المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الربا باب: سود کا بیان۔
حدیث نمبر: 1376
حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، ثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ بِلَالٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : كَانَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدِي تَمْرٌ ، فَوَجَدْتُ أَطْيَبَ مِنْهُ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ فَاشْتَرَيْتُهُ ، فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : مِنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا يَا بِلَالُ ؟ قُلْتُ : اشْتَرَيْتُهُ صَاعًا بِصَاعَيْنِ . قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : رُدَّهُ - أَوِ ارْدُدْ - عَلَيْنَا تَمْرَنَا ! .ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی کچھ کھجوریں میرے پاس (موجود) تھیں، پس مجھے ان سے زیادہ عمدہ کھجوریں ملیں تو میں نے (عام کھجور کے) دو صاع کے عوض (عمدہ کھجور کا) ایک صاع دے کر انہیں خرید لیا، پھر میں انہیں لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اے بلال! یہ تمہارے پاس کہاں سے آئیں؟“ میں نے عرض کیا: میں نے (عمدہ کھجور کا) ایک صاع (عام کھجور کے) دو صاع کے بدلے خریدا ہے، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اسے واپس کر دو -یا فرمایا: اسے لوٹا دو- اور ہماری کھجوریں ہمیں واپس دلاؤ!“