، وأخرجه شرح معاني الآثار للطحاوي برقم: 5481، وأخرجه شرح مشكل الآثار للطحاوي برقم: 6105، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 2655»
أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، ثَنَا سُكَيْنٌ - هُوَ ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ - عَنْ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ ، مِثْلًا بِمِثْلٍ ، كَيْلًا بِكَيْلٍ . مَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى .
ترجمہ
امام ابو یعلیٰ نے ابراہیم بن حجاج، سکین بن عبد العزیز اور عبد المومن کے واسطے سے روایت کیا ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے، گندم گندم کے بدلے، جو جو کے بدلے، نمک نمک کے بدلے اور کھجور کھجور کے بدلے برابر برابر اور ناپ میں ایک جیسا (تبادلہ) ہونا چاہیے، لہٰذا جس نے (مقدار میں) اضافہ کیا یا اضافے کا مطالبہ کیا، تو یقیناً اس نے سود کا ارتکاب کیا۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البيوع / حدیث: 1365
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح. »
«أخرجه مسند أحمد برقم: 11734، وأخرجه مسند أبي يعلى برقم: 1016، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 22943، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 14099»
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - عَنِ الْحِنْطَةِ بِالتَّمْرِ بِفَضْلٍ ، يَدًا بِيَدٍ ؟ فَقَالَ : قَدْ كُنَّا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَشْتَرِي الصَّاعَ الْحِنْطَةَ بِسِتَّةِ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ ، يَدًا بِيَدٍ ، فَإِنْ كَانَ نَوْعًا وَاحِدًا فَلَا خَيْرَ فِيهِ ، إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ .
ترجمہ
ابو زبیر المکی سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے گندم کو کھجوروں کے عوض کمی بیشی کے ساتھ نقد سودے کی صورت میں خریدنے کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: ”ہم رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں ایک صاع گندم چھ صاع کھجوروں کے بدلے ہاتھوں ہاتھ خریدا کرتے تھے، البتہ اگر جنس ایک ہی ہو تو پھر برابری کے بغیر اس میں کوئی بھلائی نہیں ہے، سوائے اس کے کہ وہ باہم برابر برابر ہوں۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البيوع / حدیث: 1366
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه مسند أبي يعلى برقم: 2207»
مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا حَفْصٌ - هُوَ ابْنُ غِيَاثٍ - عَنْ أَبِي الْعَوَّامِ الْبَصْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - يَبِيعُ مِنْ غِلْمَانِهِ النَّخْلَ ، السَّنَةَ وَالسَّنَتَيْنِ وَالثَّلَاثَ ، فَقَالَ لَهُ جَابِرٌ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فِي ذَلِكَ ، فَقَالَ : مَا عَلِمْتَ أَنْ لَيْسَ بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ سَيِّدِهِ رِبًا .
ترجمہ
مسدد، حفص بن غیاث اور ابوالعوام بصری نے عطاء سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ”سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اپنے غلاموں کے ہاتھ کھجور کے درخت ایک سال، دو سال اور تین سال کی مدت کے لیے فروخت کیا کرتے تھے، تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے اس معاملے میں ان سے گفتگو کی، جس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”کیا آپ کو یہ علم نہیں کہ غلام اور اس کے آقا کے مابین کوئی سود نہیں ہوتا۔““
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البيوع / حدیث: 1367
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح. »
«أخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 10717، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 1368، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 14378، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 20408»
وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ ، قَالَ : إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - كَانَ يَبِيعُ مِنْ غِلْمَانِهِ الثَّمَرَةَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تُطْعَمَ ، وَكَانَ لَا يَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَ عَبْدِهِ رِبًا .
ترجمہ
ابو معبد سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اپنے غلاموں کو پھل اس کے کھانے کے قابل ہونے سے پہلے فروخت کر دیا کرتے تھے، اور اپنے اور اپنے غلام کے درمیان سود کا حکم نہیں سمجھتے تھے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البيوع / حدیث: 1368
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، موقوف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :موقوف، إسناده صحيح. »
«أخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 10717، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 1367، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 14378، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 20408»
إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ السَّائِبِ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : احْتَجْنَا ، فَأَخَذْتُ خَلْخَالَيِ امْرَأَتِي فِي السَّنَةِ الَّتِي اسْتُخْلِفَ فِيهَا أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ فَقُلْتُ : احْتَاجَ الْحَيُّ إِلَى نَفَقَةٍ ، فَقَالَ : إِنَّ مَعِي وَرِقًا أُرِيدُ بِهَا فِضَّةً . فَدَعَا بِالْمِيزَانِ فَوَضَعَ الْخَلْخَالَيْنِ فِي كِفَّةٍ ، وَوَضَعَ الْوَرِقَ فِي كِفَّةٍ ، فَشَفَّ الْخَلْخَالَانِ نَحْوًا مِنْ دَانَقٍ ، فَقَرَضَهُ ، فَقُلْتُ : يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هُوَ لَكَ حَلَالٌ ! : فَقَالَ : يَا أَبَا رَافِعٍ ، إِنَّكَ إِنْ أَحْلَلْتَهُ فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى لَا يُحِلُّهُ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَزْنًا بِوَزْنٍ ، الزَّائِدُ وَالْمَزِيدُ فِي النَّارِ .
