المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الربا باب: سود کا بیان۔
إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ السَّائِبِ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : احْتَجْنَا ، فَأَخَذْتُ خَلْخَالَيِ امْرَأَتِي فِي السَّنَةِ الَّتِي اسْتُخْلِفَ فِيهَا أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ فَقُلْتُ : احْتَاجَ الْحَيُّ إِلَى نَفَقَةٍ ، فَقَالَ : إِنَّ مَعِي وَرِقًا أُرِيدُ بِهَا فِضَّةً . فَدَعَا بِالْمِيزَانِ فَوَضَعَ الْخَلْخَالَيْنِ فِي كِفَّةٍ ، وَوَضَعَ الْوَرِقَ فِي كِفَّةٍ ، فَشَفَّ الْخَلْخَالَانِ نَحْوًا مِنْ دَانَقٍ ، فَقَرَضَهُ ، فَقُلْتُ : يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هُوَ لَكَ حَلَالٌ ! : فَقَالَ : يَا أَبَا رَافِعٍ ، إِنَّكَ إِنْ أَحْلَلْتَهُ فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى لَا يُحِلُّهُ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَزْنًا بِوَزْنٍ ، الزَّائِدُ وَالْمَزِيدُ فِي النَّارِ .
1369 \ 2 - وَأَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنِ ابْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - بِهَذَا الْحَدِيثِ نَحْوَهُ .
1369 \ 3 - وَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، فَذَكَرَهُ .
1369 \ 4 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ الْكَلْبِيُّ ، فَذَكَرَهُ .
1369 \ 5 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنَا الْكَلْبِيُّ ، بِهِ .امام اسحاق نے بسند یعلیٰ بن عبید، محمد بن سائب اور سلمہ بن سائب، رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ہم تنگدستی کا شکار ہوئے تو جس سال سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے، میں نے اپنی زوجہ کی دو پازیبیں لیں، پھر میری ملاقات سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو انہوں نے دریافت فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: اہل و عیال کو خرچ کی حاجت ہے، تو انہوں نے فرمایا: ”میرے پاس چاندی کے سکے ہیں جن کے عوض میں چاندی (کا زیور) چاہتا ہوں“، پھر انہوں نے ترازو منگوایا اور دونوں پازیبیں ایک پلڑے میں رکھیں اور چاندی کے سکے دوسرے پلڑے میں ڈالے، تو پازیبوں کا وزن تقریباً ایک دانق زیادہ نکلا، چنانچہ انہوں نے اسے کاٹ کر برابر کر دیا، تو میں نے عرض کیا: اے خلیفہ رسول اللہ ﷺ! یہ (زائد حصہ) آپ کے لیے حلال ہے! اس پر انہوں نے فرمایا: ”اے ابورافع! اگر تم اسے حلال قرار دے بھی دو تو اللہ تعالیٰ اسے حلال نہیں فرماتا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”سونا سونے کے بدلے برابر وزن کے ساتھ ہو، اور چاندی چاندی کے بدلے برابر وزن کے ساتھ ہو، زیادتی کرنے والا اور جس کے لیے زیادتی کی گئی وہ دونوں آگ میں ہوں گے۔““ اور نضر بن محمد نے محمد بن سائب، ابن السائب اور اسامہ بن زید کے واسطے سے سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے اسی کی مانند روایت کیا ہے، نیز ابوبکر بن ابی شیبہ نے بھی یعلیٰ بن عبید کی سند سے اسے ذکر کیا ہے، اور حارث نے عبدالوہاب بن عطاء کے واسطے سے محمد بن سائب کلبی سے اسے بیان کیا ہے، نیز ابویعلیٰ نے بھی قواریری اور یزید بن ہارون کے واسطے سے کلبی کی سند سے یہی روایت نقل کی ہے۔