المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الربا باب: سود کا بیان۔
حدیث نمبر: 1365
أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، ثَنَا سُكَيْنٌ - هُوَ ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ - عَنْ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ ، مِثْلًا بِمِثْلٍ ، كَيْلًا بِكَيْلٍ . مَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى .ترجمہ
امام ابو یعلیٰ نے ابراہیم بن حجاج، سکین بن عبد العزیز اور عبد المومن کے واسطے سے روایت کیا ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے، گندم گندم کے بدلے، جو جو کے بدلے، نمک نمک کے بدلے اور کھجور کھجور کے بدلے برابر برابر اور ناپ میں ایک جیسا (تبادلہ) ہونا چاہیے، لہٰذا جس نے (مقدار میں) اضافہ کیا یا اضافے کا مطالبہ کیا، تو یقیناً اس نے سود کا ارتکاب کیا۔“