1369 \ 2 - وَأَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنِ ابْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - بِهَذَا الْحَدِيثِ نَحْوَهُ .
1369 \ 3 - وَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، فَذَكَرَهُ .
1369 \ 4 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ الْكَلْبِيُّ ، فَذَكَرَهُ .
1369 \ 5 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنَا الْكَلْبِيُّ ، بِهِ .
ترجمہ
امام اسحاق نے بسند یعلیٰ بن عبید، محمد بن سائب اور سلمہ بن سائب، رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ہم تنگدستی کا شکار ہوئے تو جس سال سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے، میں نے اپنی زوجہ کی دو پازیبیں لیں، پھر میری ملاقات سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو انہوں نے دریافت فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: اہل و عیال کو خرچ کی حاجت ہے، تو انہوں نے فرمایا: ”میرے پاس چاندی کے سکے ہیں جن کے عوض میں چاندی (کا زیور) چاہتا ہوں“، پھر انہوں نے ترازو منگوایا اور دونوں پازیبیں ایک پلڑے میں رکھیں اور چاندی کے سکے دوسرے پلڑے میں ڈالے، تو پازیبوں کا وزن تقریباً ایک دانق زیادہ نکلا، چنانچہ انہوں نے اسے کاٹ کر برابر کر دیا، تو میں نے عرض کیا: اے خلیفہ رسول اللہ ﷺ! یہ (زائد حصہ) آپ کے لیے حلال ہے! اس پر انہوں نے فرمایا: ”اے ابورافع! اگر تم اسے حلال قرار دے بھی دو تو اللہ تعالیٰ اسے حلال نہیں فرماتا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”سونا سونے کے بدلے برابر وزن کے ساتھ ہو، اور چاندی چاندی کے بدلے برابر وزن کے ساتھ ہو، زیادتی کرنے والا اور جس کے لیے زیادتی کی گئی وہ دونوں آگ میں ہوں گے۔““ اور نضر بن محمد نے محمد بن سائب، ابن السائب اور اسامہ بن زید کے واسطے سے سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے اسی کی مانند روایت کیا ہے، نیز ابوبکر بن ابی شیبہ نے بھی یعلیٰ بن عبید کی سند سے اسے ذکر کیا ہے، اور حارث نے عبدالوہاب بن عطاء کے واسطے سے محمد بن سائب کلبی سے اسے بیان کیا ہے، نیز ابویعلیٰ نے بھی قواریری اور یزید بن ہارون کے واسطے سے کلبی کی سند سے یہی روایت نقل کی ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البيوع / حدیث: 1369
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا، موقوف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :موقوف، إسناده ضعيف جدًا. »
«أخرجه مسند أبي يعلى برقم: 55، وأخرجه المنتخب من مسند عبد بن حميد برقم: 6، وأخرجه مسند البزار برقم: 45، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 1369 / 2، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 14569، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 22946»
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ اللَّخْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ ، قَالَ : إِنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - كَتَبَ إِلَى أُمَرَاءِ الْأَجْنَادِ بِالشَّامِ : إِنَّكُمْ هَبَطْتُمْ أَرْضَ الرِّبَا ، فَلَا تَبْتَاعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا وَزْنًا بِوَزْنٍ ، وَلَا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا وَزْنًا بِوَزْنٍ ، وَلَا الطَّعَامَ بِالطَّعَامِ إِلَّا مِكْيَالًا بِمِكْيَالٍ .
قُلْتُ : مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ هُوَ ابْنُ الْكَلْبِيِّ ، مَتْرُوكٌ بِمَرَّةٍ . وَكَانَ إِسْحَاقُ أَخْرَجَ حَدِيثَهُ ; لِأَنَّ لَهُ أَصْلًا ، وَاسْتَشْهَدَ لَهُ بِالْمَوْقُوفِ الَّذِي بَعْدَهُ ، وَقَالَ : إِسْنَادُهُ لَا بَأْسَ بِهِ ، وَأَبُو الْقَيْسِ أَظُنُّهُ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - وَقَدْ سَمِعَ مِنْهُ عُلَيُّ بْنُ رَبَاحٍ ، وَمَا أَدْرِي هَلْ سَمِعَ أَبَا بَكْرٍ ، أَمْ قَرَأَ ذَلِكَ فِي كِتَابِهِ ؟ .
