المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الربا باب: سود کا بیان۔
حدیث نمبر: 1378
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا مَيْسَرَةُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - قَالَا : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا - وَفِيهِ : وَمَنْ أَكَلَ الرِّبَا مَلَأَ اللهُ بَطْنَهُ نَارًا بِقَدْرِ مَا أَكَلَ ، وَإِنْ كَسَبَ مِنْهُ مَالًا لَمْ يَقْبَلِ اللهُ شَيْئًا مِنْ عَمَلِهِ ، وَلَمْ يَزَلْ فِي لَعْنَةِ اللهِ تَعَالَى وَمَلَائِكَتِهِ مَا دَامَ عِنْدَهُ مِنْهُ قِيرَاطٌ .ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان دونوں نے بیان کیا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا اور ایک طویل حدیث ذکر کی جس میں یہ بھی ہے کہ ”اور جس شخص نے سود کھایا، اللہ تعالیٰ اس کے پیٹ کو اسی قدر آگ سے بھر دے گا جتنا اس نے (سود) کھایا ہو گا، اور اگر اس نے اس کے ذریعے کوئی مال کمایا تو اللہ تعالیٰ اس کا کوئی بھی عمل قبول نہیں فرمائے گا، نیز جب تک اس کے پاس اس (سود) میں سے ایک قیراط کے برابر بھی موجود رہے گا، وہ مسلسل اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں کی لعنت کی زد میں رہے گا۔“