المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الربا باب: سود کا بیان۔
حدیث نمبر: 1374
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ شَاةٍ بِشَاتَيْنِ إِلَى الْحَيَاةِ ، فَقَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فَقَالَ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : إِنَّ آخِرَ مَا أَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى آيَةُ الرِّبَا ، وَإِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُبِضَ قَبْلَ أَنْ يُفَسِّرَهَا ، فَدَعُوا الرِّبَا وَالرِّيبَةَ ! .
قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ سِوَى السُّؤَالِ .ترجمہ
قتادہ سے روایت ہے کہ میں نے سعید بن مسیب سے ایک زندہ بکری کے عوض دو زندہ بکریاں لینے کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ ایک شخص نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تھا، جس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: ”یقیناً اللہ تعالیٰ نے سب سے آخر میں جو حکم نازل فرمایا وہ سود کی آیت ہے، اور نبی کریم ﷺ اس کی (تفصیلی) تشریح فرمانے سے پہلے ہی اس دنیا سے رخصت فرما گئے، لہٰذا تم سود کو بھی چھوڑ دو اور ہر اس چیز کو بھی جس میں (سود کا) شک و شبہ ہو!“ میں کہتا ہوں کہ اس روایت کو ابن ماجہ نے ابتدائی سوال کے علاوہ نقل کیا ہے۔