ترجمہ
اسحاق نے ابوعامر العقدی کی سند سے ابوقیس سے روایت نقل کی کہ ”سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے شام میں موجود لشکروں کے سربراہوں کو تحریر فرمایا کہ: تم ایک ایسی زمین میں اترے ہو جہاں سود کا چلن ہے، لہٰذا تم سونے کے بدلے سونا فروخت نہ کرنا مگر وزن میں بالکل برابر، اور نہ ہی چاندی کے بدلے چاندی بیچنا مگر وزن میں بالکل برابر، اور نہ ہی غلے کے بدلے غلہ فروخت کرنا مگر پیمانے میں بالکل برابر۔“ میں (مصنف) کہتا ہوں کہ محمد بن السائب ہی دراصل ابن الکلبی ہے، جو کلی طور پر متروک ہے، اور امام اسحاق نے اس کی حدیث اس لیے روایت کی ہے کیونکہ اس کی ایک اصل موجود ہے، اور انہوں نے اس پر اس موقوف روایت سے استشہاد کیا ہے جو اس کے بعد مذکور ہے، نیز انہوں نے کہا کہ اس کی سند میں کوئی مضائقہ نہیں، اور میرا گمان ہے کہ ابو قیس، سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں جن سے علی بن رباح نے سماع کیا ہے، اور میں یہ نہیں جانتا کہ آیا انہوں نے خود سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے یہ بات براہِ راست سنی ہے یا اسے آپ کے مکتوب میں پڑھا ہے؟
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البيوع / حدیث: 1370
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن، موقوف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: لِأَنَّ لَهُ أَصْلًا ، وَاسْتَشْهَدَ لَهُ بِالْمَوْقُوفِ الَّذِي بَعْدَهُ ، وَقَالَ : إِسْنَادُهُ لَا بَأْسَ بِهِ ، وَأَبُو الْقَيْسِ أَظُنُّهُ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - وَقَدْ سَمِعَ مِنْهُ عُلَيُّ بْنُ رَبَاحٍ ، وَمَا أَدْرِي هَلْ سَمِعَ أَبَا بَكْرٍ ، أَمْ قَرَأَ ذَلِكَ فِي كِتَابِهِ ؟ »
«أخرجه شرح معاني الآثار للطحاوي برقم: 5785»
إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، ثَنَا زَيْدُ بْنُ مُرَّةَ أَبُو الْمُعَلَّى ، ثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الرَّقَاشِيُّ ، قَالَ : إِنَّ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَدِمَ الْبَصْرَةَ فَجَلَسْنَا إِلَيْهِ فِي الْمَسْجِدِ الْجَامِعِ ، فَقَالَ : أَلَا تَنْهَوْنَ شَيْخَكُمْ هَذَا - يَعْنِي الْحَسَنَ بْنَ أَبِي الْحَسَنِ - يَزْعُمُ أَنَّ مَا يُبَايِعُ النَّاسُ يَدًا بِيَدٍ الْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ ، وَالذَّهَبَ بِالذَّهَبِ حَرَامٌ ، وَأَنَا أَشْهَدُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - أَحَلَّهُ . قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : فَقُلْتُ لَهُ : وَيْحَكَ ! مَا تَعْلَمُ أَنِّي جَالِسٌ عِنْدَ رَأْسِهِ وَأَنْتَ عِنْدَ رِجْلَيْهِ ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَامَ عَلَيْكَ ، فَقُلْتُ : مَا حَاجَتُكُمْ ؟ فَقَالَ : أَرَدْتُ أَنْ أَسْأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - عَنِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ ، فَقُلْتُ : اذْهَبْ ، فَإِنَّهُ يَزْعُمُ أَنْ لَا بَأْسَ بِهِ ، فَكَشَفَ عِمَامَتَهُ عَنْ وَجْهِهِ ، ثُمَّ جَلَسَ ابْنُ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - فَقَالَ : أَسْتَغْفِرُ اللهَ ، وَاللهِ مَا كُنْتُ أَرَى إِلَّا أَنَّ مَا تَبَايَعَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ شَيْءٍ يَدًا بِيَدٍ إِلَّا حَلَالٌ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - حَفِظَا مِنْ ذَلِكَ عَنْ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا لَمْ أَحْفَظْ ، وَأَسْتَغْفِرُ اللهَ .
