المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الربا باب: سود کا بیان۔
حدیث نمبر: 1391
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنْ عُبَيْدٍ ، قَالَ : نَحَرْتُ جَزُورًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَسَمْتُ أَجْزَاءً ، فَقَالَ رَجُلٌ : أَعْطِنِي جُزْءًا مِنَ الْأَجْزَاءِ بِشَاةٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : لَا يَصْلُحُ هَذَا .ترجمہ
اشعث بن ابی الشعثاء سے اور انہوں نے عبید سے روایت ہے کہ ”میں نے رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں ایک اونٹ نحر کیا، پھر میں نے اسے مختلف حصوں میں تقسیم کر دیا، تو ایک شخص نے کہا: ”مجھے ان حصوں میں سے ایک حصہ ایک بکری کے بدلے میں دے دیں“، تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ درست نہیں ہے“۔“