❮
❯
حدیث نمبر: 1371
إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، ثَنَا زَيْدُ بْنُ مُرَّةَ أَبُو الْمُعَلَّى ، ثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الرَّقَاشِيُّ ، قَالَ : إِنَّ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَدِمَ الْبَصْرَةَ فَجَلَسْنَا إِلَيْهِ فِي الْمَسْجِدِ الْجَامِعِ ، فَقَالَ : أَلَا تَنْهَوْنَ شَيْخَكُمْ هَذَا - يَعْنِي الْحَسَنَ بْنَ أَبِي الْحَسَنِ - يَزْعُمُ أَنَّ مَا يُبَايِعُ النَّاسُ يَدًا بِيَدٍ الْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ ، وَالذَّهَبَ بِالذَّهَبِ حَرَامٌ ، وَأَنَا أَشْهَدُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - أَحَلَّهُ . قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : فَقُلْتُ لَهُ : وَيْحَكَ ! مَا تَعْلَمُ أَنِّي جَالِسٌ عِنْدَ رَأْسِهِ وَأَنْتَ عِنْدَ رِجْلَيْهِ ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَامَ عَلَيْكَ ، فَقُلْتُ : مَا حَاجَتُكُمْ ؟ فَقَالَ : أَرَدْتُ أَنْ أَسْأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - عَنِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ ، فَقُلْتُ : اذْهَبْ ، فَإِنَّهُ يَزْعُمُ أَنْ لَا بَأْسَ بِهِ ، فَكَشَفَ عِمَامَتَهُ عَنْ وَجْهِهِ ، ثُمَّ جَلَسَ ابْنُ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - فَقَالَ : أَسْتَغْفِرُ اللهَ ، وَاللهِ مَا كُنْتُ أَرَى إِلَّا أَنَّ مَا تَبَايَعَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ شَيْءٍ يَدًا بِيَدٍ إِلَّا حَلَالٌ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - حَفِظَا مِنْ ذَلِكَ عَنْ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا لَمْ أَحْفَظْ ، وَأَسْتَغْفِرُ اللهَ .
ترجمہ

اسحاق نے عبد الصمد بن عبد الوارث، زید بن مرہ ابو المعلی اور ابو سعید الرقاشی کے واسطے سے روایت کیا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام عکرمہ بصرہ تشریف لائے تو ہم جامع مسجد میں ان کی مجلس میں بیٹھے، انہوں نے کہا: ”کیا تم اپنے ان بزرگ یعنی حسن بن ابی الحسن (حسن بصری) کو منع نہیں کرتے؟ وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ لوگ جو نقدی کی صورت میں چاندی کے بدلے چاندی اور سونے کے بدلے سونا ہاتھوں ہاتھ فروخت کرتے ہیں وہ حرام ہے، حالانکہ میں گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے حلال قرار دیا ہے۔“ ابو سعید کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا: ”افسوس تم پر! کیا تمہیں علم نہیں کہ (ایک مرتبہ) میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سرہانے بیٹھا تھا اور تم ان کے قدموں کی جانب بیٹھے تھے، اتنے میں ایک شخص آیا اور تمہارے پاس کھڑا ہو گیا، میں نے دریافت کیا: آپ کو کیا کام ہے؟ اس نے کہا: میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سونے کے بدلے سونے کی بیع کے متعلق سوال کرنا چاہتا ہوں، تو میں نے کہا: جائیے (پوچھ لیجیے) کیونکہ ان کا تو یہی خیال ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں، (یہ سن کر) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے چہرے سے عمامہ ہٹایا، پھر وہ سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا: «أَسْتَغْفِرُ اللهَ» ”میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں“، اللہ کی قسم! میرا تو یہی گمان تھا کہ مسلمان ہاتھوں ہاتھ جس چیز کا بھی سودا کریں وہ حلال ہی ہے، (مگر بعد میں) میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہم سے سنا، انہوں نے اس معاملے میں رسول اللہ ﷺ سے وہ احادیث محفوظ کر رکھی تھیں جو میں نے یاد نہیں کی تھیں، «وَأَسْتَغْفِرُ اللهَ» ”اور میں اللہ سے بخشش چاہتا ہوں۔““

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البيوع / حدیث: 1371
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»