ترجمہ
اسحاق نے عبد الصمد بن عبد الوارث، زید بن مرہ ابو المعلی اور ابو سعید الرقاشی کے واسطے سے روایت کیا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام عکرمہ بصرہ تشریف لائے تو ہم جامع مسجد میں ان کی مجلس میں بیٹھے، انہوں نے کہا: ”کیا تم اپنے ان بزرگ یعنی حسن بن ابی الحسن (حسن بصری) کو منع نہیں کرتے؟ وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ لوگ جو نقدی کی صورت میں چاندی کے بدلے چاندی اور سونے کے بدلے سونا ہاتھوں ہاتھ فروخت کرتے ہیں وہ حرام ہے، حالانکہ میں گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے حلال قرار دیا ہے۔“ ابو سعید کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا: ”افسوس تم پر! کیا تمہیں علم نہیں کہ (ایک مرتبہ) میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سرہانے بیٹھا تھا اور تم ان کے قدموں کی جانب بیٹھے تھے، اتنے میں ایک شخص آیا اور تمہارے پاس کھڑا ہو گیا، میں نے دریافت کیا: آپ کو کیا کام ہے؟ اس نے کہا: میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سونے کے بدلے سونے کی بیع کے متعلق سوال کرنا چاہتا ہوں، تو میں نے کہا: جائیے (پوچھ لیجیے) کیونکہ ان کا تو یہی خیال ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں، (یہ سن کر) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے چہرے سے عمامہ ہٹایا، پھر وہ سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا: «أَسْتَغْفِرُ اللهَ» ”میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں“، اللہ کی قسم! میرا تو یہی گمان تھا کہ مسلمان ہاتھوں ہاتھ جس چیز کا بھی سودا کریں وہ حلال ہی ہے، (مگر بعد میں) میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہم سے سنا، انہوں نے اس معاملے میں رسول اللہ ﷺ سے وہ احادیث محفوظ کر رکھی تھیں جو میں نے یاد نہیں کی تھیں، «وَأَسْتَغْفِرُ اللهَ» ”اور میں اللہ سے بخشش چاہتا ہوں۔““
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البيوع / حدیث: 1371
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»
أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَبْلَ مَوْتِهِ بِثَلَاثٍ ، يَقُولُ : أَسْتَغْفِرُ اللهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ مِنَ الصَّرْفِ .
ترجمہ
عبداللہ بن ابی ملیکہ سے مروی ہے کہ انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ان کی وفات سے تین دن قبل یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میں «أَسْتَغْفِرُ اللهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ» ”اللہ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں“ صرف (یعنی سونے چاندی کے باہمی تبادلے کے مسئلے) سے۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البيوع / حدیث: 1372
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن. »
«أخرجه المستدرك للحاكم برقم: 6362، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 457، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 1620»
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الصُّفَيْرِ ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ ، قَالَ : جَاءَ بِضْعَةَ عَشَرَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - فَقَالُوا : نَحْنُ أَقْدَمُ سِنًّا مِنْكَ ، وَأَعْلَمُ بِرَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْكَ ، أَرَأَيْتَ حِينَ تُحِلُّ الصَّرْفَ ؟ وَقَدْ سَمِعْنَا رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْهَى عَنْهُ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ عَنْ أُسَامَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - .
وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ ، وَلَمْ يُخْرِجُوا هَذَا السِّيَاقَ عَنْ هَذِهِ الْعِدَّةِ مِنَ الصَّحَابَةِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - وَإِسْمَاعِيلُ فِيهِ كَلَامٌ .
ترجمہ
محمد بن بکر نے اسماعیل بن عبد الملک اور عطاء کے واسطے سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ کے دس سے زائد صحابہ کرام سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”ہم عمر میں آپ سے بڑے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کی احادیث کا آپ سے زیادہ علم رکھتے ہیں، کیا آپ نے غور کیا کہ آپ بیعِ صرف (کرنسی کے تبادلے) کو جائز قرار دیتے ہیں؟ حالانکہ ہم نے خود رسول اللہ ﷺ کو اس سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے“، پھر انہوں نے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ذکر کی۔ یہ روایت صحیح میں موجود ہے، تاہم ائمہ حدیث نے صحابہ کی اتنی بڑی تعداد کے ذکر کے ساتھ اس سیاق کو نقل نہیں کیا، نیز اس کی سند میں شامل راوی اسماعیل کے بارے میں محدثین کا کلام موجود ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البيوع / حدیث: 1373
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ ، وَلَمْ يُخْرِجُوا هَذَا السِّيَاقَ عَنْ هَذِهِ الْعِدَّةِ مِنَ الصَّحَابَةِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - وَإِسْمَاعِيلُ فِيهِ كَلَامٌ . »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ شَاةٍ بِشَاتَيْنِ إِلَى الْحَيَاةِ ، فَقَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فَقَالَ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : إِنَّ آخِرَ مَا أَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى آيَةُ الرِّبَا ، وَإِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُبِضَ قَبْلَ أَنْ يُفَسِّرَهَا ، فَدَعُوا الرِّبَا وَالرِّيبَةَ ! .
قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ سِوَى السُّؤَالِ .
ترجمہ
قتادہ سے روایت ہے کہ میں نے سعید بن مسیب سے ایک زندہ بکری کے عوض دو زندہ بکریاں لینے کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ ایک شخص نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تھا، جس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: ”یقیناً اللہ تعالیٰ نے سب سے آخر میں جو حکم نازل فرمایا وہ سود کی آیت ہے، اور نبی کریم ﷺ اس کی (تفصیلی) تشریح فرمانے سے پہلے ہی اس دنیا سے رخصت فرما گئے، لہٰذا تم سود کو بھی چھوڑ دو اور ہر اس چیز کو بھی جس میں (سود کا) شک و شبہ ہو!“ میں کہتا ہوں کہ اس روایت کو ابن ماجہ نے ابتدائی سوال کے علاوہ نقل کیا ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البيوع / حدیث: 1374
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح لغيره. »
«أخرجه مسند الدارمي برقم: 131، وأخرجه سنن ابن ماجه برقم: 2276، وأخرجه مسند أحمد برقم: 252، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 22441»
وَقَالَ إِسْحَاقُ أَيْضًا : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَجْزَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ بِلَالٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : كَانَ عِنْدِي تَمْرٌ دُونٌ ، فَابْتَعْتُ بِهِ مِنَ السُّوقِ تَمْرًا أَجْوَدَ مِنْهُ بِنِصْفِ كَيْلِهِ . فَقَدِمْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَحَدَّثْتُهُ بِمَا صَنَعْتُ ، فَقَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : انْطَلِقْ فَخُذْ تَمْرَكَ وَارْدُدْ هَذَا ! فَفَعَلْتُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : التَّمْرُ بِالتَّمْرِ مِثْلًا بِمِثْلٍ ، وَالْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ مِثْلًا بِمِثْلٍ ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ مِثْلًا بِمِثْلٍ ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلًا بِمِثْلٍ ، وَالذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَزْنًا بِوَزْنٍ ، فَمَا كَانَ مِنْ فَضْلٍ فَهُوَ رِبًا ! .
وَلَهُ شَاهِدٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - وَهَذَا الْإِسْنَادُ حَسَنٌ ، إِلَّا أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ بِلَالٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - .
1375 \ 2 - وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، ثَنَا جَرِيرٌ ، بِهِ .
ترجمہ
اسحاق نے جریر، منصور، ابو وجزہ السعدی اور سعید بن مسیب کے واسطے سے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے بیان کیا: میرے پاس گھٹیا درجے کی کھجوریں تھیں، تو میں نے ان کے بدلے بازار سے ان کے آدھے پیمانے کے برابر ان سے عمدہ کھجوریں خرید لیں، پھر میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور جو کچھ میں نے کیا تھا وہ آپ ﷺ کو بتایا، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جاؤ اور اپنی کھجوریں واپس لے لو اور یہ (عمدہ کھجوریں) لوٹا دو!“ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کھجور کے بدلے کھجور برابر سرابر، گندم کے بدلے گندم برابر سرابر، جو کے بدلے جو برابر سرابر، نمک کے بدلے نمک برابر سرابر، سونے کے بدلے سونا وزن میں برابر، اور چاندی کے بدلے چاندی وزن میں برابر ہونی چاہیے، پس جو کچھ بھی اس برابری سے زائد ہو وہ سود ہے!“ اور اس روایت کا ایک شاہد صحیح میں سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی حدیث سے موجود ہے، نیز یہ سند حسن ہے، سوائے اس کے کہ سعید بن مسیب کا سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں ہے؛ اور اسے ابو یعلیٰ نے بھی ابو خیثمہ اور جریر کے واسطے سے اسی سابقہ سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البيوع / حدیث: 1375
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: لَهُ شَاهِدٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - وَهَذَا الْإِسْنَادُ حَسَنٌ ، إِلَّا أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ بِلَالٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - . »
«أخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 1018، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 5952، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 2807/1»
حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، ثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ بِلَالٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : كَانَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدِي تَمْرٌ ، فَوَجَدْتُ أَطْيَبَ مِنْهُ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ فَاشْتَرَيْتُهُ ، فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : مِنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا يَا بِلَالُ ؟ قُلْتُ : اشْتَرَيْتُهُ صَاعًا بِصَاعَيْنِ . قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : رُدَّهُ - أَوِ ارْدُدْ - عَلَيْنَا تَمْرَنَا ! .
ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی کچھ کھجوریں میرے پاس (موجود) تھیں، پس مجھے ان سے زیادہ عمدہ کھجوریں ملیں تو میں نے (عام کھجور کے) دو صاع کے عوض (عمدہ کھجور کا) ایک صاع دے کر انہیں خرید لیا، پھر میں انہیں لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اے بلال! یہ تمہارے پاس کہاں سے آئیں؟“ میں نے عرض کیا: میں نے (عمدہ کھجور کا) ایک صاع (عام کھجور کے) دو صاع کے بدلے خریدا ہے، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اسے واپس کر دو -یا فرمایا: اسے لوٹا دو- اور ہماری کھجوریں ہمیں واپس دلاؤ!“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البيوع / حدیث: 1376
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح. »
«أخرجه سنن الدارمي برقم: 2576، وأخرجه فتح الباري برقم: 2188، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 1018، 1028، 1097، وأخرجه شرح معاني الآثار برقم: 5775، وأخرجه الأوسط في السنن والإجماع والاختلاف برقم: 8027، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 2807/4»
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي حَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ شُرَيْحٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : الدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ ، وَمَا فَضَلَ بَيْنَهُمَا رِبًا .
ترجمہ
مسدد نے یحییٰ، سفیان، حماد، ابوصالح اور شریح کے واسطے سے روایت کیا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: ”درہم کا تبادلہ درہم کے ساتھ (برابری کی بنیاد پر) ہوگا اور ان دونوں کے درمیان جو بھی زیادتی ہوگی وہ سود ہے۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البيوع / حدیث: 1377
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح. »
«أخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 14572، وأخرجه شرح معاني الآثار للطحاوي برقم: 5787»
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا مَيْسَرَةُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - قَالَا : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا - وَفِيهِ : وَمَنْ أَكَلَ الرِّبَا مَلَأَ اللهُ بَطْنَهُ نَارًا بِقَدْرِ مَا أَكَلَ ، وَإِنْ كَسَبَ مِنْهُ مَالًا لَمْ يَقْبَلِ اللهُ شَيْئًا مِنْ عَمَلِهِ ، وَلَمْ يَزَلْ فِي لَعْنَةِ اللهِ تَعَالَى وَمَلَائِكَتِهِ مَا دَامَ عِنْدَهُ مِنْهُ قِيرَاطٌ .
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان دونوں نے بیان کیا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا اور ایک طویل حدیث ذکر کی جس میں یہ بھی ہے کہ ”اور جس شخص نے سود کھایا، اللہ تعالیٰ اس کے پیٹ کو اسی قدر آگ سے بھر دے گا جتنا اس نے (سود) کھایا ہو گا، اور اگر اس نے اس کے ذریعے کوئی مال کمایا تو اللہ تعالیٰ اس کا کوئی بھی عمل قبول نہیں فرمائے گا، نیز جب تک اس کے پاس اس (سود) میں سے ایک قیراط کے برابر بھی موجود رہے گا، وہ مسلسل اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں کی لعنت کی زد میں رہے گا۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البيوع / حدیث: 1378
درجۂ حدیث محدثین: إسناده موضوع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الحديث موضوع. »
«أخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 245»
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ هَاشِمٍ ، ثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : كَانَ عِنْدَ بِلَالٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - تَمْرٌ مُسَوَّسٌ ، فَبَاعَ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ ... الْحَدِيثَ .
ترجمہ
ابراہیم سے مروی ہے کہ ”سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے پاس کرم خوردہ (گھن لگی ہوئی) کھجوریں تھیں، پس انہوں نے دو صاع (ان کھجوروں کو) ایک صاع کے عوض فروخت کر دیا... (بقیہ) حدیث۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البيوع / حدیث: 1379
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :مرسل. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا مُلَازِمٌ ، ثَنَا زُفَرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّحَيْمِيِّ ، وَكَانَ مِنْ جُلَسَاءِ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : وَسَأَلْتُهُ - يَعْنِي أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - عَنْ شِرَاءِ الشَّاةِ بِالشَّاتَيْنِ إِلَى أَجَلٍ ، فَقَالَ : لَا ، إِلَّا يَدًا بِيَدٍ .
ترجمہ
مسدد نے اپنی سند سے روایت کیا کہ یزید بن عبد الرحمن السحیمی نے، جو سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ہمنشینوں میں سے تھے، بیان کیا کہ میں نے ان سے یعنی سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک بکری کے بدلے دو بکریاں ادھار (کسی معینہ مدت) پر خریدنے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ”نہیں، (یہ جائز نہیں) مگر یہ کہ سودا ہاتھوں ہاتھ (یعنی نقد) ہو“۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البيوع / حدیث: 1380
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 20825»
حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : إِذَا لَمْ يَقْدِرْ أَنْ يُزَايِلَ الذَّهَبَ مِنَ الْفِضَّةِ ، فَلَا بَأْسَ أَنْ يَبِيعَهُ بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ .
ترجمہ
ابو عوانہ نے مغیرہ کے واسطے سے ابراہیم نخعی سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”جب آدمی سونے کو چاندی سے الگ کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ وہ اسے سونے یا چاندی کے عوض فروخت کر دے۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البيوع / حدیث: 1381
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :رجال إسناده ثقات، لكن المغيرة يدلس خاصة عن إبراهيم، وقد جاء ما يخالف هذه الرواية عن إبراهيم، كما في التخريج. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ : إِنَّ عَلِيًّا ، وَعُثْمَانَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - نَهَيَا عَنِ الصَّرْفِ .
ترجمہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ "یقیناً سیدنا علی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما نے بیعِ صرف (سونے اور چاندی کے باہمی تبادلے) سے منع فرمایا ہے"۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البيوع / حدیث: 1382
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، موقوف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :موقوف، إسناده صحيح. »
«أخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 22960»
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - نَهَوْا عَنِ الصَّرْفِ .
ترجمہ
یحییٰ نے ہشام بن حسان اور انہوں نے محمد بن سیرین سے روایت کیا کہ انہوں نے کہا: ”بے شک نبی کریم ﷺ، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے بیعِ صرف (سونے چاندی کے باہمی تبادلے) سے منع فرمایا ہے۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البيوع / حدیث: 1383
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :مرسل. »
«أخرجه صحيح البخاري برقم: 710، وأخرجه صحيح مسلم برقم: 399، وأخرجه سنن الترمذي برقم: 246، وأخرجه سنن النسائي برقم: 903، 906، 907، وأخرجه سنن أبي داود برقم: 782، وأخرجه سنن ابن ماجه برقم: 813، وأخرجه مسند أحمد برقم: 11674، 11725، 12289، 12303، 12399، 12434، 12562، 12690، 12712، 12847، 12924، 13268، 13373، 13478، 13503، 13545، 13637، 13663، وأخرجه سنن الدارمي برقم: 1240، وأخرجه فتح الباري برقم: 592، 595، 597، 710، وأخرجه مسند البزار برقم: 1879، وأخرجه صحيح ابن خزيمة برقم: 401، 403، 406، 492، 494، 495، 496، 497، 498، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 739، 13106، 13379، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 1902، 5458، 7230، 7820، 7873، 8273، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 2627، 2878، وأخرجه صحيح ابن حبان برقم: 1803»
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ كُلْثُومٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ ثَلَاثِينَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كُلُّهُمْ يَنْهَى عَنِ الصَّرْفِ ، مِنْهُمْ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - .
ترجمہ
یحییٰ نے ربیعہ بن کلثوم، ان کے والد اور مجاہد کے واسطے سے ابو عبد اللہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ”میں نے نبی اکرم ﷺ کے تیس صحابہ کرام کو دیکھا ہے، وہ سب کے سب ’صرف‘ (سونے چاندی کی باہمی بیع) سے منع فرماتے تھے، اور ان میں سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البيوع / حدیث: 1384
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»
قَالَ : وَحَدَّثَنِي أَوْسُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، ثَنَا بُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ : أَنَّهُ لَقِيَ ابْنَ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فَسَأَلَهُ عَنِ الصَّرْفِ ، فَقَالَ : لَا بَأْسَ بِهِ . ثُمَّ بَلَغَهُ أَنَّهُ رَجَعَ عَنْ ذَلِكَ الْقَوْلِ .
ترجمہ
برید بن ابی مریم سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ملاقات کر کے ان سے بیعِ صرف (کرنسی کے تبادلے) کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں ہے“، پھر انہیں یہ خبر پہنچی کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے اس قول سے رجوع فرما لیا تھا۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البيوع / حدیث: 1385
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :رجال إسناده ثقات، غير أوس بن عبد الله محله الصدق، فالإسناد بذلك حسن. »
«أخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 14548، وأخرجه شرح معاني الآثار للطحاوي برقم: 5791، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 455، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 6588»
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نَضْلَةَ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ جُزْءِ جَزُورٍ يُبَاعُ بِنِتَاجٍ ، فَنَهَاهُمْ عَنْهُ .
ترجمہ
عبید بن نضلہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ ﷺ سے ذبح شدہ اونٹ کے گوشت کے ایک حصے کی ایسی بیع کے بارے میں دریافت کیا گیا جسے جانور کے پیٹ میں موجود بچے کے بدلے فروخت کیا جا رہا ہو، تو آپ ﷺ نے انہیں اس عمل سے منع فرما دیا۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البيوع / حدیث: 1386
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :مرسل، إسناده صحيح. »
«أخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 14166»
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَمَّنْ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - سُئِلَ عَنْ بَعِيرٍ بِبَعِيرَيْنِ نَسِيئَةً ، فَقَالَ : الزِّيَادَةُ يَصْلُحُ بَعْضُهَا بِبَعْضٍ ، فَأَمَّا لَحْمٌ مَوْضُوعٌ فَلَا بَأْسَ بِهِ .
ترجمہ
یحییٰ نے ہشام اور یحییٰ بن ابی کثیر کے واسطے سے اس شخص سے روایت کیا جس نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا تھا کہ ان سے ایک اونٹ کے بدلے دو اونٹوں کی ادھار بیع کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے ارشاد فرمایا: ”یہ زیادتی جائز ہے کیونکہ بعض، بعض کے بدلے میں درست واقع ہوتا ہے، رہا وہ گوشت جو ذبح کر کے سامنے رکھ دیا گیا ہو تو اس کے تبادلے میں کوئی حرج نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البيوع / حدیث: 1387
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مَالِكٍ ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ : إِنَّ عَلِيًّا - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - بَاعَ بَعِيرًا بِبَعِيرَيْنِ مَعًا إِلَى أَجَلٍ .
ترجمہ
حسن بن محمد بن علی سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک اونٹ دو اونٹوں کے بدلے ادھار فروخت کیا۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البيوع / حدیث: 1388
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن، منقطع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الأثر منقطع ، لأن الحسن لم يدرك علي بن أبي طالب. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ .
ترجمہ
سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ”رسول اللہ ﷺ نے جانور کے بدلے جانور کی بیع سے منع فرمایا ہے“۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البيوع / حدیث: 1389
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :مرسل. »
«أخرجه سنن الترمذي برقم: 1237، وأخرجه سنن النسائي برقم: 4620، وأخرجه سنن أبي داود برقم: 3356، وأخرجه سنن ابن ماجه برقم: 2270، وأخرجه مسند أحمد برقم: 19630، 19703، 19725، 19751، وأخرجه سنن الدارمي برقم: 2564، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 6847، 6848، 6849، 6850، 6851، 6940، وأخرجه السنن الكبرى للنسائي برقم: 6459، وأخرجه معرفة السنن والآثار برقم: 11139، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 2795»
وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ صُبَيْحٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : الْوَرِقُ بِالْوَرِقِ ، وَالذَّهَبُ بِالذَّهَبِ ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ ، عَيْنًا بِعَيْنٍ ، أَوْ وَزْنًا بِوَزْنٍ ... الْحَدِيثَ .
ترجمہ
امام طیالسی نے ربیع بن صبیح اور محمد بن سیرین کے واسطے سے روایت کیا کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”چاندی کا چاندی کے عوض، سونے کا سونے کے عوض، کھجور کا کھجور کے عوض، گندم کا گندم کے عوض، جو کا جو کے عوض اور نمک کا نمک کے عوض (تبادلہ) نقد بہ نقد یا وزن میں برابر برابر ہونا ضروری ہے“ (آخر تک حدیث)۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البيوع / حدیث: 1390
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن. »
«أخرجه صحيح مسلم برقم: 1587، وأخرجه سنن الترمذي برقم: 1240، وأخرجه سنن النسائي برقم: 4560، 4561، 4562، 4563، 4564، 4566، وأخرجه سنن أبي داود برقم: 3349، وأخرجه سنن ابن ماجه برقم: 2254، وأخرجه مسند أحمد برقم: 22175، 22217، 22220، وأخرجه سنن الدارمي برقم: 2579، وأخرجه فتح الباري برقم: 2032، 2041، 2069، 2071، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 14193، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 2676»
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنْ عُبَيْدٍ ، قَالَ : نَحَرْتُ جَزُورًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَسَمْتُ أَجْزَاءً ، فَقَالَ رَجُلٌ : أَعْطِنِي جُزْءًا مِنَ الْأَجْزَاءِ بِشَاةٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : لَا يَصْلُحُ هَذَا .
ترجمہ
اشعث بن ابی الشعثاء سے اور انہوں نے عبید سے روایت ہے کہ ”میں نے رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں ایک اونٹ نحر کیا، پھر میں نے اسے مختلف حصوں میں تقسیم کر دیا، تو ایک شخص نے کہا: ”مجھے ان حصوں میں سے ایک حصہ ایک بکری کے بدلے میں دے دیں“، تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ درست نہیں ہے“۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البيوع / حدیث: 1391
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :مرسل، إسناده صحيح. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ أَبُو سَعِيدٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - التَّمْرُ بِالتَّمْرِ ، أَحَقُّ أَنْ يَكُونَ رِبًا مِنَ الْوَرِقِ بِالْوَرِقِ .
ترجمہ
ابونضرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ا، وہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: ”کھجور کا کھجور کے عوض تبادلہ، چاندی کے چاندی کے عوض تبادلے کے مقابلے میں اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ اسے سود قرار دیا جائے۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البيوع / حدیث: 1392
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»